اللہ کی لاٹھی

اللہ کی لاٹھی

ایک جاگیردار کے پاس ایک غریب فیملی بطور ملازم مقیم تھی وہ لوگ ساڑھے چار لاکھ روپے کے مقروض تھے ان کا قرض تقریبا ادا ہونے والا تھا جاگیردار کی خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح یہ مزید مقروض ہو جائے کیونکہ وہ لوگ محنتی تھے اور شریف بھی تھے ان میں کسی قسم کی کوئی برائی یا عیب نہیں تھا لہذا وہ وڈیرا چاہتا تھا کہ یہ لوگ یہاں ہی رہیں پہلے پہلے اس نے اس بات کے لیے ان کو طرح طرح کے لالچ دئیے مگر ان لوگوں نے کہا کہ ہم اپنا قرض ادا کرنے کے بعد اپنے وطن (آبائی علاقے) واپس جانا چاہتے ہیں اس کے بعد اس جاگیردار نے ان پر تھوڑی بہت سختی بھی کی یہاں تک کہ عید ا گئی عید تک تقریبا وہ لوگ اپنا قرض اتار چکے تھے انہوں نے جاگیردار سے کہا کہ ہمارا حساب کتاب کر دو جاگیردار نے ان سے کچھ دن کا وقت مانگا اور اسی دوران ان کو مزید مقروض کرنے کا سوچنے لگا جب اسے اور کوئی صورت نظر نہ ائی تو اس نے ان کے ایک چھوٹے سے بیٹے کو کھاد والا پانی کھول کر پلا دیا جس سے اس بچے کی حالت بگڑ گئی جو لوگ اس علاقے کے مقیم ہیں انہیں پتہ ہوگا کہ وہاں ہسپتال قریب نہیں ہوتے کافی دور جانا پڑتا ہے اور پھر جو ایسے ملازمین ہوتے ہیں ان کو ویران جگہوں پر بنائے گئے ڈیروں وغیرہ پر رکھا جاتا ہے کیونکہ ان کا کام فصلوں اور جانوروں کی دیکھ بھال ہوتا ہے وہ لوگ ابادی سے کہیں دور ہوتے ہیں جب ان کے بچے کی حالت بگڑ گئی تو انہیں فکر ہونے لگی وہ ڈیرے سے دوڑ کر گاؤں پہنچے کیونکہ ان کے پاس ذاتی کوئی سواری نہیں تھی گاؤں پہنچ کر انہوں نے جاگیردار کی منت سماجت کی اور انہیں بچے کی حالت کا بتایا گو کہ جاگیردار خود اپنے سارے عمل سے اچھی طرح واقف تھا لیکن اس کے باوجود اس نے عارضی سی فکر مندی ظاہر کی مگر ان کے ساتھ چل کر ڈیرے تک نہ گیا بلکہ انہیں صاف جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپ لوگوں کا قرض تقریبا اتر چکا ہے اب اگر میں اپ کے ساتھ جاؤں گا اور خرچہ کروں گا تو اپ لوگ پھر مقروض ہو جاؤ گے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اپ لوگ میرا قرض پھر اتار کر جاؤ گے کیونکہ عید قریب ہے اور اپ لوگ کہہ رہے ہو کہ اپ نے عید جا کر اپنے گاؤں میں کرنی ہے

