ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ
ہمیشہ پریشان اور بے چین رہتا تھا۔ جنگل کے تقریباً تمام جانور کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی خوراک جمع کرتا، کوئی اپنا گھر بناتا اور کوئی اپنے بچوں کی پرورش میں لگا رہتا، مگر چوہے کے پاس کرنے کو کوئی خاص کام نہ تھا۔
جنگل کے جانور اکثر اسے طعنے دیتے۔
“کب تک فارغ پھرو گے؟”
“زندگی صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں، کچھ کرنا بھی پڑتا ہے!”
لیکن چوہا ہمیشہ سینہ تان کر ایک ہی جواب دیتا:
“تم لوگ دیکھ لینا، میں کوئی بہت بڑا کام کروں گا۔ ایسا کام کہ پورا جنگل میرا نام لے گا۔”
اس کی ایک گلہری دوست تھی جو اسے دل سے چاہتی تھی۔ وہ اکثر اسے سمجھاتی:
“بڑے کام اچھی بات ہیں، مگر ان کی شروعات چھوٹے قدموں سے ہوتی ہے۔ پہلے کچھ سیکھو، پھر کوئی کام شروع کرو۔”
لیکن چوہا اس کی بات سن کر ہنس دیتا۔
ایک دن جنگل کے سامنے بہنے والی ندی پر چند شکاری آئے۔ انہوں نے پورا دن شکار کی کوشش کی مگر کوئی جانور ہاتھ نہ آیا۔ شام ہونے لگی تو انہوں نے سوچا کہ خالی ہاتھ واپس جانا مناسب نہیں، اس لیے ندی سے مچھلیاں ہی پکڑ لیتے ہیں۔
انہوں نے کانٹے والی کنڈیاں پانی میں ڈالیں۔
چوہا دور بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں ایک شکاری نے مچھلی پکڑ لی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔
چوہا حیرت سے یہ سب دیکھتا رہا۔
شکاریوں نے چند گھنٹوں میں اتنی مچھلیاں پکڑ لیں جتنی جنگل کے کئی جانور کئی دن میں بھی جمع نہ کر پاتے تھے۔
شام ڈھلے شکاری چلے گئے۔ جلدی میں ایک کنڈی، دھاگا اور کچھ سامان وہیں رہ گیا۔
چوہے کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
وہ خوشی سے اچھل پڑا۔
“بس! مجھے مل گیا وہ بڑا کام جس کی میں تلاش میں تھا۔”
اس نے سوچا:
“یہ لوگ چند گھنٹوں میں اتنا کچھ کما گئے۔ اب میں بھی یہی کروں گا۔ مچھلیاں پکڑوں گا، جنگل میں بیچوں گا اور سب سے امیر جانور بن جاؤں گا۔”
اگلی صبح وہ بڑی شان سے کنڈی اٹھائے ندی کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں گلہری مل گئی۔
اس نے حیرت سے پوچھا:
“یہ کیا اٹھا رکھا ہے؟”
چوہے نے فخر سے سارا منصوبہ سنایا۔
گلہری نے کچھ دیر سوچا اور کہا:
“اچھا، پھر میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔”
دونوں ندی کے کنارے پہنچ گئے۔
انہوں نے کنڈی میں چارہ لگایا اور پانی میں ڈال دیا۔ دھاگے کا دوسرا سرا ایک مضبوط درخت سے باندھ دیا تاکہ اگر کوئی بڑی مچھلی پھنس جائے تو وہ نکل نہ سکے۔
پھر دونوں انتظار کرنے لگے۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دھاگا زور زور سے ہلنے لگا۔
پانی میں چھپاکے پڑنے لگے۔
دونوں خوشی سے اچھل پڑے۔
“شکار پھنس گیا!”
وہ دوڑ کر درخت کے پاس پہنچے۔
دھاگا اس قدر زور سے کھنچ رہا تھا کہ لگتا تھا کوئی بہت بڑی مچھلی پھنس گئی ہے۔
چوہا خوشی سے بولا:
“آج تو قسمت کھل گئی!”
دونوں نے جلدی سے دھاگا درخت سے کھول دیا تاکہ شکار کو اپنی طرف کھینچ سکیں۔
لیکن انہوں نے ایک بات کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔
دوسری طرف موجود مچھلی ان دونوں سے کہیں زیادہ طاقتور تھی۔
جیسے ہی دھاگا درخت سے آزاد ہوا، مچھلی نے پوری قوت سے جھٹکا مارا۔
چوہا اور گلہری سنبھل بھی نہ پائے۔
ایک ہی لمحے میں دونوں پانی کی طرف گھسٹنے لگے۔
پہلے ان کے پاؤں پھسلے۔
پھر وہ ندی کے کنارے سے نیچے جا گرے۔
پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔
دونوں نے جان بچانے کی کوشش کی۔
ہاتھ پاؤں مارے۔
چلائے۔
مگر نہ انہیں تیرنا آتا تھا اور نہ اس طاقتور دھارے کا مقابلہ کرنا۔
چند لمحوں بعد دونوں پانی کی لہروں میں گم ہو گئے۔
ندی بہتی رہی۔
درخت خاموش کھڑا رہا۔
اور کنارے پر پڑی ہوئی کنڈی سورج کی روشنی میں چمکتی رہی۔
کچھ دن بعد جنگل کے جانوروں نے ان دونوں کی کہانی سنی تو ایک بوڑھے کچھوے نے افسوس سے کہا:
“مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ بڑا کام کرنا چاہتے تھے، مسئلہ یہ تھا کہ وہ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر یہ بھول گئے تھے کہ ہر کام کے لیے صلاحیت، علم اور تجربہ بھی چاہیے ہوتا ہے۔”
حقیقت بھی یہی ہے۔
ہم اکثر کسی کو کامیاب دیکھتے ہیں تو اس کی کامیابی تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اس کے پیچھے چھپی محنت، مہارت اور برسوں کے تجربے کو نہیں دیکھتے۔ پھر ہم صرف نتیجہ دیکھ کر اسی راستے پر چل پڑتے ہیں، حالانکہ ہمارے پاس نہ وہ تیاری ہوتی ہے اور نہ وہ صلاحیت۔
اور بہت دفعہ انسان وہاں ڈوب جاتا ہے جہاں اسے لگتا ہے کہ وہ دوسروں کی طرح آسانی سے تیر لے گا۔
اخلاقی سبق:
دوسروں کی کامیابی کی نقل کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ کیا ہمارے اندر بھی وہ علم، صلاحیت اور تیاری موجود ہے یا نہیں۔ ہر کامیاب راستہ ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتا، اور اندھی تقلید اکثر انسان کو وہاں لے جاتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی۔
