Tag Archives: ،urdublogs

En un gran supermercado había tal cantidad de ratas que por la noche parecía que todo el lugar cobraba vida. Sacos de harina, frutos secos, arroz, legumbres, galletas… estaban por todas partes. Generaciones enteras habían crecido allí, ancianos habían muerto allí y niños nuevos crecían allí. El dueño del supermercado probó de todo, pero las ratas no se iban. Finalmente, un día, trajo un gato salvaje muy sanguinario y lo soltó. No era un gato cualquiera. Tenía hambre en los ojos, electricidad en las garras y un ataque tan feroz que muchas ratas no tenían oportunidad de recuperarse. Decenas de ratas murieron en la primera semana.La colonia de ratas estaba sumida en el caos. Cada noche, se oían lamentos provenientes de alguna casa. Entonces, un día, las ratas ancianas se reunieron. “Si hay vida, hay mundo”.«Por muy buena que sea la tienda, si cada mañana se celebra un funeral, ¿de…

Read more

ایک نائی کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت : ساہیوال سے کچھ کلو میٹر دور نہر کے کنارے پر بنے انگریز دور کے نائی والے بنگلے کی دلچسپ کہانی ۔۔۔۔۔۔یہ بنگلہ انگریزوں نے اپنے افسران کو دوران سفر رہائش کی سہولت مہیا کرنے کے  لیے 1908 میں تعمیر کروایا تھا ۔ یہاں انگریز افسران کئی کئی روز قیام پذیر رہتے ، اس بنگلے سے کچھ دور ایک نائی کی دکان یا گھر تھا جو لوگوں کی حجامتیں کرتا یا بال بناتا تھا ۔۔ انگریز افسران بھی حجامت کے لیے اس نائی کو طلب کیا کرتے اور وہ بنگلے پر آکر انکی شیو وغیرہ کر جاتا ۔ ایک افسر کا معمول تھا کہ وہ ہر روز صبح شیو لازمی بنواتا ، مذکورہ نائی کو ایک دن صبح منہ اندھیرے اپنی رشتہ داری میں لازمی جانا پڑ گیا ، اور یہ علی الصبح کا وقت تھا جبکہ گورا افسر ابھی سویا ہوا…

Read more

وہ کبھی کسی عالم کے پاس جاتا، کبھی کسی فلسفی کے پاس مگر اس کے سوالوں کا ایسا جواب نہ ملتا جو اس کے دل کو مطمئن کر دیتا ایک دن وہ گلی سے گزرتے ہوئے حضرت بہلول دانا کے قریب پہنچا لوگوں سے اس نے ان کا بہت چرچا سن رکھا تھا کہ وہ بڑے دانا اور حکمت والے انسان ہیں اسی لیے اس نے سوچا کہ شاید یہ شخص میرے سوالوں کے جواب دے سکے۔ وہ بہلول دانا کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا لوگ کہتے ہیں تم ہر سوال کا جواب دے دیتے ہو، میرے پاس بھی تین سوال ہیں جن کا جواب آج تک کسی کے پاس نہیں ملا، کیا تم ان کے جواب دے سکتے ہو؟ حضرت بہلول دانا نے فرمایا پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو؟” اس شخص نے پہلا سوال کیا اگر خدا موجود ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ بہلول دانا…

Read more

ایک بدو اپنے اونٹ چرا رہا تھا کہ اسے ہرنوں کا ایک غول (گلہ) بھاگتا ہوا نظر آیا۔ بدو نے اپنے چھوٹے سے بیٹے کو ایک درخت کے سائے میں بٹھایا اور تاکید کی کہ: “میرے لوٹنے تک یہیں رہنا، یہاں سے کہیں مت جانا۔” یہ کہہ کر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور ہرنوں کے پیچھے دوڑ پڑا۔ ہرنوں نے جب اسے پیچھا کرتے دیکھا تو وہ مزید تیزی سے بھاگنے لگے۔ بدو خود بھی شکار کا شوقین تھا، اسے یہ دوڑ پسند آ رہی تھی اور وہ دور تک ان کا پیچھا کرتا چلا گیا۔ادھر چار پانچ سال کا وہ معصوم بچہ اکیلا اپنے باپ کا انتظار کر رہا تھا۔ اتفاق سے وہاں سے ایک بھوتنی کا گزر ہوا، جسے انسانی گوشت بہت پسند تھا۔ اس نے بچے کو اکیلا دیکھا تو بہت خوش ہوئی اور اسے کھا گئی۔بدو کافی دیر تک ہرنوں کا پیچھا کرتا رہا،…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک غریب شخص ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ اسے بہت بھوک اور پیاس 🥵 لگی تھی۔ اس کے پاس کھانا اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔ وہ بہت پریشان تھا کہ اس ویران ریگستان میں پانی اور کھانا کہاں سے حاصل کرے۔ چلتے چلتے اس کی نظر ایک جنگلی مرغ پر پڑی۔ وہ بہت خوش ہوا 😄۔ اور مرغ کے پاس پہنچا اور اسے کہنے لگا، “چلو، کھانے کو کچھ تو ملا۔ جو قسمت میں ہو وہ مل ہی جاتا ہے 🤲۔”مرغ نے یہ بات سن کر اسے جواب دیا، “قسمت سے زیادہ اگر تم اپنی ذہانت کا استعمال کرو تو تم اپنی قسمت کو بھی بہتر بنا سکتے ہو ✨۔”اس شخص نے مرغ سے کہا، “تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں نہ کھاؤں اور بھوکا رہوں؟”مرغ نے اس شخص سے کہا، “سوچ لو، میں تمھارے لیے ایک وقت کا کھانا ہوں  اگر تم…

Read more

ایک گھنے جنگل میں ایک بکری بڑی بے فکری سے گھوم رہی تھی۔ نہ اُسے کسی درندے کا خوف تھا اور نہ کسی خطرے کی پروا۔ درخت پر بیٹھا ایک کوا یہ منظر دیکھ کر حیران ہوا۔ وہ نیچے آیا اور بکری سے پوچھا: “بہن! تمہیں جنگل کے خونخوار جانوروں سے ڈر نہیں لگتا؟” بکری مسکرائی اور بولی:“کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی مر گئی تھی اور اپنے دو ننھے بچوں کو اکیلا چھوڑ گئی تھی۔ مجھے اُن پر رحم آ گیا، میں نے اُنہیں اپنا دودھ پلا کر پالا۔ آج وہ دونوں جوان شیر ہیں، اور پورے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ: ‘ہماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھے گا۔’” یہ سن کر کوا بہت متاثر ہوا۔ اُس نے دل میں سوچا:“کاش مجھے بھی کسی پر نیکی کرنے کا ایسا موقع مل جائے۔” کچھ دیر بعد اُسے دریا میں ڈوبتا ہوا ایک چوہا…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گھنا، سرسبز اور خوشحال جنگل تھا، جہاں حکومت تو شیر کی تھی مگر اس کا سب سے قابلِ اعتماد ساتھی اس کا وزیر، لومڑی، تھا۔ صبح سے شام تک دربار میں، شکار کے وقت، فیصلوں میں، سفیروں کی ملاقات میں، یہاں تک کہ سیر و تفریح میں بھی لومڑی ہر وقت شیر کے ساتھ ہوتی تھی۔لیکن ایک چیز تھی جو برسوں سے اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔جنگل بھر کے جانور جب بھی اپنے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کوئی رس بھرے آم لاتا، کوئی خوشبودار خربوزے، کوئی میٹھے تربوز، کوئی شہد کے چھتے، تو کوئی نایاب جنگلی پھل۔سب تحفے شیر کے قدموں میں رکھ دیے جاتے۔شیر مزے سے کھاتا، تعریفیں سنتا، اور آگے بڑھ جاتا۔ادھر لومڑی چند قدم دور کھڑی رہتی، اس کے منہ میں پانی بھرتا رہتا، مگر اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا۔وہ دل…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب برصغیر کی ریاستوں میں بڑے بڑے جاگیردار اور دولت مند تاجر اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے مشہور ہوا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک شہر میں ایک نہایت دولت مند شخص رہتا تھا۔ دولت، زمینیں، باغات، نوکر، گھوڑے، سب کچھ تھا، مگر اولاد صرف ایک تھی۔ ایک اکلوتا بیٹا۔وہ بیٹا اس کی آنکھوں کا نور تھا۔جس چیز کی خواہش کرتا، باپ اس کے قدموں میں لا کر رکھ دیتا۔ اس نے کبھی “نہیں” کا لفظ سنا ہی نہ تھا۔ایک دن بچپن میں اس نے محلے کے ایک غریب لڑکے کو معمولی سی بات پر بری طرح زخمی کر دیا۔لوگ شکایت لے کر آئے۔ایک بوڑھے شخص نے کہا:“مالک! بچے کی غلطی ہے۔ آج اسے روک لیجیے، کل دیر ہو جائے گی۔”دولت مند شخص نے مسکرا کر کہا: “بچے غلطیاں کرتے ہیں۔ اتنی سی بات پر اپنے اکلوتے بیٹے کو سزا دوں؟”اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ایک گھنے جنگل میں ایک نہایت بھاری بھرکم گینڈا رہتا تھا۔ اپنی غیر معمولی جسامت اور طاقت کی وجہ سے وہ خود کو جنگل کا سب سے برتر جانور سمجھتا تھا۔اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا ہرن بھی رہتا تھا۔ہرن نہایت نرم مزاج، بردبار اور خاموش طبیعت کا مالک تھا۔مگر گینڈے کو اس کا کمزور جسم ایک مذاق محسوس ہوتا تھا۔جب بھی دونوں کا آمنا سامنا ہوتا، گینڈا ضرور کوئی نہ کوئی طنز کر دیتا۔ کبھی کہتا:“ہرن میاں! تم گھاس کھاتے ہو یا ہوا؟” کبھی ہنستے ہوئے بولتا:“ذرا احتیاط سے چلا کرو، کہیں تیز ہوا نہ چل جائے، ورنہ اڑ جاؤ گے!”اور کبھی اپنے موٹے پیروں کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگاتا:“تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تمہاری ٹانگیں لکڑی کی تیلیاں ہیں۔”آس پاس کھڑے چند جانور بھی ہنس دیتے۔ہرن مسکرا دیتا، مگر خاموش رہتا۔وہ جانتا تھا کہ ہر بات کا جواب زبان سے نہیں دیا…

Read more

جنگل کے پاس ہی گاوں میں ایک شخص رہتا تھا ۔ جو بہت جو بہت مغرور تھا۔ اس کے گھر کے تھوڑا دور ہی جنگل کی زمین پر بہت سے ہرے بھرے اور گھنے درخت تھے ۔ جس پر بہت سے پرندوں کے گھونسلے تھے ۔ پرندے بہت ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے ۔ وہ شخص تھوڑا لالچی تھا اس نے سوچا کیوں نا جنگل کی زمین پر بھی فصل اگا کر بہت سارا پیسہ کماوں گا ۔ ایک دن وہ کلہاڑی لے کر جنگل گیا اور جنگل میں لگے بہت سے درختوں کو کاٹنے لگا ۔ آہستہ آہستہ اس نے اس زمین سے سارے درخت کاٹ دیے ۔ درخت کٹنے سے سارے پرندے جنگل میں ادھر  ادھر اڑ گئے ۔ اور ان سب کے گھونسلے ٹوٹ چکے تھے سب پرندے بہت پریشان تھے۔   اس شخص نے زمین پر ہل چلا کر مکئی کی فصل بوئی ۔ جو کہ…

Read more

ایک بڑے سپر اسٹور میں چوہوں کی اتنی بڑی آبادی تھی کہ رات ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا جیسے پوری دکان زندہ ہو گئی ہو۔ آٹے کی بوریاں، خشک میوہ جات، چاول، دالیں، بسکٹ، ہر طرف ان کی چہل پہل تھی۔ نسلیں وہیں پلی تھیں، بوڑھے وہیں مرے تھے اور نئے بچے وہیں جوان ہو رہے تھے۔دکان کے مالک نے ہر ترکیب آزما لی، مگر چوہے ختم نہ ہوئے۔آخر ایک دن اس نے ایک نہایت خونخوار جنگلی بلی لا کر چھوڑ دی۔وہ عام بلی نہ تھی۔اس کی آنکھوں میں بھوک تھی، پنجوں میں بجلی، اور حملہ ایسا کہ کئی چوہے سنبھلنے کا موقع ہی نہ پاتے۔ پہلے ہی ہفتے درجنوں چوہے مارے گئے۔چوہوں کی بستی میں کہرام مچ گیا۔ہر رات کسی نہ کسی گھر سے ماتم کی آواز آتی۔پھر ایک دن بزرگ چوہوں نے مشورہ کیا۔“جان ہے تو جہان ہے۔”“دکان کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اگر ہر صبح کسی…

Read more

Read more

! آپ نے ملا نصرالدین کا نام تو ضرور سنا ہو گا اور اُسکے کارنامے بھی ضرور پڑھے اور سنے ہو نگے ۔ملا کی عمر کا زیادہ ترحصہ بادشاہوں کے درباروں میں ہی گزرا۔وہ ہنس مُکھ اور بذلہ سنج شخص تھا ۔بادشاہ اکثر اُس پر انعام واکرام کی بارش کرتا رہتا تھا۔بادشاہ کے دربار میں اُس سے حسد کرنے والے بھی تھے وہ بادشاہ کے کان بھرتے رہتے تھے ،آخر ایک دن اُنہیں موقع مل ہی گیا ۔ بادشاہ کے مخالف کا مُلا سے آمنا سامنا ہوا۔مُلا نے اُسکے سلام کا جواب دیا ،اُس نے مُلا کا حال چال پوچھا ۔بس اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا کر بادشاہ کو ملا سے بد ظن کر دیا ۔بادشاہ ملا سے ناراض ہو گیا اور محل میں اُس کا داخلہ بند کر دیا ۔چند ماہ تک تو مُلا اپنی جمع پونجی خرچ کرتا رہا۔(جاری ہے) کہتے ہیں یوں کھانے سے قارون کا…

Read more

ایک مراثی بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھایہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا۔ اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتا۔ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا، اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا، حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں۔ میں آپ کا وفادار بھی ہوں۔ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں۔ لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا۔نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا،‘آپ حکم کیجئے’بادشاہ بولا۔ بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے۔ مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو۔نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا۔ اور واپس آ کر بولا۔ جی جہاز وہاں کھڑا ہے۔بادشاہ نے پوچھا۔ یہ جہاز کب آیا؟ نائی دوبارہ سمندر…

Read more

ایک دن ایک سانپ خاموشی سے سرکتا ہوا ایک پُرسکون خرگوش کے بل میں داخل ہو گیا۔ ننھے خرگوش خوف سے ایک کونے میں دبک گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے ہی گھر میں کسی شکاری کو دیکھا تھا۔ سانپ نے نہایت نرم لہجے میں کہا: “براہِ کرم مجھ سے مت ڈرو… میں بہت تنہا ہوں۔ میرا کوئی دوست نہیں۔ مجھے صرف تھوڑی سی محبت اور اپنائیت چاہیے۔ میرے اندر برسوں کی دانائی چھپی ہوئی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ بانٹوں۔” خرگوش ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد انہوں نے سوچا کہ شاید اسے ایک موقع دینا چاہیے۔ وہ اس کی باتیں سننے لگے۔ اس کی کہانیاں، اس کے فلسفیانہ انداز اور دل موہ لینے والے الفاظ انہیں متاثر کرنے لگے۔ لیکن اچانک… سانپ نے ان میں سے ایک خرگوش کو ڈس لیا اور اندھیرے میں غائب ہو…

Read more

صحن میں رکھی پرانی سرخ سائیکل کے ہینڈل سے پانی کے قطرے ایک ایک کر کے ٹپک رہے تھے۔ زنگ آلود گھنٹی ہوا کے ہلکے جھونکے سے بجی تو عامر نے بے اختیار کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اسی لمحے اندر کمرے سے والد کی آواز آئی۔“بیٹا… اگر ممکن ہو تو… وہ ٹچ والا موبائل دلا دینا۔”آواز میں خواہش کم، اجازت زیادہ تھی۔عامر نے اخبار تہہ کیا، مگر جواب فوراً نہ دے سکا۔ اسے حیرت اس بات پر نہیں ہوئی کہ ابا نے موبائل مانگا ہے؛ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انہوں نے پہلی بار اپنی کسی ضرورت کو لفظ دیا تھا۔رات کے کھانے کے بعد وہ باورچی خانے میں آیا تو سارہ برتن دھو رہی تھی۔ نلکے سے بہتا پانی اسٹیل کے برتنوں پر ایسی آواز پیدا کر رہا تھا جیسے کوئی پرانی یاد آہستہ آہستہ گھل رہی ہو۔“ابا کہہ رہے تھے، اینڈرائیڈ فون چاہیے۔”سارہ نے ہاتھ نہیں روکے۔“اچھا۔”“لیکن…

Read more

ایک مالدار تاجر تھا جس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اس کی دوستی ایسے لڑکوں سے ہو گئی جنھیں سوائے آوارہ گردی اور مفت خوری کے کچھ کام نہ تھا۔ وہ روزانہ اسے شراب خانے یا قمار خانے لے جاتے اور شام تک اس کی اچھی خاصی رقم ضائع کروا دیتے۔تاجر کچھ دن تک خاموشی سے یہ رنگ ڈھنگ دیکھتا رہا، پھر ایک دن اپنے بیٹے سے بولا: “بیٹا! دوستی کرو تو ایسے لوگوں سے جو اچھے گھرانے کے ہوں، شریف ہوں اور تمھارا بھلا چاہیں۔ تم نے جن آوارہ لڑکوں کے ساتھ دوستی کر رکھی ہے، وہ میرے بعد تمھیں تباہ کر کے چھوڑ دیں گے۔”بیٹے کو باپ کی بات پر یقین نہیں آیا۔ اس نے کہا: “مجھے اپنے دوستوں پر پورا بھروسا ہے۔ وہ ہر آزمائش میں پورے اتریں گے۔”تاجر نے کہا: “ٹھیک ہے، میں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کس قدر…

Read more

ایک بادشاہ نے ایک دن حکم جاری کیا: “سلطنت کے تمام شادی شدہ مرد فوراً میدان میں جمع ھوں!” 🙂💁‍♂️ سب حاضر ھو گئے۔ بادشاہ نے اعلان کیا: “دو قطاریں بناؤ!ایک اُن کی جو اپنی بیوی سے ڈرتے ھیںاور دوسری اُن کی جو بالکل نہیں ڈرتے!” چند ھی لمحوں میں… بیوی سے ڈرنے والوں کی قطار اتنی لمبی ھو گئی کہ میدان چھوٹا پڑ گیا! 😂 جبکہ دوسری طرف… صرف ایک اکیلا شخص شان سے کھڑا تھا۔ 😎 بادشاہ خوش ھو کر اس کے پاس گیا اور بولا: “واہ! آخر میری سلطنت میں ایک بہادر مرد بھی ھے جو اپنی بیوی سے نہیں ڈرتا!” 😏 وہ شخص گھبرا کر بولا: “حضور… ایسی بات نہیں ھے!” 🤕 بادشاہ حیران ھوا: “پھر یہاں کیوں کھڑے ہو؟” اس نے معصوم سا جواب دیا: “حضور، گھر سے نکلتے وقت بیوی نے کہا تھا: “خبردار! اسی والی قطار میں کھڑے ھونا اگر اپنی مرضی سے…

Read more

شہر میں ایک بوڑھا آدمی تھا جو پچاس سال سے ایک ہی کمرے میں رہ رہا تھا۔ وہ وقت پر کرایہ دیتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور ہر شام اپنے دروازے کے باہر ایک خالی کرسی رکھ دیتا۔ محلے والے کہتے تھے،“شاید کسی کا انتظار کرتا ہے۔” ایک دن مکان مالک نے تنگ آ کر پوچھ ہی لیا، “آخر روز یہ خالی کرسی کیوں رکھتے ہو؟” بوڑھا مسکرایا۔ “کیونکہ جس دن کوئی اس پر بیٹھ گیا… میں یہ کمرہ چھوڑ دوں گا۔” سب نے اسے پاگل سمجھا۔ سال گزرتے گئے۔ کسی نے کبھی اس کرسی پر بیٹھنے کی ہمت نہ کی۔ پھر ایک بارش بھری شام ایک سات آٹھ سال کا لڑکا بھیگتا ہوا آیا۔ اس نے کچھ پوچھے بغیر کرسی کھینچی… اور بیٹھ گیا۔ بوڑھے نے اسے دیکھا۔ پچاس برس بعد… وہ پہلی بار ہنسا۔ اگلی صبح محلے والوں نے دیکھا… کمرہ خالی تھا۔ کرایہ میز پر رکھا…

Read more

رات کے ٹھیک تین بجے، پورے گاؤں کی بجلی چلی گئی۔ بارش نہیں ہو رہی تھی، ہوا بھی بند تھی… پھر بھی عائشہ کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ ٹھک… ٹھک… دروازے پر دو ہلکی دستکیں ہوئیں۔ اس نے سمجھا شاید وہم ہے۔ خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد… ٹھک… ٹھک… ٹھک… اس بار تین دستکیں تھیں۔ اس کی دادی کی ایک بات اسے فوراً یاد آ گئی۔ “اگر رات کے آخری پہر کوئی تین بار دروازہ کھٹکھٹائے… تو پہلے کھڑکی سے ضرور دیکھنا، دروازہ فوراً مت کھولنا۔” عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے پردہ ہٹایا۔ باہر کوئی نہیں تھا۔ صرف گیلی مٹی پر ننگے قدموں کے نشان… جو دروازے تک آ کر ختم ہو جاتے تھے۔ واپس نہیں جاتے تھے۔ اس کا گلا خشک ہو گیا۔ اچانک اس کے پیچھے سے پھر وہی آواز آئی۔ ٹھک… ٹھک… ٹھک… مگر اس بار… دروازے پر نہیں۔ الماری کے اندر سے۔ کمرے کی ہوا…

Read more

340/470
NZ's Corner