ایک قدیم گاؤں میں چھ اندھے آدمی رہتے تھے جو اپنی سمجھ بوجھ کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک دن گاؤں میں ایک ہاتھی لایا گیا۔ چونکہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا جانور نہیں دیکھا تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہاتھی کے پاس جائیں گے اور اسے چھو کر یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔
پہلے آدمی نے ہاتھ بڑھا کر ہاتھی کے پہلو (پیٹ) کو چھوا۔ وہ پکار اٹھا: “کتنا ہموار اور سپاٹ ہے! ہاتھی تو بالکل ایک دیوار کی طرح ہے۔”
دوسرے آدمی نے ہاتھی کے دانت کو محسوس کیا۔ اسے ایک نوکیلی اور ہموار چیز ملی۔ اس نے بحث کرتے ہوئے کہا: “نہیں، نہیں، ہاتھی بہت تیز دھار اور خطرناک ہے۔ یہ تو بالکل ایک نیزے جیسا ہے۔”
تیسرے آدمی کے ہاتھ میں ہاتھی کی سونڈ آئی، جو ہل جل رہی تھی۔ اس نے کہا: “تم دونوں غلط ہو۔ ہاتھی لمبا اور لچکدار ہے۔ یہ تو ایک عظیم الجثہ سانپ کی طرح ہے۔”
چوتھے آدمی نے اپنے ہاتھ پھیلا کر ہاتھی کی ٹانگ کو تھاما۔ اس نے کہا: “یہ موٹی، گول اور مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ہاتھی تو درخت کے تنے جیسا ہوتا ہے۔”
پانچواں آدمی، جو کافی لمبا تھا، اس نے ہاتھی کے کان کو چھوا۔ “یہ تو پتلا ہے اور آگے پیچھے ہلتا ہے۔ ہاتھی ایک بڑے پنکھے کی طرح ہے،” اس نے کہا۔
چھٹے آدمی نے ہاتھی کی دم پکڑ لی۔ اس نے چلا کر کہا: “تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ تم کیا بات کر رہے ہو۔ ہاتھی پتلا اور تار نما ہے۔ یہ بالکل ایک رسی کے ٹکڑے جیسا ہے۔”
ان آدمیوں کے درمیان زور دار بحث شروع ہوگئی۔ ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ درست ہے، اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے، یہ سمجھتے ہوئے کہ باقی سب جھوٹ بول رہے ہیں یا بیوقوف ہیں۔ وہاں سے گزرتے ہوئے ایک دانا بادشاہ نے شور سن کر پوچھا کہ کیا معاملہ ہے۔ ان کی بحث سننے کے بعد بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“تم سب اپنی جگہ درست ہو اور تم سب غلط بھی ہو۔ تم میں سے ہر ایک نے جانور کے صرف ایک حصے کو چھوا ہے۔ مکمل حقیقت جاننے کے لیے تمہیں ان تمام حصوں کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔”
حاصلِ سبق:
ذاتی تجربہ بمقابلہ مکمل حقیقت: ہر انسان دنیا کو اپنے تجربات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ اگر کوئی چیز آپ سے مختلف دیکھ رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غلط ہے؛ ہو سکتا ہے وہ “ہاتھی کا کوئی دوسرا حصہ” دیکھ رہا ہو۔
مکمل سچ: تنازعات اکثر تب ہوتے ہیں جب ہم اپنے سچ کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو ہی مکمل سچ سمجھ لیتے ہیں۔ کسی مسئلے کا اصل حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں دوسروں کی بات سننی چاہیے اور اپنے علم کو یکجا کرنا چاہیے۔
تکبر سے گریز: اپنے تجربے پر “درست” ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کو پوری حقیقت کا علم ہے۔ عاجزی ہی ہمیں بڑی حقیقت کو دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔
