نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی!

نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی!



ایک شخص تھا جس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی غیر محرم عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔

ایک مرتبہ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہ شدید تنگ دستی کا شکار ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ گھر میں فاقے ہونے لگے۔ اس شخص کی ایک جوان بیٹی بھی تھی۔

جب بھوک اور تنگ دستی ناقابلِ برداشت ہو گئی تو بیٹی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھوک سے بلکتا دیکھ کر ایک انتہائی غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئی۔ اس نے دل میں ارادہ کیا کہ اپنا جسم بیچ کر گھر کے لیے کھانے کا سامان لے آئے گی۔

وہ گھر سے نکلی اور پوچھتے پوچھتے ایک ایسے علاقے میں جا پہنچی جہاں جسم فروشی کا دھندا ہوتا تھا۔ وہاں اس نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی، مگر کسی ایک شخص نے بھی اس کی طرف توجہ نہ دی۔ توجہ دینا تو دور، کسی نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ لوگ آتے اور اس کے پاس سے گزر جاتے۔

اسی انتظار میں شام ہو گئی۔ بالآخر مایوس اور دل گرفتہ ہو کر وہ گھر واپس لوٹ آئی۔

گھر پہنچی تو والد کو بے چینی سے اپنا منتظر پایا۔ پریشان حال باپ نے پوچھا:

’’بیٹی! تم کہاں چلی گئی تھیں؟‘‘

بیٹی نے روتے ہوئے باپ سے معافی مانگی اور سارا ماجرا بیان کر دیا:

’’ابو! مجھ سے اپنے بھوک سے بلکتے ہوئے بہن بھائیوں کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ میں مجبور ہو کر گناہ کرنے نکل پڑی تھی، مگر وہاں کسی ایک شخص نے بھی میری طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا۔‘‘

بیٹی کی بات سن کر باپ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا:

’’بیٹی! تیرے باپ نے آج تک کبھی کسی غیر محرم عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا، تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی تیری طرف بری نگاہ سے دیکھتا؟

اس لیے اپنی نگاہوں کی حفاظت کیا کرو۔ یاد رکھو، نگاہ ہی اکثر گناہ کی ابتدا بنتی ہے۔ انسان جو عمل کرتا ہے، اسے کسی نہ کسی صورت اس کے اثرات ضرور دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘‘

نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی!

Leave a Reply

NZ's Corner