“اصل لباس اور سب سے بڑا شکار”۔۔.. بادشاہ کی سبق آموز نصیحت

“اصل لباس اور سب سے بڑا شکار”۔۔.. بادشاہ کی سبق آموز نصیحت

ایک شہزادے کو خوبصورت اور قیمتی لباس پہننے کا بہت شوق تھا۔ وہ روز نئے نئے کپڑے بنواتا، قیمتی پوشاک پہنتا اور پھر گھوڑے پر سوار ہو کر سیر و شکار کے لیے نکل جاتا۔

ایک دن بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا:

“بیٹا! تم شہزادے ہو۔ تمہیں ایسا لباس پہننا چاہیے جو ہر کسی کے نصیب میں نہ ہو۔ یہ قیمتی کپڑے جن پر تم اتنا فخر کرتے ہو، دنیا کا کوئی بھی امیر شخص بنوا سکتا ہے۔”

شہزادے نے حیرت سے پوچھا:

“پھر وہ کون سا لباس ہے جو ہر کسی کو نہیں مل سکتا؟”

بادشاہ مسکرایا اور بولا:

“وہ نیکی، عاجزی اور پرہیزگاری کا لباس ہے۔ سونے اور زری کے کپڑے چند دن بعد پرانے ہو جاتے ہیں، مگر نیکی کا لباس ہمیشہ نیا رہتا ہے۔ نہ یہ پھٹتا ہے، نہ میلا ہوتا ہے اور نہ کبھی اس کی چمک ختم ہوتی ہے۔”

پھر بادشاہ نے کہا:

“اور تم جس شکار کے لیے ہر وقت بے چین رہتے ہو، ہرن، بارہ سنگھا، شیر اور چیتے کا شکار تو بہت سے لوگ کر سکتے ہیں۔ تمہیں ایسا شکار کرنا چاہیے جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔”

شہزادے نے حیرت سے پوچھا:

“وہ کون سا شکار ہے، حضور؟”

بادشاہ نے محبت سے جواب دیا:

“اپنی رعایا کے دلوں کا شکار!”

شہزادہ خاموشی سے اپنے والد کی طرف دیکھنے لگا۔

بادشاہ نے کہا:

“اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کرو، غریبوں کی مدد کرو، کمزوروں کا سہارا بنو اور لوگوں کے ساتھ محبت سے پیش آؤ۔ اگر تم نے ان کے دل جیت لیے تو تمہاری اصل کامیابی یہی ہوگی۔”

اس دن شہزادے نے قیمتی لباس کے ساتھ نیکی کا لباس پہننے اور جنگل کے شکار کے بجائے لوگوں کے دل جیتنے کا شکار کرنے کا عہد کیا۔

سبق:
اصل خوبصورتی اچھے لباس میں نہیں بلکہ اچھے کردار میں ہے، اور سب سے بڑا شکار جانوروں کا نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں کا شکار ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner