کسی ملک میں بادشاہ کے بیشتر درباری اس کے مشیرِ خاص کی مقبولیت کی وجہ سے اس سے حسد کرتے تھے۔وہ مشیرِ خاص کو نا پسند کرنے لگے تھے اور اسے دربار سے نکلوانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔وہ سارے خود کو چالاک اور عقل مند سمجھتے تھے اور سب سر جوڑ کے اس کے خلاف سازش کر رہے تھے۔
ایک درباری نے کہا:”ہم سب مشیرِ خاص کو ذلیل کر کے دربار سے نکلوانے کے کئی طریقے آزما چکے ہیں، لیکن اب تک کامیاب نہ ہو سکے۔“
”پچھلی باتوں کو چھوڑو۔“ دوسرے درباری نے غصے سے کہا:”اس مرتبہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔“
”میرے دماغ میں ایک ترکیب آئی ہے۔“ تیسرے درباری نے کہا:”ہم سب ملکہ معظمہ کے پاس جائیں گے۔ان کا بھائی شکار کھیلنے اور نئے نئے کپڑے پہننے کا شوقین ہے۔
ہم ملکہ سے کہیں گے کہ ان کا بھائی مشیرِ خاص سے زیادہ عقل مند اور قابل ہے۔لہٰذا مشیرِ خاص کا منصب اس کے بھائی کو ملنا چاہیے۔ملکہ یہ بات سن کر خوش ہوں گی اور مشیرِ خاص کو دربار سے نکلوانے میں ہماری مدد کریں گی۔“
وہ سب مل کر ملکہ کے پاس پہنچے اور اپنا یہ خیال ظاہر کیا۔ملکہ خوش ہو کر بولی:”تجویز تو بہت اچھی ہے۔میں بادشاہ سے فوری طور پر بات کروں گی کہ مشیرِ خاص کو نکال کر اس کی جگہ میرے بھائی کو فائز کر دیں۔
“
پھر ملکہ نے ایک کنیز کو بلا کر کہا:”بادشاہ سلامت سے جا کر کہو کہ میں نے بھوک ہڑتال کر دی ہے۔میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گی، جب تک بادشاہ اپنے مشیرِ خاص کو اس کے عہدے سے ہٹا کر میرے بھائی کو اس کی جگہ مقرر نہیں فرما دیں گے۔“
بادشاہ کو اپنی چہیتی ملکہ کا پیغام ملا تو وہ پریشان ہو گیا۔وہ فوراً محل میں ملکہ کے پاس پہنچ گیا اور فکر مندی سے پوچھا:”ملکہ! یہ آپ نے کیسا پیغام بھجوایا ہے! میں اپنے مشیرِ خاص کو کیسے ہٹا سکتا ہوں، جبکہ اس نے کوئی غلطی بھی نہیں کی، نہ کوئی جرم کیا۔
دربار میں چھوٹے بڑے سب اس کی تعریف کرتے ہیں۔سب اسے میرا بہترین مشیر کہتے ہیں۔“
”یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔میں خود کسی تدبیر سے اسے رسوا کر دوں گی۔“
بادشاہ یہ سن کر بہت پریشان ہوا۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ملکہ میرے مشیر کو دربار سے کیسے نکلوائے گی! وہ مشیرِ خاص کو نکالنے کے حق میں نہیں تھا، مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی پیاری ملکہ بھوک سے مر جائے۔
وہ ملکہ کی ضد اور ہٹ دھرمی سے بھی واقف تھا کہ ملکہ ایک مرتبہ جو بات سوچ لیتی ہے، اسے کر کے چھوڑتی ہے۔اس نے ایک گہری سانس لی اور کہا:”اچھی بات ہے ملکہ! تم کوشش کر کے دیکھو، لیکن یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو کہ اس کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔وہ بہت عقل مند اور ہوشیار آدمی ہے۔اس سے پہلے بھی کئی لوگ اسے بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں۔
مشیرِ خاص نے ان سب کو بے وقوف بنا دیا تھا۔وہ بے چارے خود شرمندہ ہو گئے تھے۔“
ملکہ نے فخر سے سر اونچا کر کے کہا:”میں آج رات ہی اسے بلا کر محل سے نکلوا دوں گی۔“
حاسد درباری ملکہ کا پیغام لے کر مشیر کے پاس پہنچ گئے۔ایک درباری نے کہا:”ہم سب پریشان ہیں، کیونکہ بادشاہ اور ملکہ میں کوئی ایسی بات ہو گئی ہے کہ ملکہ نے بھوک ہڑتال کر دی ہے۔
ہم نے ملکہ سے کہا کہ آپ وہ واحد شخص ہیں جو بادشاہ کی ناراضی دور کر سکتے ہیں۔ملکہ عالیہ نے مشورے کے لئے آپ کو طلب کیا ہے۔آپ سارے کام چھوڑ کر ہمارے ساتھ چلیے۔“
مشیرِ خاص مسکرا دیا۔وہ ان حاسد درباریوں سے اچھی طرح واقف تھا۔وہ جانتا تھا کہ یہ سب اسے دربار سے نکلوانے کی فکر میں ہیں۔مشیر سمجھ گیا کہ ضرور یہ ان حاسد درباریوں کی کوئی چال ہے۔
اس مرتبہ مجھے دربار سے نکلوانے کے لئے انھوں نے ملکہ عالیہ کی مدد حاصل کی ہے۔بادشاہ اپنی ملکہ کو بہت چاہتا ہے، وہ اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا۔اب مجھے ہٹانے کے لئے ان حاسدوں کو کسی بہانے کی تلاش ہے۔مشیر نے بلند آواز میں کہا:”ملکہ عالیہ سے جا کر کہہ دو کہ میں ابھی حاضر ہوتا ہوں۔“
جب وہ سب چلے گئے تو مشیرِ خاص نے ملکہ کے پاس جانے سے پہلے اپنے خادم کو طلب کیا اور کہا:”میرے ساتھ تم بھی محل چلو۔
میں ملکہ عالیہ کے کمرے میں ان سے بات کروں گا۔اس دوران تم کمرے میں داخل ہو کر میرے کان میں کھسر پھسر شروع کر دینا، اس طرح جیسے تم مجھے کوئی راز کی بات بتا رہے ہو، پھر تم کمرے سے باہر چلے جانا۔“
خادم نے مشیر کے حکم کی تعمیل کی۔ملکہ حیرت سے اسے دیکھتی رہی۔اس کی سمجھ میں یہ ماجرا نہیں آیا کہ مشیر اچانک ہی پریشان اور اُداس دکھائی دینے لگا۔
خادم کے جانے کے بعد ملکہ نے مشیرِ خاص سے پوچھا:”تمہارا خادم کیا کہہ رہا تھا؟“
”وہ ایسی بات ہے ملکہ عالیہ! کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔“ مشیر نے کہا:”آپ اسے سن کر پریشان اور اُداس ہو جائیں گی۔“
”اس کی فکر نہ کرو۔“ ملکہ نے کہا:”بتاؤ، کیا بات ہے؟ جلدی سے بتاؤ، ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی۔“
مشیرِ خاص نے اُداسی سے اپنا سر جھکا لیا اور رونے والے انداز میں کہا:”اگر آپ اصرار کرتی ہیں تو بتائے دیتا ہوں۔
بات یہ ہے کہ بادشاہ سلامت نے مجھے فوراً طلب کیا ہے۔انھوں نے فرمایا کہ وہ ملکہ کی فرمائشوں سے سخت بیزار ہو چکے ہیں اور ملکہ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔وہ مجھ سے کوئی ایسی تدبیر پوچھنا چاہتے ہیں، جسے بہانہ بنا کر وہ آپ کو طلاق دے دیں اور دوسری ملکہ لے آئیں۔“
ملکہ خوف سے کانپنے لگی۔اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ التجا آمیز لہجے میں بولی:”تم فوراً بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ اور ان کی بدگمانی دور کرو۔میری طرف سے ان سے معافی مانگو اور انھیں منانے کی کوشش کرو۔وہ تمہاری ہر بات مانتے ہیں، یہ بھی مان جائیں گے۔میں تم سے التجا کرتی ہوں کہ میری طرف سے ان کا دل صاف کر دو۔میں بھی تمہارے جانے کے بعد انھیں منانے کی کوشش کروں گی۔“
آپ کو جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ملکہ عالیہ! مشیرِ خاص نے کہا:”میں آپ کی طرف سے انھیں منا لوں گا۔
“
پھر بھی ملکہ کی تسلی نہیں ہوئی۔مشیرِ خاص کے جاتے ہی ملکہ، بادشاہ سلامت کے پاس پہنچ گئی۔ان کے قدموں میں گر پڑی اور روتے ہوئے بولی:”شہنشاہِ معظم! مجھے معاف کر دیں، عالی مقام! مجھے بخش دیں۔میں کوئی فرمائش نہیں کروں گی۔مجھے طلاق مت دیں۔میں نے ایسی کونسی خطا کی ہے کہ آپ مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔وہ تو اچھا ہوا کہ آپ کے مشیرِ خاص نے بَروقت مجھے بتا دیا۔
وہ بہت اچھے انسان ہیں، بہت نیک اور شریف آدمی ہیں۔اگر انھوں نے مجھے آپ کی ناراضگی کے بارے میں نہ بتایا ہوتا تو میں تباہ و برباد ہو جاتی۔“
اب اصل بات بادشاہ کی سمجھ میں آ گئی۔وہ دل ہی دل میں اپنے مشیرِ خاص کی ذہانت کا قائل ہو گیا۔اس نے ملکہ سے کہا:”اچھا تو پھر اسے ہٹا کر تمہارے بھائی کو مشیرِ خاص نہ رکھوں؟“
”نہیں نہیں، آپ کا مشیر نہایت لائق انسان ہے۔آپ چاہیں تو میرے بھائی کو کوئی اور منصب عطا کر دیجیے، مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔“
یہ کہہ کر ملکہ خوشی خوشی وہاں سے چلی گئی اور بادشاہ نے سکون کی سانس لی۔
