El fin de la codicia
Tres amigos íntimos emprendieron un largo viaje. En el camino, mientras atravesaban un bosque desolado, divisaron un objeto brillante enterrado. Al desenterrarlo, descubrieron un pesado lingote de oro puro. Los ojos de los tres brillaron de emoción. Decidieron repartirlo a partes iguales, pero como era de noche, optaron por acampar en el bosque. Cuando sintieron hambre, acordaron que uno iría al pueblo a buscar comida, mientras que los otros dos custodiarían el lingote. Al amigo que fue a buscar comida, en el camino, la codicia se apoderó de él: «Si enveneno la comida y regreso para alimentarlos a ambos, este oro será solo mío». Así lo hizo: envenenó la comida y regresó. Por otro lado, la codicia también se apoderó de los dos amigos que se quedaron en el bosque. Se susurraron: «Si matamos a este tercer amigo en cuanto regrese, el oro se dividirá solo entre nosotros dos, dos…
Paloma blanca
En algún lugar de este vasto mundo, había un bosque verde y frondoso. En medio del cual fluía un arroyo. Allí vivía una paloma blanca en gran paz y tranquilidad con su cría. Un día, la paloma salió de su nido en busca de alimento. Al regresar un rato después, vio que su cría no estaba en el nido. La buscó por todas partes, pero no la encontró. El corazoncito de la paloma se llenó de tristeza y abandonó el nido, decidida a seguir buscando hasta encontrarla. Voló. La buscó por todos lados. No la encontró por ninguna parte. Finalmente, exhausta, se sentó a la orilla del arroyo y rompió a llorar desconsoladamente.Allí, un pez nadaba en el agua. Al ver a la paloma llorando así, asomó la cabeza fuera del agua y dijo: «¡Oh, hermosa paloma! ¿Qué te pasa para que llores así? ¿Estás enferma?».La paloma respondió: «No estoy…
Intitulado
¡Dios mío! ¡Ya me cuesta incluso mantener la ilusión de vestir de blanco! —se decía Noor Ahmed a sí mismo mientras miraba su único pantalón, desgastado y roto por el dobladillo. Se lo arrojó a su madre y le dijo: —¡Mamá! Solo tú puedes arreglarlo. Su madre estaba preparando el desayuno para Noor Ahmed.Dejó el pantalón a un lado y dijo: —Vale, hermano, te lo doy ahora. Primero desayuna. Quizás así no llegues tarde a la entrevista. —¡Sí, mamá! Trae el desayuno. “Un buen desayuno solo está disponible de vez en cuando, y las entrevistas… las entrevistas ahora son algo cotidiano”, dijo Noor Ahmed, limpiando sus botas desgastadas con un trapo viejo. Su madre le trajo el desayuno y lo puso frente a él. Mientras desayunaba, Noor Ahmed comenzó a relacionar el desayuno con la entrevista. Terminó rápidamente. Tomó un libro de cultura general, recibió la bendición de su madre…
نیت بخیر –
اُف،میرے خدایا!سفید پوشی کا بھرم تک رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔“نور احمد پائینچوں سے گھسی اور پھٹی ہوئی اپنی اکلوتی پتلون کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے آپ سے کہہ رہا تھا۔وہ پتلون کو اپنی ماں کی طرف اُچھالتے ہوئے بولا:امی!آپ ہی اسے ٹھیک کر سکتی ہیں۔“ماں نور احمد کے لئے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔اس نے پتلون کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا:”اچھا بھئی ابھی سی دیتی ہوں۔پہلے تم ناشتہ کر لو۔ کہیں تمہیں انٹرویو کے لئے پہنچنے میں دیر نہ ہو جائے۔“”ہاں ماں!ناشتہ لے آؤ۔اچھا ناشتہ تو کبھی کبھار ملتا ہے اور انٹرویو․․․انٹرویو تو اب روز روز کی بات ہے۔نور احمد نے ایک پرانے کپڑے سے اپنے بوسیدہ بوٹ صاف کرتے ہوئے کہا۔ ماں نے ناشتہ لا کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ نور احمد ناشتہ کرتے ہوئے ناشتے اور انٹرویو کی کڑیاں آپس میں ملانے لگے۔اس نے جلدی جلدی ناشتہ زہر مار کیا۔جنرل نالج کی کتاب اُٹھائی،ماں کی…
سفید کبوتری –
اس بڑی سی دنیا کے کسی حصے میں ایک سر سبز اور شاداب جنگل تھا۔جس کے بیچوں بیچ ایک نہر بہتی تھی۔یہیں ایک سفید کبوتری اپنے ایک بچے کے ساتھ بڑے چین وآرام سے رہتی تھی۔ایک دن کبوتری اپنے دانے دُنکے کی تلاش میں اپنے گھونسلے سے نکلی۔تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کا بچہ گھونسلے میں نہیں ہے۔اس نے اپنے بچے کو گھونسلے کے آس پاس بہت ڈھونڈا لیکن اس کا کہیں پتا نہ چلا۔کبوتری کا ننھا سا دل غم سے بھر گیا اور وہ یہ طے کرکے گھونسلے سے نکلی کہ جب تک بچہ نہیں ملے گا وہ اسے ڈھونڈتی رہے گی۔وہ اڑتی رہی۔ہر طرف اپنے بچے کو تلاش کرتی رہی۔وہ کہیں نہ ملا۔آخر تھک ہار کر وہ نہر کے کنارے آبیٹھی اور رنج اور غم کے مارے رونے لگی۔ وہیں ایک مچھلی پانی میں تیر رہی تھی۔ اس نے جو…
لالچ کا انجام
تین گہرے دوست ایک لمبے سفر پر نکلے۔ راستے میں، ایک ویران جنگل سے گزرتے ہوئے، ان کی نظر زمین میں دبی ایک چمکتی چیز پر پڑی۔ کھود کر دیکھا تو وہ خالص سونے کی ایک بھاری اینٹ تھی۔ تینوں کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے برابر برابر تقسیم کریں گے، مگر رات ہو چکی تھی، سو وہیں جنگل میں پڑاؤ ڈالنے کا فیصلہ ہوا۔ بھوک لگی تو طے پایا کہ ایک دوست گاؤں جا کر کھانا لے آئے، جبکہ باقی دو سونے کی اینٹ کی نگرانی کریں۔ جو دوست کھانا لینے گیا، راستے میں اس کے دل میں لالچ نے سر اٹھایا: “اگر میں کھانے میں زہر ملا دوں اور واپس جا کر دونوں کو کھلا دوں، تو یہ سونا صرف میرا ہو جائے گا۔” اس نے یہی کیا اور کھانے میں زہر ملا کر واپس چل پڑا۔ دوسری طرف، جنگل میں رکے ہوئے دونوں…
آستین کا سانپ ۔
بہت دن پہلے کی بات ہے ملک یونان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ اپنے سب ہی وزیروں پر بھروسہ کرتا لیکن ان میں ایک وزیر جس کا نام فیصل تھا اسے بادشاہ بہت پسند کرتا اور حکومتی معاملے میں فیصل سے اکثر مشورے لیا کرتا۔فیصل کی نیت کا بادشاہ کو ہرگز علم نہیں تھا۔وہ اس پر بہت اعتماد کرتا جبکہ فیصل کسی نہ کسی طرح بادشاہ کی حکومت کا تختہ گر ا کر خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔ دن یوں ہی گزرتے گئے۔وزیر فیصل نے اپنے ساتھ کچھ اور وزیروں کو بھی ملا لیا اور انہیں ساتھ دینے پر انعام کا لالچ بھی دیا۔بہت سے وزیر انعام و اکرام کے لالچ میں فیصل سے مل گئے اور پھر ایک دن فیصل نے بادشاہ کوختم کرنے کا ایک منصوبہ بھی بنا لیا۔ہوایوں کہ بادشاہ اپنی رعایا کا حال معلوم کرنے کے لئے اپنے وزیروں کے ساتھ ایک قافلے کی صورت…
پریشان چڑیا –
کسی جنگل میں ایک چڑیا رہتی تھی۔اس نے اپنا گھونسلا ایک درخت کی گھنی شاخوں کے درمیان بنا یا تھا۔اس کے ساتھ اس کے دو بچے اور ایک بوڑھی ماں بھی رہا کرتی تھی ۔اس نے رات دن ایک کرکے اپنے بچوں کی پرورش کی تھی۔ننھی چڑیا دور دور سے اپنے بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں لایا کرتی تھی۔چڑیا کو اپنے بچوں سے بہت ہی محبت تھی۔وہ دن کے وقت اپنے بچوں کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتی تھی اور رات کو اپنے پروں میں چھپا کر سویاکرتی تھی۔ اب بچے بھی کچھ بڑے ہو گئے اور اپنی زبان سے ”چوں ،چوں ،چیں چیں“کرنے لگے ۔جب چڑیا کھانے کی تلاش میں گھر سے باہر جاتی تھی تو بچوں کے لیے بہت فکر مند رہتی تھی۔چڑیا کا یہ معمول تھا کہ صبح سویرے حمد وثناء کرتی ۔پھر دانے دُنکے کی تلاش میں نکل جاتی اور جو کچھ مل جاتا…
بادشاہ کا ہمشکل –
شکار کے دوران ایک بادشاہ اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گیا۔البتہ سپہ سالار ان کے ساتھ تھا۔وہ جنگل میں بھٹک کر واپسی کا راستہ بھول گئے۔ پریشانی ان کے چہروں پر نظر آنے لگی۔ابھی تھوڑی سی دیر گزری تھی کہ اچانک سپہ سالار چیخا:”بادشاہ سلامت!وہ دیکھیں ایک جھونپڑی نظر آرہی ہے،وہاں چلتے ہیں۔یقینا وہاں سے ہمیں مدد ضرور ملے گی۔“وہ جھونپڑی کے قریب گئے تو سپہ سالار نے آواز لگائی:”کوئی ہے؟“تھوڑی دیر میں ایک شخص باہر آیا۔بادشاہ اور سپہ سالار نے جیسے ہی اس شخص کو دیکھا حیرت کے مارے دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔وہ شخص ہُو بہ ہُو بادشاہ کا ہم شکل تھا۔دونوں حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔پھر سپہ سالار نے اس سے کہا:”دیکھیں!ہم شکار کرتے کرتے راستہ بھٹک گئے ہیں۔ یہاں سے نکلنے میں ہماری رہنمائی کریں۔“وہ شخص بولا:”کیوں نہیں،مگر آپ لوگ کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔کچھ دیر میرے غریب خانے میں آرام کیجیے۔“”ٹھیک…
لومڑ کا ایثار –
دو دن سے جنگل میں شدید بارش ہو رہی تھی۔سب جانور اپنے اپنے گھروں میں دُبکے بیٹھے تھے۔بارش کی وجہ سے سردی میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ریچھ بارش کی وجہ سے دو دن سے شکار پر نہ جا سکا تھا۔اس کی بیوی بھی پریشان بیٹھی تھی۔ان کے بچے بھی بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔لگ رہا تھا کہ بارش کا یہ سلسلہ کئی دن جاری رہے گا۔بھوک سے بچے بلک رہے تھے اور چھوٹے کو تو بخار ہو گیا تھا۔ماں سے یہ دیکھا نہ جا رہا تھا۔ریچھ دروازے کی سیڑھیوں پر سر جھکائے پریشان بیٹھا تھا۔”تم شکار پر کیوں نہیں جاتے؟“بیوی نے ریچھ سے کہا تو اس نے غصے سے بیوی کو دیکھا:”اتنے زوروں کی بارش ہو رہی ہے،میں خوراک کا بندوبست کیسے کروں؟“یہ سن کر تھوڑی دیر وہ خاموش رہی۔ پھر کچھ سوچ کر نرمی سے کہنے لگی:”کوئی گلہری،کوئی پھل،کوئی مُردار جانور،کوئی پرندہ کچھ نہ کچھ تو خوراک کے…
