ایک کسان گدھا گاڑی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کی عدالت آیا۔
اس نے کہا: “سلطانِ وقت! کل شام میں گدھا گاڑی پر اناج لاد کر غلہ منڈی گیا۔ رات ہو چکی تھی، دکانیں بند تھیں لیکن ایک بیوپاری بیٹھا تھا۔ میں نے اناج اسے دے دیا تو اس نے کہا ‘کل رقم لے جانا’۔
آج میں رقم لینے گیا تو یہ صاف مکر گیا۔”
سلطان نے بیوپاری کو بلوایا۔
بیوپاری بولا: “یہ کسان جھوٹ بول رہا ہے۔ نہ میں نے اناج لیا، نہ کوئی گواہ ہے۔”
دونوں کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا۔ سلطان نے تھوڑی دیر سوچا۔
پھر حقیقت جاننے کے لیے سلطان نے *گدھے کی آنکھیں بند کر دیں* اور کسان سے کہا: “اس گدھے کو چلاؤ اور اسی جگہ لے جاؤ جہاں تم نے اناج اتارا تھا۔”
کسان گدھے کو لے کر چلا۔ گدھا سیدھا اسی بیوپاری کی دکان کے سامنے جا کر رک گیا۔
سلطان نے بیوپاری کی طرف دیکھا اور فرمایا: “فیصلہ ہو گیا۔ گدھا خود اس جگہ پہنچ گیا جہاں اس نے بوجھ اتارا تھا۔ تم جھوٹے ہو۔”
بیوپاری گھبرا کر معافی مانگنے لگا اور کسان کی رقم واپس کر دی۔
سلطان نے فرمایا: “ظالم سے مظلوم کا حق دلوانا ہی اصل عدل ہے۔”
سبق:
1. عدل کے لیے بڑے ثبوت نہیں، سچے طریقے چاہیے ہوتے ہیں
2. سلطان صلاح الدین ایوبی کا انصاف جانور تک کو سمجھتا تھا
3. جھوٹ زیادہ دیر نہیں چھپتا.