جو لوگ صاحب اولاد ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ جب اپ کی اولاد مر رہی ہو اور اپ کے پاس اتنے پیسے بھی نہ ہوں کہ اس کو ہسپتال لے کر جا سکیں اور اس کی جان بچا سکے بلکہ پاس اتنا سرمایہ بھی نہ ہو کہ اس کی موت کے بعد اس کے کفن دفن کے انتظام کر سکیں تو پھر اپ کتنے مجبور ہوتے ہیں بالکل یہی حالت اس مقروض فیملی کی تھی انہوں نے جاگیردار کو ضمانت دی کہ تم کسی بھی طرح کر کے ہمارے بچے کی جان بچا لو ہم تمہارا جتنا خرچہ ایا وہ ادا کر کے یہاں سے جائیں گے اتنا عرصہ تمہارے پاس کام کریں گے جب تک ہمارا قرض نہ اتر گیا لیکن جاگیردار انتہائی شاطر تھا وہ جانتا تھا کہ اگر بچے کی جان بچ گئی تو یہ کم مقروض ہوں گے لیکن اگر بچہ مر گیا تو پھر ان لوگوں کو زیادہ قرض اٹھانا پڑے گا کیونکہ انہیں بچے کے کفن دفن کا انتظام کرنا ہوگا اسے اپنے ابائی علاقے لے کر جانا ہوگا جس پر بہت زیادہ خرچ ہوگا یوں وہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا دوسری طرف بچے کی طبیعت بگڑتی گئی یہاں تک کہ جب اس جاگیردار کو یقین ہو گیا کہ اب اس بچے کی جان نہیں بچ پائے گی تو وہ ان لوگوں کے ساتھ چل پڑا ایک گاڑی کا انتظام کروایا اسے لے کر ہسپتال پہنچا وہاں اس کا علاج معالجہ کروایا اس علاج معالجے کا بل لاکھ روپے بنوا دیا دوسری طرف بچے کی جان بھی نہ بچ سکی اب بچے کی تدفین اور اس کی لاش ابائی حلقے میں بھیجنے پر بھی اخراجات انے تھے وہ بھی اس جاگیردار نے برداشت کیے یوں وہ فیملی ایک بار پھر دو سے اڑھائی لاکھ روپے کی مقروض ہو گئی اب جاگیردار کو یہ وہم ستانے لگا کہ اگر یہ تمام لوگ واپس اپنے ابائی حلقے گئے تو پتہ نہیں دوبارہ میرے پاس ائیں گے یا نہیں لہذا اس نے فوت ہو جانے والے بچے کے باپ کو بچے کی اخری رسومات میں جانے کی اجازت نہ دی اسے اپنے پاس روک لیا اس کی والدہ اور باقی بہن بھائیوں کو ایمبولینس کروا کے دی اور انہیں روانہ کر دیا گو کہ بچے کے باپ نے ہر طرح کی ضمانت دی لیکن جاگیردار اس بات پہ راضی نہ ہوا یوں وہ مجبور باپ اپنی اولاد کی قبر کو نہ دیکھ سکا اپنے ہاتھ سے اپنی اولاد کی قبر پہ مٹی نہ ڈال سکا اور وہیں جاگیردار کے پاس سسکتا رہا کیونکہ وہ مجبور تھا

ایک عرصے بعد اس جاگیردار پہ بھی زوال آیا اس کا ایک ہی بیٹا جو کہ بیرون ملک مقیم تھا وہ کسی ٹریفک حادثے میں مرا تو اس کی لاش جل گئی لاش اس قابل نہ رہی کہ اس کو اپنے وطن پاکستان لایا جا سکے مجبورا اس کو وہیں دفن کر دیا گیا اور یہ ظالم جاگیردار تمام وسائل ہوتے ہوئے بھی اپنی اولاد کو قبر میں نہیں اتار سکا اپنی اولاد کی قبر پہ اپنے ہاتھوں سے مٹی نہیں ڈال سکا یوں جیسا ظلم اس نے کیا تھا اسی طرح کا بدلہ و انتقام قدرت نے اس سے لے لیا
یاد رکھیں جب بھی ہم مخلوق خدا پر ظلم کرتے ہیں تو پھر بھلے ہی وہ ہم سے بدلہ لے یا نہ لے قدرت وقت انے پر ہم سے انتقام ضرور لیتی ہے دانا لوگ اس بات کو سمجھ لیتے ہیں کہ ان سے کہیں نہ کہیں غلطی ہوئی ہے وہ تبھی اس عذاب یا ازمائش میں مبتلا ہوئے ہیں جبکہ کم عقل لوگ اس چیز کو بس ایک حادثہ سمجھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں دوبارہ اپنی ڈگر پر واپس ا جاتے ہیں اور خلق خدا پر ظلم کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اخر ان کو بھی موت ا لیتی ہے ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اج بھی اپنے گناہوں سے توبہ کریں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کریں اور راہ ہدایت کی طرف لوٹ ائیں ہو سکتا ہے کل کو ہمیں یہ مہلت نہ ملے۔

Leave a Reply

NZ's Corner