مغرور طوطا –
یہ گرمیوں کا ایک خوشگوار دن تھا۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔ایک کوا تالاب کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونے لگا۔تالاب میں موجود راج ہنس نے کوے کو دیکھا تو کوے کے پاس آ گیا۔اس نے سلام دعا کے بعد پوچھا کہ تم آج کھوئے کھوئے سے لگ رہے ہو۔کوے نے اُداسی سے کہا کہ میرا رنگ اتنا کالا ہے اور میری آواز بھی بہت بُری ہے۔ہر کوئی مجھ سے نفرت کرتا ہے۔راج ہنس نے کوے کو سمجھایا کہ سیرت،صورت سے زیادہ اہم ہے۔راج ہنس نے کوے کو آسان طریقے سے سمجھانے کا فیصلہ کیا۔اس نے کوے کو کہانی سنانا شروع کی۔ایک جنگل میں کہیں سے طوطا آ گیا۔جنگل کے پرندوں نے اس سے پہلے کوئی طوطا نہیں دیکھا تھا۔ طوطا نہایت خوبصورت تھا اور اس کی آواز بھی بہت اچھی تھی۔تمام پرندے طوطے کے ساتھ…
عقلمند کسان –
ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتا تھا۔کھیتوں کی مکمل پہرے داری کرتا تھا،مگر جب فصل پک کر تیار ہو جاتی تو گاؤں کا سردار اس کی ساری فصل زبردستی لے لیتا اور اسے تھوڑا سا حصہ دے دیتا۔کسان اور اس کی بیوی کی بڑی مشکل سے گزر اوقات ہوتی تھی۔ایک دن کسان کھیت میں کھدائی کر رہا تھا۔بے خیالی میں وہ زیادہ زمین کھود گیا۔اچانک ہی اسے محسوس ہوا کہ زمین کے اندر کچھ ہے۔اس نے بڑی مشکل سے وہاں سے ایک صندوق نکالا۔وہ بڑا حیران ہوا۔اس نے صندوق کھولا۔اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔صندوق ہیرے اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا۔اس نے سوچا کہ اس بات کا علم گاؤں کے سردار کو نہ ہونا چاہیے ورنہ وہ اس کو زبردستی چھین لے گا۔ وہ خزانے کو چھپتے چھپا کر گھر لے آگیا۔ اس نے اپنی بیوی سے پوچھا،”اس…
کالا گورا
”بیٹا!آپ اس سکول میں کب آئے ہو؟“ چھوٹے کوے کو کلاس میں کھڑا کرکے سر اُلو نے پوچھا۔”سر جی!میں آج پہلے دن ہی سکول آیا ہوں“ چھوٹے کوے نے کائیں کائیں کرکے کہا۔”اوئے بے سُرے!یہ کائیں کائیں کلاس روم میں نہیں چلے گی۔“ بی فاختہ جو ہر طرف امن دیکھنا چاہتی تھی،کلاس روم میں بھی امن دیکھنے کی خواہاں تھی۔ ”فاختہ بہن!میری فطرت ہے،کائیں کائیں کرنا!“ چھوٹا کوا نرمی سے بولا۔”سر!یہ کالا کلوٹا تو کلاس روم کا ماحول خراب کر رہا ہے،یہ تو ایک کالا دھبہ ہے“ گورا چٹا کبوتر اپنی گوری رنگت پر غرور کرتے ہوئے بولا۔”اسے یہ کائیں کائیں اور کالی رنگت خدا نے دی ہے۔“ سر اُلو نے اُن کو سمجھاتے ہوئے کہا ”کسی کے نیک اعمال کو پرکھنا چاہئے،دیکھئے ذرا!یہ چھوٹا کوا دوسرے کوؤں کی نسبت کتنا اچھا ہے،اس میں ذرا بھی چڑچڑا پن نہیں ہے۔ “ سب پرندے سر اُلو کی باتوں سے اُکتاہٹ محسوس…
پہنچا ہوا بابا –
مسجد کے سامنے ایک کونے پر کوئی بھکاری بابا بیٹھا ہوا بھیک مانگ رہا تھا۔بابا اندھا تھا،اس لئے لوگ اس پر ترس کھا کر کچھ نہ کچھ بھیک دیتے جا رہے تھے۔بابا کے کشکول میں کچھ پیسے جمع ہو گئے تھے۔اتنے میں وہاں کچھ نوجوان امیر زادے آئے اور بابا کو حقارت سے دیکھنے لگے۔”بابا!کیوں اندھے ہونے کا ناٹک کر رہے ہو؟یہ لو پانچ روپے کا سکہ۔“ بے ادب حارث نے سکہ اُچھالتے ہوئے کہا۔بابا کو لڑکے کی بات ناگوار گزری اور اس نے کہا:”میں ناٹک نہیں کرتا۔میں تو صرف بھیک مانگ رہا ہوں۔بوڑھا ہوں اندھا بھی ہوں۔دنیا میں میرا کوئی نہیں ہے۔پر تُو ناٹک کرتا ہے،اپنے مہذب ہونے کا۔تیرے ابا تیرے پیار میں جھوٹی تعریف کرتا ہے۔تیرا باپ ایک کاروباری آدمی ہے۔ تم لوگوں کا کپڑے کا کاروبار ہے اور تم چار بہن بھائی ہو۔ “بابا کی باتیں سن کر لڑکے کو پہلے تو غصہ آیا،مگر نہ جانے بابا…
لالچ کی سزا
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب لکڑہارے کو جنگل میں لکڑیاں کاٹتے ہوئے درختوں کے جھنڈ میں کوئی چیز نظر آئی۔اُسکے قریب جا کر دیکھا تو وہ پتھر کا ایک بت تھا۔لکڑہارے نے اُس پتھر کو ہٹایا تو وہاں ایک چھوٹا ساسوراخ نظر آیا۔لکڑہارے نے سوراخ کے ارد گرد سے مٹی ہٹائی تو اُسے ایک بہت بڑا خزانہ نظر آیا۔لکڑہارا اتنے بڑے خزانے کو تنہا نہیں اٹھا سکتا تھا،چنانچہ اُس کو ڈھانپ کر واپس اپنے گھر کی طرف چل دیا۔راستے میں اُسکی ملاقات ایک سوداگر سے ہوئی جو کہیں سے اپنا مال فروخت کرکے آرہا تھا اُسکے ہمراہ چھ اونٹ تھے۔لکڑہارے نے سوداگر سے کہا: مجھے جنگل میں بہت بڑا خزانہ ملا ہے اور میں تمہیں صرف ایک شرط پر اُس جگہ لے جاؤں گا۔سوداگر نے بڑی بے صبری سے کہا:”جلدی بتاؤ،میں تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں“۔ لکڑہارے نے کہا؛ جتنے اونٹ اُس خزانے میں سے…
بیوقوف بکری
ایک ہرئ بھری اور خوبصورت چراگاہ میں بہت سے جانور رہتے تھے وہ سب آپس میں مل جل کر رہتے ۔ ایک دن سب جانور اکھٹے ہوے اور وہ اپنے چراگاہ کے لیے بہت فکر مند تھے کیونکہ گرمی اور بہار کے موسم میں ہر طرف خوب ہری بھری گھاس ہوتی لیکن سردی اور بارش کے موسم میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو جاتا جس کی وجہ جانوروں کھانے کے لیے کچھ بھی نا ملتا ۔ وہ بہت پریشان رہتے ۔ خرگوش ہمیشہ اپنے لیے ہر قسم کی سبزیاں اگاتا اور اپنے گھر میں جمع کر لیتا تاکہ بارش کے موسم میں وہ آرام سے وقت گزار سکے ۔ خرگوش نے سب جانوروں سے کہا کہ ہمیں اپنے لیے مظبوط گھر بنانے تا کہ ہم سردی کے موسم میں اپنے گھروں میں محفوظ رہ سکیں ۔ سب جانوروں نے خرگوش کی بات مان لی اور بکری نے ہنس کر…
بلاعنوان
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں عربوں کی شادیوں میں مہمانوں کو روٹی میں گوشت لپیٹ کر پیش کیا جاتا تھا۔اگر کبھی گوشت کم پڑنے کا اندیشہ ہوتا تو میزبان اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو صرف روٹی دے دیتا، تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں تک گوشت والی روٹی پہنچ سکے اور کسی کو کمی کا احساس نہ ہو۔ایک بار ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے روٹی کھولی تو اس میں گوشت نہیں تھا۔ اس نے فوراً بلند آواز میں کہا:“ارے فلاں! میری روٹی میں تو گوشت ہی نہیں ہے!”میزبان نے مسکرا کر جواب دیا:“بھائی، معاف کرنا… میں نے غلطی سے تمہیں اپنا سمجھ لیا تھا۔” زندگی میں ہر وہ شخص جسے ہم اپنا سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے راز، کمزوریاں یا عزتِ نفس کی حفاظت بھی کرے۔کچھ لوگ ہماری پردہ پوشی کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ موقع ملتے ہی ہماری کمزوری دوسروں کے سامنے…
