اختیار اگر خدمت کے بجائے لوٹ مار کا ذریعہ بن جائے تو محافظ اور لٹیرا پہچانے نہیں جاتے

اختیار اگر خدمت کے بجائے لوٹ مار کا ذریعہ بن جائے تو محافظ اور لٹیرا پہچانے نہیں جاتے

جنگل میں دو بھیڑیے ایسے تھے جنہیں شاہی فرمان کے تحت جنگل کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا۔ ان کے پاس سرکاری مہر تھی، کمر پر شاہی نشان آویزاں تھا اور چال میں ایسا رعب کہ جنگل کی پگڈنڈی پر چلتے تو خرگوش راستہ بدل لیتے، ہرن دور سے ہی جھاڑیوں میں جا چھپتے اور بندر درختوں کی اوٹ سے انہیں گزرتا دیکھتے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ کمزوروں کی حفاظت کریں، ظالموں کو روکیں اور جنگل کے باشندوں کے جان و مال کو محفوظ رکھیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے حفاظت کے مفہوم ہی کو بدل ڈالا۔ اب ان کے نزدیک جنگل کی حفاظت کا مطلب یہ تھا کہ جنگل میں جو کچھ بھی اچھا کھانے کو ملے، وہ ان کی دسترس سے باہر نہ رہے۔ کسی درخت کے نیچے پھلوں کی ریڑھی لگی ہوتی تو وہ وہاں جا پہنچتے؛ کسی تالاب کے کنارے مچھلیوں کا ہوٹل کھلتا تو وہاں کرسی سنبھال لیتے؛ کسی چوراہے پر گوشت کی دکان سجتی تو اس کا مالک ان کی آمد سے پہلے ہی پریشان ہو جاتا۔ وہ کھانا کھاتے، ڈکار لیتے، مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے اور یوں اٹھتے جیسے جنگل کی خدمت کے عوض اپنی تنخواہ وصول کر رہے ہوں۔ کسی دکاندار کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ ان کے سامنے بل رکھ دے۔ اگر کوئی نادان غلطی سے قیمت کا ذکر چھیڑ بھی دیتا تو بھیڑیے فوراً اسے قانون، امن اور شاہی ذمہ داریوں کی یاد دلانے لگتے۔ ’’ہم دن رات تمہاری حفاظت میں مصروف رہتے ہیں،‘‘ ایک بھیڑیا گردن اکڑا کر کہتا، ’’اور تمہیں چند لقموں کی پڑی ہے؟ اگر کل کو جنگل میں کوئی ڈاکو تمہاری دکان لوٹ لے تو کیا ہمیں ہی نہیں پکارو گے؟‘‘ دکاندار فوراً ہاتھ جوڑ لیتا۔ ’’حضور! ایسی بات زبان پر لانے کی جرأت کیسے ہو سکتی ہے؟ آپ تو ہمارے محافظ ہیں۔ یہ حقیر سا کھانا تو ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ نے قبول فرما لیا۔‘‘ وہ جانتا تھا کہ اس کے یہ الفاظ خوشامد نہیں، اس کی دکان کا حفاظتی انتظام ہیں۔ یوں رفتہ رفتہ مفت کھانا بھیڑیوں کا حق، ان کی خدمت کرنا دکانداروں کا فرض اور خاموش رہنا جنگل کے باشندوں کی مجبوری بن گیا۔ کسی ہوٹل والے کو ان کی آمد کا پتا چلتا تو وہ فوراً باورچی خانے میں دوڑتا، بہترین کھانے تیار کرواتا اور اپنے ملازموں کو تاکید کرتا کہ محافظوں کے سامنے کوئی کمی نہ رہنے پائے۔ بعض تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی شاہی افسروں کو اطلاع دے دیتے تاکہ وہ تشریف لائیں تو کھانا گرم اور دسترخوان سجا ہوا ہو۔ جنگل کے جانوروں کو یہ سب معلوم تھا، لیکن کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا۔ آخر سرکاری عہدے کا معاملہ تھا؛ بھیڑیوں سے شکایت کرنا گویا اپنی ہی دکان کے دروازے پر مصیبت کو دعوت دینا تھا۔ ایک دن ان دونوں بھیڑیوں نے جنگل کے ایک نسبتاً خاموش حصے میں واقع لومڑی کے ہوٹل کا رخ کیا۔ لومڑی اپنے کاروبار میں ہوشیار تھی۔ اس نے برسوں کی محنت سے ایک چھوٹا سا ہوٹل قائم کیا تھا، جہاں جنگل کے مسافر رک کر کھانا کھاتے اور اپنی استطاعت کے مطابق قیمت ادا کرتے تھے۔ جب اس نے دور سے دونوں بھیڑیوں کو آتے دیکھا تو اس کے دل میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ معمولی مہمان نہیں؛ اگر آج انہیں مفت کھلا دیا تو کل پھر آئیں گے، پرسوں اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئیں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا ہوٹل ان کی مستقل جاگیر بن جائے گا۔ اس نے دروازے پر کھڑی ہو کر ابھی بھیڑے بہت دور ہی تھے کہ بڑے احترام سے بولی، ’’ارے حضور! یہ تو ہمارے لیے سعادت کا دن ہے۔ جنگل کے محافظ ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے ہیں! آئیے، تشریف لائیے، آج تو آپ کی خدمت کا موقع ہاتھ آیا ہے۔‘‘ بھیڑیے اس استقبال سے خاصے خوش ہوئے۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فخر سے سینہ پھلایا، گویا ان کی شہرت جنگل کی سرحدوں سے نکل کر آسمان تک پہنچ چکی ہو۔ ایک نے کرسی سنبھالتے ہوئے حکم دیا، ’’لومڑی! آج کچھ ایسا انتظام کرنا کہ یادگار بن جائے۔‘‘ لومڑی نے سر جھکا کر کہا، ’’حضور، آپ حکم تو فرمائیں، یادگار نہ بنے تو نام بدل دیجیے گا۔‘‘
پھر کیا تھا! دسترخوان پر ایک کے بعد ایک خوان آنے لگا۔ کہیں بھنا ہوا گوشت، کہیں مسالے دار سالن، کہیں مچھلی، کہیں کباب، کہیں میٹھی ڈشیں اور کہیں ایسے لذیذ پکوان جن کے نام سن کر ہی منہ میں پانی بھر آئے۔ لومڑی بار بار اندر جاتی، نئے برتن لاتی اور نہایت خندہ پیشانی سے کہتی، ’’حضور، یہ بھی چکھ لیجیے؛ ابھی تو ہماری خدمت کا آغاز ہوا ہے۔‘‘ بھیڑیے خوشی خوشی کھاتے رہے۔ ان کے سامنے سے برتن اٹھتے تو نئے آ جاتے۔ انہیں گمان بھی نہ تھا کہ لومڑی کی یہ غیر معمولی مہمان نوازی دراصل ایک ایسی تدبیر کا حصہ ہے جس کا انجام ان کی ساری شان و شوکت کو چند گھنٹوں کے لیے ہی سہی، خاک میں ملا دینے والا تھا۔
بالآخر جب وہ کھا پی کر اٹھنے لگے تو ان کے پیٹ بھاری ہو چکے تھے۔ ابھی ایک نے دوسرے سے کہا ہی تھا کہ ’’آج تو لومڑی نے کمال کر دیا، اب اسے معلوم ہو گیا ہوگا کہ محافظوں کی خدمت کیسے کی جاتی ہے،‘‘ کہ اچانک دونوں کے پیٹ میں عجیب سی گڑگڑاہٹ شروع ہو گئی۔ پہلے انہوں نے اسے معمولی بات سمجھا، مگر چند لمحوں میں کیفیت ایسی بدلی کہ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ ایک بھیڑیے نے بے چینی سے پوچھا، ’’لومڑی! تمہارے ہاں بیت الخلا کہاں ہے؟‘‘ لومڑی نے نہایت سنجیدگی سے راستہ بتایا۔ دونوں تیزی سے اندر گئے، مگر ابھی باہر نکل کر دروازے تک پہنچے ہی تھے کہ پیٹ میں پھر ایسی ہلچل مچی جیسے اندر کوئی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہو۔ دونوں دوبارہ پلٹے اور پھر بیت الخلا کی طرف دوڑ پڑے۔ یہ سلسلہ ایک بار نہیں، بار بار دہرایا گیا۔ کبھی ایک بھیڑیا بھاگتا، کبھی دوسرا؛ کبھی دونوں ایک ساتھ اٹھتے اور کبھی دروازے پر ایک دوسرے کو راستہ دینے کے لیے رک جاتے۔ ان کے چہروں سے رعب غائب ہو چکا تھا، آنکھوں میں بے بسی اتر آئی تھی اور شاہی نشان سے مزین لباس بھی ان کی حالت پر پردہ نہ ڈال پا رہا تھا۔ صبح سے دوپہر ہوئی، دوپہر سے شام ہونے لگی، مگر دونوں کی مصیبت ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔ لومڑی ہر بار دروازے پر نمودار ہوتی، ادب سے پوچھتی، ’’حضور، طبیعت تو ٹھیک ہے؟ کوئی خدمت درکار ہو تو حکم فرمائیے۔‘‘ بھیڑیے غصے سے اسے دیکھتے، مگر اس وقت ان کے پاس نہ دھاڑنے کی طاقت تھی، نہ دھمکانے کا حوصلہ۔ آخر ایک نے ہانپتے ہوئے کہا، ’’لومڑی، تمہارے کھانے میں آخر تھا کیا؟‘‘ لومڑی نے معصومیت سے جواب دیا، ’’حضور، گوشت بھی تھا، مچھلی بھی، سالن بھی اور مٹھائیاں بھی۔ آپ نے تو ہر چیز پسند فرمائی تھی۔‘‘ بھیڑیے نے دانت پیستے ہوئے کہا، ’’ہم کھانے کے نام نہیں پوچھ رہے، یہ بتاؤ کہ ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟‘‘ لومڑی نے کندھے اچکائے۔ ’’حضور، میں تو ایک معمولی ہوٹل والی ہوں۔ آپ جنگل کے محافظ ہیں، آپ کی طبیعت کا حال آپ سے بہتر کون جانے گا؟‘‘ بھیڑیے اس جواب پر مزید جھنجھلا اٹھے۔
لومڑی نے اصل میں بھیڑیوں کی مفت خوری کا علاج کرنے کیلئے اس میں بڑی صفائی سے تمام کھانوں میں میٹھا سوڈا ملا دیا تھا۔
شام ڈھلے جب ان کی حالت کچھ سنبھلی تو وہ ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے ہوٹل سے نکلے۔ ان کی چال میں وہ شاہانہ تمکنت نہ تھی جو صبح داخل ہوتے وقت تھی؛ اب ہر قدم احتیاط سے اٹھتا تھا اور دونوں کے چہروں پر ایک ہی خواہش لکھی تھی کہ کسی طرح اس جگہ سے دور نکل جائیں۔  چند روز بعد وہ پھر لومڑی کے ہوٹل کے قریب سے گزرے۔ لومڑی نے دور سے انہیں دیکھ لیا تو پہلے کی طرح خوش دلی سے لیکن آج کچھ زیادہ ہی دور سے آواز لگائی، ’’حضور! تشریف تو لائیے، آپ کی خدمت میں آج بھی کوئی کمی نہیں رہنے دوں گی۔‘‘ دونوں بھیڑیے ایک دم ٹھٹک گئے۔ ایک نے دوسرے کے کان میں سرگوشی کی، ’’یہ وہی ہوٹل ہے نا؟‘‘ دوسرے نے خوف زدہ نظروں سے دروازے کی طرف دیکھا اور بولا، ’’ہاں، دونوں نے فوراً رخ بدل لیا۔ ’’ہمیں بہت ضروری سرکاری کام ہے،‘‘ ایک نے جواب دیا، ’’کھانے پینے کا  ہمارے پاس وقت نہیں۔‘‘
اب ان کا معمول یہ تھا کہ جنگل کے دوسرے ہوٹلوں میں پہنچ کر حسبِ سابق مفت کھانا کھاتے، لیکن لومڑی کے ہوٹل کا نام سن کر بھی ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتیں۔
حاصلِ سبق:
اختیار اگر خدمت کے بجائے لوٹ مار کا ذریعہ بن جائے تو محافظ اور لٹیرا ایک دوسرے سے پہچانے نہیں جاتے۔ جب طاقتور کمزوروں کے مال کو اپنا حق سمجھنے لگیں تو خاموشی ان کے ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے۔ ہر مظلوم کے پاس بلند آواز یا بڑی طاقت نہیں ہوتی، مگر عقل، حاضر دماغی اور بروقت تدبیر اسے اپنے دفاع کا راستہ دکھا سکتی ہے۔ حقیقی عہدہ وہ ہے جو لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرے، نہ کہ ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے؛ کیونکہ رعب سے کھانا تو مفت حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر عزت کبھی زبردستی نہیں لی جا سکتی۔

Leave a Reply

NZ's Corner