Author Archives: NZ's Collection

Fue hace mucho tiempo. Había un gran rey cuya valentía era famosa por doquier. Su imperio se expandía día a día. Un día conquistó una región hermosa, exuberante y próspera, colindante con su reino. Aquella región era tan valiosa que el rey pensó: «Este será el mejor regalo para mi gran príncipe». Así que se la confió a su príncipe y lo nombró su gobernante. Pero apenas habían pasado unos meses cuando el reino vecino atacó. El príncipe no pudo permanecer mucho tiempo en el campo de batalla. Consideró que era seguro salvar su vida y regresó a la capital. El propio rey tomó un ejército y conquistó la región de nuevo. Después de un tiempo, volvió a entregarle la misma región al príncipe. Pero la historia se repitió. Hubo otro ataque, y el príncipe, una vez más, lo abandonó todo y huyó. Esta serie se repitió muchas veces. Cada…

Read more

Es una historia de hace mucho tiempo. Había un comerciante muy trabajador que tenía dos animales: un buey fuerte que araba el campo todo el día y un burro que transportaba mercancías entre los mercados y el pueblo desde la mañana hasta la noche. Ambos llevaban una vida de trabajo constante. El trabajo comenzaba antes del amanecer y terminaba al anochecer. Pero había algo que tenían en común. Cuando el buey se cansaba de tirar del arado, pensaba: «Seguro que el trabajo del burro será mucho más fácil que el mío. Solo tienes que caminar despacio todo el día». Por otro lado, cuando el burro sudaba bajo el peso de la carga, pensaba: «El buey tendrá que vagar al aire libre por el campo. El verdadero problema soy yo». Así, ambos consideraban sus propias dificultades las más grandes y la vida del otro la más fácil. Una tarde, ambos descansaban…

Read more

ایک لڑکی کافی دیر سے میڈیکل اسٹور کے باہر کھڑی تھی۔ 🙂💁‍♂️ ہاتھ میں پرس… چہرے پر شرمندگی… اور بار بار اندر جھانک رھی تھی کہ شاید رش کم ہو جائے۔ 👀 کافی دیر بعد جب اسٹور خالی ھوا تو وہ آہستہ آہستہ اندر گئی۔ کانپتے ہاتھوں سے پرس کھولا… ایک تہہ کی ہوئی پرچی نکالی… کاؤنٹر پر رکھی… اور نظریں جھکاتے ھوئے بولی: “بھائی صاحب! میں ایک اسکول ٹیچر ھوں، میری منگنی ایک ڈاکٹر سے ھوئی ھے…” 😊 میڈیکل اسٹور والا بھی پوری توجہ سے سننے لگا۔ لڑکی نے شرماتے ہوئے بات مکمل کی: “آج اُن کا پہلا خط آیا ہھے…” دکاندار مسکرایا: “ماشاءاللہ… پھر؟” لڑکی نے وہ پرچی اس کی طرف بڑھائی اور آہستہ سے بولی: “ذرا یہ پڑھ کر بتا دیں، اِس میں لکھا کیا ھے؟” 😅 کیونکہ… ڈاکٹر صاحب کی لکھائی آج بھی صرف میڈیکل اسٹور والوں کی سمجھ میں آتی ھے! 😁🤣🤣 😂 اگر یہ…

Read more

Asma’i narra, según un árabe, que relató este incidente: Salí de mi aldea pensando en encontrar a la persona más desafortunada y a la más afortunada de todas. Busqué de aldea en aldea, de pueblo en pueblo, buscando a la persona desafortunada y a la afortunada. Al pasar por una aldea, vi a un anciano con una soga atada al cuello y un gran cubo colgando de ella. Detrás de él, un joven tiraba de la soga mientras lo azotaba con un látigo. Le dije al joven: “¿No temes a Dios Todopoderoso por este anciano débil? Ya tiene una soga y un gran cubo colgando del cuello, lo que lo debilita y lo angustia, ¡y aun así lo golpeas! ¡Qué cruel eres!”. El joven respondió: “¡Sí! Pero déjame decirte que este es mi padre”.Le dije: «Si este es tu padre, ruego a Dios Todopoderoso que no te conceda ningún bien.…

Read more

Allama Ibn Hajar (que Allah tenga misericordia de él) narra un incidente instructivo: Vio a un hombre cuyo brazo había sido amputado desde el hombro. Detenía a la gente en el camino y decía: “Mírenme y aprendan la lección… ¡Nunca opriman a nadie!” Allama Ibn Hajar (que Allah tenga misericordia de él) se acercó y le preguntó: “¡Hermano! ¿Cómo te sucedió todo esto?” Al oír esto, sus ojos se llenaron de lágrimas y, con voz temblorosa, comenzó a contar su historia: “Mi historia es muy extraña… Puede que yo mismo no haya sido un gran opresor, pero ciertamente apoyé a los opresores.” Un día vi a un pescador pobre. Tenía un pez grande y hermoso en la mano. Tan pronto como vi el pez, la codicia me invadió. Le dije: “¡Dame este pez!” El pescador respondió humildemente: “Este es el sustento de mis hijos. Si lo vendo, la estufa de…

Read more

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ایک عبرتناک واقعہ نقل کرتے ہیں: انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا پورا بازو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ وہ راستے میں لوگوں کو روک روک کر کہہ رہا تھا: “مجھے دیکھو اور عبرت حاصل کرو… کبھی کسی پر ظلم مت کرنا!” علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے قریب گئے اور پوچھا: “بھائی! تمہارے ساتھ یہ سب کیسے ہوا؟” یہ سن کر اس کی آنکھیں بھر آئیں، اور لرزتی آواز میں اس نے اپنی داستان سنانی شروع کی: “میری کہانی بہت عجیب ہے… میں خود شاید بڑا ظالم نہ تھا، لیکن ظالموں کا ساتھ ضرور دیتا تھا۔” ایک دن میں نے ایک غریب مچھیرے کو دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑی خوبصورت مچھلی تھی۔ مچھلی دیکھتے ہی میرے دل میں لالچ آ گیا۔ میں نے کہا: “یہ مچھلی مجھے دے دو!” مچھیرے نے عاجزی سے جواب دیا: “یہ میرے بچوں کا…

Read more

اصمعی ایک اعرابی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے یہ واقعہ سنایا:میں اپنی بستی سے یہ سوچ کر نکلا کہ سب لوگوں سے زیادہ بدبخت اور نیک بخت فرد کے بارے میں معلومات حاصل کروں اور اسے تلاش کروں۔ میں بستی بستی، نگر نگر بدبخت اور نیک بخت ڈھونڈتا رہا۔ ایک بستی سے میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھے شخص کی گردن میں ایک رسی بندھی ہوئی ہے اور اس رسی کے ساتھ ایک بڑی سی بالٹی لٹک رہی ہے، اس کے پیچھے ایک نوجوان تھا جو اس رسی کو کھینچ رہا تھا جو بوڑھے کی گردن سے بندھی ہوئی تھی، ساتھ ساتھ وہ اسے چابک سے مارتا بھی جا رہا تھا۔میں نے نوجوان سے کہا: “اس بوڑھے اور کمزور شخص کے بارے میں تجھے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے؟ اس کی گردن میں پہلے ہی ایک رسی اور بڑی بالٹی لٹک…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک محنتی تاجر تھا جس کے پاس دو جانور تھے۔ ایک مضبوط بیل، جو دن بھر کھیت جوتتا تھا، اور ایک گدھا، جو صبح سے شام تک بازاروں اور گاؤں کے درمیان سامان ڈھوتا رہتا تھا۔ دونوں کی زندگی مسلسل مشقت میں گزرتی تھی۔صبح سورج نکلنے سے پہلے کام شروع ہوتا اور شام ڈھلے جا کر ختم ہوتا۔ لیکن ایک بات دونوں میں مشترک تھی۔ بیل جب ہل کھینچتے کھینچتے تھک جاتا تو دل ہی دل میں سوچتا: “یقیناً گدھے کا کام مجھ سے کہیں آسان ہوگا۔ سارا دن بس آہستہ آہستہ چلنا ہی تو ہوتا ہے۔” ادھر گدھا جب بھاری بوجھ کے نیچے پسینہ بہاتا تو اس کے دل میں خیال آتا:“بیل تو کھیت میں کھلی ہوا میں گھومتا رہتا ہوگا۔ اصل مصیبت تو میری ہے۔” یوں دونوں اپنی اپنی آزمائش کو سب سے بڑی اور دوسرے کی زندگی کو سب سے آسان…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم بادشاہ تھا جس کی بہادری کے چرچے دور دور تک تھے۔ اس کی سلطنت روز بروز پھیلتی جا رہی تھی۔ ایک روز اس نے اپنی ریاست سے ملحق ایک نہایت خوبصورت، سرسبز اور خوشحال علاقہ فتح کیا۔ وہ علاقہ اتنا قیمتی تھا کہ بادشاہ نے سوچا، “یہ میرے بڑے شہزادے کے لیے بہترین تحفہ ہوگا۔” چنانچہ اس نے وہ علاقہ اپنے شہزادے کے سپرد کر دیا اور اسے وہاں کا حاکم مقرر کر دیا۔مگر چند ہی مہینے گزرے تھے کہ ہمسایہ ریاست نے حملہ کر دیا۔ شہزادہ میدانِ جنگ میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ اس نے جان بچانے ہی میں عافیت سمجھی اور دارالحکومت واپس آ گیا۔ بادشاہ نے خود لشکر لے کر دوبارہ وہ علاقہ فتح کر لیا۔کچھ عرصے بعد اس نے پھر وہی علاقہ شہزادے کے حوالے کر دیا۔لیکن تاریخ خود کو دہرا گئی۔دوبارہ حملہ ہوا، اور شہزادہ پھر…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کسان کے گھر ایک گدھا اور ایک خرگوش رہتے تھے۔ گدھا برسوں سے اس گھر کا حصہ تھا۔ کسان جب بھی کہیں جاتا، گدھے ہی پر سوار ہو کر جاتا۔ کھیتوں کا بوجھ اٹھانا ہو، منڈی جانا ہو یا دور دراز سفر، ہر مشکل کام گدھے ہی کے ذمے ہوتا۔ اسی وجہ سے گھر میں سب اس کی عزت کرتے تھے، مگر سب سے زیادہ خدمت اگر کوئی کرتا تھا تو وہ خرگوش تھا۔ شام کو گدھا تھکا ہارا واپس آتا تو خرگوش اس کے لیے پانی لاتا، اس کے گرد منڈلاتا، اس کی کمر سے گرد جھاڑتا اور خوب خاطر مدارت کرتا۔ایک دن خرگوش حسبِ معمول پڑوسی کے کھیت میں گاجریں کھانے جا پہنچا۔ ابھی چند ہی گاجریں کھائی تھیں کہ کھیت کے رکھوالے کتوں نے اسے دیکھ لیا۔ پھر کیا تھا، پورا جھنڈ اس کے پیچھے لگ گیا۔ خرگوش اپنی پھرتی کی وجہ سے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بصرہ کے بازار میں ایک کپڑے کا تاجر رہتا تھا جس کا نام عبداللہ تھا، وہ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن بازار میں سخت قحط اور کساد بازاری کا دور تھا۔ لوگ دانے دانے کو محتاج ہو رہے تھے۔ عبداللہ کے پاس دکان میں کچھ قیمتی ریشم موجود تھا جس کو بیچ کر وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی جس کے چہرے پر بھوک اور پریشانی کے آثار صاف نمایاں تھے۔ اس نے ایک معمولی سا کپڑا دکھایا اور کہا: “بیٹا! میرے گھر میں بچے بھوکے ہیں، یہ کپڑا رکھ لو اور مجھے اتنے پیسے دے دو کہ میں ان کے لیے کھانے کا سامان خرید سکوں۔”عبداللہ نے اس کپڑے کو دیکھا، وہ بہت ہی معمولی اور پرانا تھا جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں تھی۔ لیکن عبداللہ…

