بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں ایک دولت مند تاجر رہتا تھا۔ دولت کی فراوانی نے اس کے دل کو سخت کر دیا تھا۔ اسی شہر میں ایک بیوہ عورت رہتی تھی جسے اس کے مرحوم شوہر کی تھوڑی سی زمین اور ایک چھوٹا سا گھر وراثت میں ملا تھا۔ وہی اس کی کل متاع تھی، وہی اس کی امید تھی، اور وہی اس کی زندگی کا سہارا۔
تاجر کی نظر اس زمین پر پڑی تو لالچ جاگ اٹھا۔ اس نے جعلی کاغذات تیار کروائے، جھوٹے گواہ کھڑے کیے اور آخرکار وہ بیوہ کی زمین اور گھر دونوں ہتھیا گیا۔ بیوہ نے بہت فریاد کی، لوگوں کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر دولت کے سامنے اس کی آواز دب گئی۔ آخر ایک شام وہ اپنے ویران گھر کے کھنڈرات کے سامنے کھڑی ہوئی، آسمان کی طرف دیکھا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا: “اے میرے رب! آج میرا کوئی نہیں، مگر تُو تو ہے۔ اگر میرا حق آج ضائع ہو گیا ہے تو اسے اپنے انصاف کے دن کے لیے محفوظ رکھ لے۔”
وقت گزرتا گیا۔
برسوں بعد وہی تاجر بدل گیا۔ بڑھاپا آیا، دل نرم ہوا، عبادت گزار بن گیا اور اپنے ماضی پر نادم رہنے لگا۔ ایک رات بادشاہ کے سپاہیوں نے تاجر کو گرفتار کر لیا۔ اس پر ایک ایسے قتل کا الزام لگا دیا گیا جس سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا، عدالت لگی۔
تاجر کو یقین تھا کہ سچ سامنے آ جائے گا، مگر تین ایسے گواہ پیش ہوئے جنہیں وہ عمر بھر سچا سمجھتا آیا تھا۔ سب نے ایک زبان ہو کر اس کے خلاف گواہی دے دی۔
وہ حیران تھا کہ جن لوگوں کو وہ نیک اور دیانت دار سمجھتا تھا، وہ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں؟
آخرکار عدالت نے تاجر کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
جیل کی تاریک کوٹھڑی میں ایک رات تاجر سجدے میں گر کر رونے لگا۔
“اے اللہ! میں نے یہ جرم نہیں کیا، آپ تو جانتے ہیں، پھر میرے ساتھ یہ کیوں ہوا؟”
اسی رات اس کے خواب میں بدعا آئی اور بتایا کہ
“یہ سزا اس قتل کی نہیں جس کا الزام تم پر لگا ہے، بلکہ اس بیوہ کی آہوں کی ہے جس کا گھر اور زمین تم نے برسوں پہلے چھین لی تھی۔ اس دن اس کی بددعا آسمان تک پہنچی تھی۔ آج وہ قبول ہوئی ہے۔” تاجر کی آنکھ کھل گئی۔
اسے وہ بیوہ، اس کے آنسو اور اس کے الفاظ سب یاد آ گئے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اصل میں اس رات ہوا کچھ یوں تھا کہ اسی شہر میں ایک محنتی بڑھئی رہتا تھا۔ وہ اپنی دیانت، نیکی اور خدمتِ خلق کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن اندھیری رات میں وہ اپنے گھر لوٹ رہا تھا کہ اچانک ایک شخص اس کے سامنے آ گیا۔ دونوں ٹکرا گئے، وہ شخص گرا، اس کا سر پتھر سے ٹکرایا اور وہ جان کی بازی ہار گیا۔
یہ ایک حادثہ تھا۔ اندھیری رات میں ایک شخص غلطی سے گر کر جاں بحق ہو گیا، مگر حقیقت میں اس کا کسی کے قتل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اصل مجرم کوئی اور تھا، لیکن حالات اس طرح الجھ گئے کہ سارا شک ایک ہی شخص پر جا ٹھہرا۔
واقعے کے وقت وہاں چند لوگ موجود تھے۔ جب تفتیش شروع ہوئی تو یہی لوگ گواہی کے لیے بلائے گئے۔ حیرت انگیز طور پر، ہر ایک نے ایک ہی نام لیا—وہی تاجر۔
مگر اصل بات یہ تھی کہ جس لمحے وہ حادثہ پیش آیا، قدرت کے حکم سے ان کی یادداشت اور ادراک پر ایک عجیب سا پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ انہیں وہ منظر اسی شکل میں دکھایا گیا جس میں تاجر کا شبہ پیدا ہو سکے۔ ان کے ذہن میں وہی چہرہ نقش ہو گیا جو حقیقت کے بجائے ایک آزمائش کا حصہ تھا۔
یوں جو لوگ سچے تھے، وہ بھی اپنی آنکھوں کے دیکھے ہوئے پر یقین کرتے ہوئے گواہی دے بیٹھے، اور ایک بے گناہ شخص قانون کی گرفت میں آ گیا۔
عدالت نے بظاہر مضبوط شواہد اور متفقہ گواہی کی بنیاد پر تاجر کو مجرم قرار دے دیا۔
اسی رات شہر کے دوسرے حصے میں وہ بڑھئی بھی سجدے میں تھا۔
وہ اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ ایک ایسا الزام، جو اسے تباہ کر سکتا تھا، اس سے ٹل گیا۔
اسی رات اس نے بھی خواب دیکھا۔
آواز آئی: “آج تمہاری نجات صرف اس لیے ہوئی کہ برسوں پہلے تم نے سخت سردی کی ایک رات ایک بے سہارا مسافر کو اپنے گھر میں جگہ دی تھی، اسے کھانا کھلایا تھا اور صبح خاموشی سے رخصت کر دیا تھا۔ اس مسافر نے جاتے ہوئے تمہارے لیے دل سے دعا کی تھی۔ آج وہ دعا تمہاری ڈھال بن گئی۔”
صبح ہوئی تو ایک شخص اپنی بددعا کا انجام دیکھ کر رو رہا تھا، اور دوسرا ایک بھولی ہوئی نیکی کا صلہ پا کر سجدۂ شکر ادا کر رہا تھا۔
اخلاقی سبق:
انسان اپنے اعمال کو بھول جاتا ہے، مگر نہ کسی مظلوم کی آہ ضائع ہوتی ہے اور نہ کسی بے لوث نیکی کی دعا۔ بعض فیصلے زمین کی عدالتوں میں نہیں، آسمان کی عدالت میں محفوظ رہتے ہیں، جہاں نہ کوئی جھوٹا گواہ کام آتا ہے، نہ دولت، نہ طاقت۔ اس لیے کسی پر ظلم کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ شاید اس کی ایک آہ برسوں بعد ہماری زندگی کا فیصلہ بن جائے، اور کسی کے ساتھ کی گئی ایک چھوٹی سی نیکی کسی دن ہماری سب سے بڑی نجات کا سبب بن جائے۔
اس طرح کہانی لکھ کر دی مطلب وہ جو قتل بڑھائی سے ہوا تھا تو اس سے جو ہے نا ایسا ہوا کہ اس سے اس کے الزام میں وہ تاجر کو گرفتار کر دیا گیا اور وہ لوگ جو دیکھا تھا اور ا کر بتایا تھا کہ یہی ہے وہ شخص اصل میں وہ سچے تھے بددعا جو تھی اس کے اس کی صورت میں سے بنا دی گئی تھی تو اس طرح کچھ کام ہونی چاہیے۔