ہر چیز کو دوبارہ درست نہیں کیا جا سکتا
ایک دفعہ ایک چھوٹے لڑکے کی سب سے پسندیدہ سائیکل دیوار سے ٹکرا کر بری طرح ٹوٹ گئی۔ اس کا فریم ٹیڑھا ہو گیا، پہیہ مڑ گیا اور زنجیر بھی اتر گئی۔ لڑکا بہت دکھی ہوا اور اپنی ٹوٹی ہوئی سائیکل اٹھا کر ایک بوڑھے مکینک کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے پریشانی سے پوچھا:“کیا آپ اسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ اور اس پر کتنا خرچ آئے گا؟ یہ پہلے بھی تین بار خراب ہو چکی ہے، مگر میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔” مکینک نے غور سے سائیکل دیکھی اور کہا: “یہ کافی خراب ہو چکی ہے۔ اسے ٹھیک کرنے پر 20 سکے لگیں گے، جبکہ 30 سکوں میں تم ایک نئی سائیکل خرید سکتے ہو۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ تم اسے چھوڑ کر آگے بڑھو۔” لڑکے نے فوراً جواب دیا: “نہیں! مجھے یہ سائیکل بہت عزیز ہے۔ براہِ کرم اسے ٹھیک کر دیں، میں 20 سکے…
ماں کی محبت…!
سعودی عرب کے علاقے قصیم کی شرعی عدالت میں ایک ایسا مقدمہ پیش ہوا جس نے نہ صرف عدالت میں موجود لوگوں کو اشکبار کر دیا بلکہ پورے ملک میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ ہم اکثر عدالتوں میں جائیداد، دولت، دشمنی اور خاندانی جھگڑوں کے مقدمات سنتے ہیں، مگر یہ مقدمہ مختلف تھا… یہ مقدمہ ماں کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تھا۔ اس شخص کا نام حیزان الفہیدی الحربی تھا، جو قصیم کے قریب ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی بوڑھی اور کمزور ماں کا بڑا بیٹا تھا۔ والدہ کی خدمت ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن چکی تھی۔ ان کی مالی حیثیت بھی معمولی تھی، مگر حیزان کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی دولت اس کی ماں تھی۔ ایک دن اس کا چھوٹا بھائی دوسرے شہر سے آیا اور کہنے لگا: “میں چاہتا ہوں کہ امی میرے ساتھ…
Siete chicas y un mago
Un mendigo y su esposa vivían en un pueblo. Tenían siete hijas. Debido a la pobreza, esta pareja solía mendigar para su sustento y el de sus hijas. Un día, el mendigo le dijo a su esposa: “Tengo antojo de kheer”. Al oír esto, su esposa suspiró y dijo: “¿Dónde hay kheer para nosotros, los pobres?”. El mendigo respondió: “Mendigaremos leche, arroz y azúcar, y luego tú me harás kheer y me lo darás de comer”. La esposa dijo: “¡Mian! No podremos conseguir todo esto mendigando para que nuestras siete hijas puedan comerlo”. El mendigo pareció pensar: “¿Por qué se preocupa? Solo haremos kheer cuando todas las niñas estén dormidas”. Así, ni se enterarán y comeremos kheer hasta saciarnos. La madre sentía un profundo dolor por sus hijas, pero obedeció a su esposo con resignación. El mendigo dijo: «Vayan a dormir ahora, mañana tendremos que levantarnos temprano para pedir los…