Read more

1917ء کے خزاں میں، نیویارک جانے والا ایک مسافر بردار جہاز بحرِ اوقیانوس کی ہولناک طوفانی لہروں سے نبرد آزما تھا۔ جہاز مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا—سینکڑوں مہاجر ایک بہتر مستقبل کے خواب لیے اس سفر پر نکلے تھے۔ انہی میں اٹلی کا اٹھائیس سالہ بڑھئی انتونیو روسو بھی تھا، جس کی گود میں اس کی پانچ سالہ بیٹی ماریا تھی۔ انتونیو کے لیے یہ سفر محض ہجرت نہیں، آخری امید تھا۔ اس کی بیوی زچگی کے دوران وفات پا چکی تھی، غربت نے سانس لینا دشوار کر دیا تھا، اور وہ اپنی بچی کے لیے ایک محفوظ زندگی چاہتا تھا۔ رات دو بجے کے کچھ بعد، دیوقامت موجوں نے جہاز کو گھیر لیا۔ نچلے ڈیک—جہاں تیسری کیٹیگری کے مسافر سو رہے تھے—پانی سے بھرنے لگے۔ اندھیرا، چیخیں، دعائیں، اور خوف… سب ایک ساتھ ٹوٹ پڑے۔ انتونیو چیخوں سے جاگا، جہاز تیزی سے ایک طرف جھک رہا تھا۔…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، اتنی پرانی کہ جب درخت ابھی جوان تھے اور پہاڑ ابھی بوڑھے نہیں ہوئے تھے۔ غانا کی سرزمین پر ایک گاؤں تھا جس کا نام تھا “کوفی آنا” یعنی وہ جگہ جہاں روحیں آرام کرتی ہیں۔ اس گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام کوامے تھا۔ کوامے غریب نہیں تھا، امیر بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کے پاس ایک چیز تھی جو پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہ تھی — اس کی آواز۔ جب کوامے بولتا تھا تو لگتا تھا جیسے بارش کا پہلا قطرہ خشک زمین پر گرا ہو۔ جب وہ کہانی سناتا تھا تو بوڑھے رو دیتے تھے اور بچے سانس روک لیتے تھے۔ وہ Griot تھا یعنی قبیلے کا کہانی کار، حافظہ، اور ضمیر۔ اس کی ایک بیٹی تھی آبینا۔ آبینا نام کا مطلب ہوتا ہے: “منگل کے روز پیدا ہونے والی لڑکی۔” لیکن آبینا کو لوگ اس…

Read more

Érase una vez un gran rey que tenía en su establo un caballo magnífico, poderoso y hermoso. Su andar era altivo, sus ojos ardientes y su cuerpo veloz como un rayo. Pero había un problema… ese caballo era completamente indomable. Nadie podía controlarlo. El rey hizo un anuncio por todo el país: «¡Quien dome a este caballo salvaje mío recibirá una recompensa!» Al oír esto, valientes soldados, hábiles jinetes, poderosos luchadores y maestros de equitación se reunieron en el palacio. Todos anhelaban la recompensa y sentían un espíritu de victoria. Uno a uno, todos lo intentaron. Algunos tiraban de las riendas, otros se esforzaban, otros intentaban asustarlo, otros querían doblegarlo con fuerza… pero el caballo se enfurecía cada vez más. Derribaba a alguien, hería a alguien, asustaba a otro y lo hacía huir. Finalmente, todos regresaron exhaustos. Un silencio se apoderó del palacio, y todos creían que nadie podía controlar…

Read more

En Bagdad vivía un panadero. El pan que salía de su horno era famoso en toda la ciudad por su aroma, su textura crujiente y su delicioso sabor. La gente hacía cola en su panadería desde temprano por la mañana, y venían de todas partes para comprarlo. Pero entre esos clientes había algunos muy astutos. Tomaban el pan, pero lo devolvían en forma de monedas rotas. El panadero reconocía de inmediato que esas monedas no valían nada, pero no discutía con nadie, ni avergonzaba a nadie, ni devolvía las monedas. Simplemente guardaba la moneda rota en su pecho y entregaba el pan con una sonrisa. Pasó el tiempo. El número de monedas rotas en su pecho aumentó, pero el corazón del panadero seguía siendo bondadoso. Pensaba que si humillaba a alguien por un solo error, su corazón se rompería. Finalmente, un día, llegó el último momento de su vida. Estaba…

Read more

بغداد میں ایک نانبائی رہتا تھا۔ اس کے تنور سے نکلنے والے نان اپنی خوشبو، خستگی اور لذت کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں اور دور دراز سے لوگ اس کے نان خریدنے آتے۔ مگر ان گاہکوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو چالاکی سے کام لیتے۔ وہ نان تو لے جاتے، لیکن قیمت میں کھوٹے سکے دے دیتے۔ نانبائی ان سکوں کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتا کہ یہ ناقابلِ استعمال ہیں، مگر وہ نہ کسی سے بحث کرتا، نہ کسی کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی سکے واپس لوٹاتا۔ خاموشی سے وہ کھوٹا سکہ اپنی صندوقچی میں ڈال دیتا اور مسکرا کر نان دے دیتا۔ وقت گزرتا گیا۔ صندوقچی میں کھوٹے سکوں کی تعداد بڑھتی گئی، لیکن نانبائی کا دل لوگوں کے لیے نرم ہی رہا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر میں ایک غلطی…

Read more

ایک زمانے میں ایک عظیم بادشاہ تھا، جس کے اصطبل مں ایک نہایت شاندار، طاقتور اور خوبصورت گھوڑا تھا۔ اس کی چال میں غرور، آنکھوں میں آگ، اور جسم میں بجلی سی تیزی تھی۔ مگر ایک مسئلہ تھا… وہ گھوڑا مکمل طور پر بے قابو تھا۔ کوئی شخص اسے قابو میں نہ لا سکا۔ بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کروا دیا: “جو شخص میرے اس جنگلی گھوڑے کو رام کر لے گا، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا!” یہ سنتے ہی بہادر سپاہی، ماہر سوار، طاقتور پہلوان اور گھڑسواری کے استاد محل میں جمع ہو گئے۔ ہر ایک کے دل میں انعام کی خواہش اور فتح کا جذبہ تھا۔ ایک ایک کر کے سب نے کوشش کی۔ کوئی لگام کھینچتا، کوئی زور آزمائی کرتا، کوئی اسے ڈرانے کی کوشش کرتا، کوئی طاقت سے جھکانا چاہتا… مگر گھوڑا ہر بار پہلے سے زیادہ بپھر جاتا۔ وہ کسی کو زمین…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بصرہ کے بازار میں ایک کپڑے کا تاجر رہتا تھا جس کا نام عبداللہ تھا، وہ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن بازار میں سخت قحط اور کساد بازاری کا دور تھا۔ لوگ دانے دانے کو محتاج ہو رہے تھے۔ عبداللہ کے پاس دکان میں کچھ قیمتی ریشم موجود تھا جس کو بیچ کر وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی جس کے چہرے پر بھوک اور پریشانی کے آثار صاف نمایاں تھے۔ اس نے ایک معمولی سا کپڑا دکھایا اور کہا: “بیٹا! میرے گھر میں بچے بھوکے ہیں، یہ کپڑا رکھ لو اور مجھے اتنے پیسے دے دو کہ میں ان کے لیے کھانے کا سامان خرید سکوں۔”عبداللہ نے اس کپڑے کو دیکھا، وہ بہت ہی معمولی اور پرانا تھا جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں تھی۔ لیکن عبداللہ…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں حاجی کریم بخش نام کا ایک بہت بڑا تاجر رہتا تھا۔ اس کے پاس بڑی دکانیں، کئی نوکر، اور سونے چاندی سے بھرے صندوق تھے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ بے حد کنجوس تھا۔ وہ اپنے نوکروں کو اتنی کم تنخواہ دیتا کہ بیچارے آدھی روٹی کھا کر کام کرتے۔ اگر کوئی ملازم ایک منٹ دیر سے آتا تو آدھے دن کی مزدوری کاٹ لیتا۔ اس کی دکان پر ایک نوجوان ملازم کام کرتا تھا، جس کا نام رحیم تھا۔ رحیم غریب ضرور تھا مگر بہت ذہین اور خوش مزاج تھا۔ وہ ہر مشکل میں بھی ہنسنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتا۔ ایک دن حاجی صاحب نے دیکھا کہ دکان میں چوہے بہت بڑھ گئے ہیں۔ کبھی کپڑے کتر دیتے، کبھی خشک میوہ خراب کر دیتے۔ حاجی صاحب غصے سے چیخا:“اگر یہ چوہے ختم نہ ہوئے تو سب کی تنخواہ کاٹ…

Read more

صحرا کی رات اپنے پورے جوبن پر تھی۔سنہری ریت دن بھر سورج کی آگ سہنے کے بعد اب چاندنی کی ٹھنڈی چادر اوڑھے خاموش پڑی تھی۔ دور دور تک سکوت کا راج تھا، صرف ہوا کے نرم جھونکے ریت کے ذروں سے راز و نیاز کر رہے تھے۔ایک بدوی اپنے وفادار اونٹ کے ساتھ ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھا تھا۔ قریب ہی آگ کی ننھی سی لو جھلملا رہی تھی اور آسمان ستاروں سے اس طرح بھرا ہوا تھا جیسے کسی مصور نے سیاہ مخمل پر چاندی کے ہزاروں موتی ٹانک دیے ہوں۔بدوی نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے اپنے اونٹ سے کہا:“اے صحرا کے جہاز! کیا تم جانتے ہو کہ یہ ستارے کیا ہیں؟”اونٹ نے گردن ہلائی، ایک لمبی سانس لی اور بڑے اطمینان سے بولا:“ہاں، یہ میرے قدموں کے نشان ہیں۔”بدوی چونک گیا۔“تمہارے قدموں کے نشان؟”اونٹ نے فخر سے سر اونچا کیا۔“جی…

Read more

1220/3980
NZ's Corner