انوکھا حساب۔

انوکھا حساب۔

ملا نصیرالدین کا انوکھا حساب🤣….. ایک مزاحیہ کہانی

ایک دن ملا نصیرالدین حمام گئے۔ ان کے کپڑے اتنے پرانے اور پھٹے ہوئے تھے کہ دیکھنے والا فوراً یہی سمجھے کہ یہ کوئی غریب آدمی ہیں۔

حمام کے خادم نے بھی یہی سوچا۔ اس نے نہ خاص توجہ دی، نہ اچھی خدمت کی۔ تولیہ بھی ایسے لا کر دیا جیسے کوئی احسان کر رہا ہو۔

مگر جب ملا نصیرالدین جانے لگے تو انہوں نے خادم کو اچھی خاصی بخشش دے دی۔

خادم حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “اگر معمولی خدمت پر اتنی بخشش ملی ہے تو اگلی بار خوب خدمت کروں گا!”

ایک ہفتے بعد ملا نصیرالدین دوبارہ حمام پہنچے۔

اس بار خادم دوڑتا ہوا آیا۔ بڑے ادب سے استقبال کیا، بہترین تولیہ دیا، گرم پانی کا انتظام کیا اور ہر طرح کی خدمت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔

وہ دل ہی دل میں بڑی بخشش کا انتظار کر رہا تھا۔

لیکن جب ملا نصیرالدین جانے لگے تو انہوں نے صرف ایک چھوٹا سا سکہ خادم کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

خادم کا چہرہ اتر گیا۔ آخر اس سے رہا نہ گیا، بولا:

“حضور! پچھلی بار میں نے آپ کی کوئی خاص خدمت نہیں کی تھی، پھر بھی آپ نے بڑی بخشش دی۔ آج میں نے دل لگا کر خدمت کی ہے، پھر یہ معمولی سا سکہ کیوں؟”

ملا نصیرالدین مسکرائے اور بولے:

“بھائی! پچھلی بار جو بڑی بخشش دی تھی، وہ آج کی اچھی خدمت کا پیشگی انعام تھا۔ اور آج جو چھوٹا سکہ دیا ہے، وہ پچھلی بار کی ناقص خدمت کا بدلہ ہے۔”

پھر ہنستے ہوئے بولے:

“میں حساب ہمیشہ برابر رکھتا ہوں!”

لوگوں کے ساتھ ان کے لباس یا ظاہری حالت کو دیکھ کر برتاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ عزت اور اچھا سلوک ہر انسان کا حق ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner