آپ کا جسم، کسی اور کی مرضی

آپ کا جسم، کسی اور کی مرضی

رات گہری ہو چکی تھی۔باورچی خانے کی بتیاں بجھ چکی تھیں۔ فرش پر خاموشی تھی۔ سنک کے نیچے اندھیرے میں ایک کاکروچ خوراک کی تلاش میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔

اچانک ہوا میں پروں کی ہلکی سی آواز گونجی۔وہ رک گیا۔
سامنے ایک چھوٹی سی چمکدار بھڑ بیٹھی تھی۔
کاکروچ نے خطرہ محسوس کیا اور پلٹ کر بھاگنا چاہا، مگر بھڑ پہلے ہی حملہ کر چکی تھی۔

پہلا ڈنک لگا۔چند لمحوں کے لیے اس کی اگلی ٹانگوں کا نظام گڑبڑا گیا۔مگر اصل حملہ ابھی باقی تھا۔

بھڑ دوبارہ آگے بڑھی۔ اس مرتبہ اس نے سر کے قریب ڈنک اتارا۔ اس کا باریک ڈنک اندر گیا اور اعصابی مراکز تک پہنچ کر اپنا زہر چھوڑ آیا۔

کاکروچ مرا نہیں۔وہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔
اس کی ٹانگیں بھی کام کر رہی تھیں۔ مگر اس کے اندر سے ایک چیز غائب ہو چکی تھی۔ بھاگنے کا ارادہ۔

بھڑ کچھ دیر انتظار کرتی رہی۔
پھر اس نے کاکروچ کا ایک اینٹینا اپنے جبڑوں میں پکڑا اور چل پڑی۔

اور وہ کاکروچ جسے چند لمحے پہلے اپنی جان بچانے کی فکر تھی، خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگا۔
نہ کوئی رسی تھی، نہ زنجیر۔
قیدی کے پاؤں آزاد تھے۔
بس اس کی مرضی قید ہو چکی تھی۔

بھڑ اسے ایک تاریک بل تک لے گئی۔ اندر پہنچ کر اس کے جسم پر ایک انڈا رکھا، باہر نکلی اور دروازہ بند کر دیا۔
اندھیرے میں کاکروچ زندہ بیٹھا رہا۔
کچھ عرصے بعد انڈا پھٹا۔

ایک ننھا سا بچہ نکلا۔
اس کے سامنے نہ ماں تھی، نہ تیار خوراک۔
صرف وہی زندہ کاکروچ تھا۔

بچے نے اسی جسم سے خوراک لینا شروع کی اور بعد میں اس کے اندر داخل ہوگیا۔ اسے فوراً مار دینا دانشمندی نہیں تھی۔ مردہ جسم جلد خراب ہو سکتا تھا۔ اسے ایسا میزبان چاہیے تھا جو کچھ عرصہ زندہ رہے۔ ایک ایسا زندہ جسم جس کے اندر وہ محفوظ رہ کر اپنی نشوونما مکمل کر سکے۔

اور پھر ایک دن اسی جسم سے ایک نئی بھڑ باہر نکلی۔
کاکروچ کی کہانی ختم ہو چکی تھی۔

مگر یہ صرف ایک گھر کی تاریک دراڑ میں ہونے والی واردات نہیں۔

چند قدم آگے قدرت کی ایک اور دنیا میں چلیں۔

ایک سنڈی پتے پر بیٹھی خاموشی سے خوراک کھا رہی ہے۔ ایک نہایت چھوٹی بھڑ آتی ہے۔ چند لمحوں کا حملہ اور پھر وہ اڑ جاتی ہے۔

سنڈی دوبارہ پتا کھانے لگتی ہے۔
اسے شاید اندازہ بھی نہیں کہ اس کے جسم کے اندر اب وہ اکیلی نہیں۔ بھڑ اپنے انڈے اس کے اندر چھوڑ گئی ہے۔

دن گزرتے ہیں۔
سنڈی کھاتی رہتی ہے، چلتی رہتی ہے، بڑھتی رہتی ہے۔۔۔ اور اس کے اندر چھوٹے طفیلی بچے بھی بڑھتے رہتے ہیں۔
پھر ایک دن اس کے جسم سے ایک کے بعد ایک ننھے بچے باہر نکلنے لگتے ہیں۔

وہ قریب ہی اپنے خول بناتے ہیں۔ کہانی یہاں ختم ہونی چاہیے تھی۔ مگر نہیں۔ زخمی سنڈی وہاں سے بھاگنے کے بجائے انہی کے قریب رہتی ہے۔ کوئی شکاری قریب آئے تو وہ جسم کو زور زور سے جھٹکتی ہے، جیسے ان بچوں کی حفاظت کر رہی ہو جنہوں نے ابھی اسی کے جسم کو استعمال کیا ہے۔

یہاں قدرت پہلی بار واقعی خوفناک محسوس ہوتی ہے۔
کیونکہ بعض طفیلی جاندار صرف گوشت نہیں کھاتے۔

وہ رویے پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔

کہیں ایک طفیلی اپنے میزبان کو معمول سے مختلف جگہ پہنچا دیتا ہے۔ کہیں شکار خود ایسی حالت اختیار کرتا ہے جو طفیلی کی بقا کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

کہیں ایک زندہ جسم بچوں کی پرورش گاہ بن جاتا ہے۔
اور کہیں دماغ سلامت ہونے کے باوجود اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں۔

ہم انسان زہر سے ڈرتے ہیں۔
ڈنک سے ڈرتے ہیں۔
شکاری کے دانتوں سے ڈرتے ہیں۔
موت سے ڈرتے ہیں۔
مگر قدرت کی تاریک دنیا میں شاید سب سے خوفناک سزا موت نہیں۔

ذرا تصور کریں۔
آپ زندہ ہوں۔
آنکھیں آپ کی ہوں۔
ٹانگیں آپ کی ہوں۔
دل آپ کا دھڑک رہا ہو۔
جسم بھی مکمل طور پر آپ کا ہو۔ بس اسے چلانے والی مرضی آپ کی نہ رہے تو کیسا محسوس ہوگا؟

Leave a Reply

NZ's Corner