انوکھا نکاح

انوکھا نکاح



مصر کے ایک شاہی قلعے میں اٹھارہ سالہ نوجوان قید تھا۔ اگلی صبح اُسے پھانسی دی جانی تھی، مگر اُس کے چہرے پر خوف کے بجائے عجیب سا سکون تھا۔

سلطان نے آخری خواہش پوچھی تو نوجوان نے دھیمی آواز میں کہا:

”حضور! میں مرنے سے پہلے نکاح کرنا چاہتا ہوں، تاکہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کوئی میرے لیے دعا کرنے والا ہو۔“

یہ سن کر پورا دربار حیران رہ گیا۔ سلطان نے اعلان کیا کہ جو شخص اپنی بیٹی کا نکاح اس نوجوان سے کرے گا، اُسے انعام دیا جائے گا۔

مگر کوئی آگے نہ بڑھا۔

آخر ایک بوڑھا شخص اپنی بیٹی کے ساتھ سامنے آیا۔ اُس نے نوجوان کی بے بسی دیکھ کر نکاح کی رضامندی دے دی۔ یوں اسی رات سادگی سے نکاح ہوگیا۔

نوجوان نے اپنی دلہن سے صرف اتنا کہا:

”میرے لیے دعا کرنا، شاید اللہ میری مشکل آسان فرما دے۔“

رات عبادت اور دعاؤں میں گزر گئی۔ دلہن قرآن پڑھتی رہی اور نوجوان اپنے رب کے حضور فریاد کرتا رہا۔ 🤲

صبح ہوئی تو سپاہی اُسے پھانسی کے لیے دربار میں لے آئے۔ سلطان حکم سنانے ہی والے تھے کہ ایک وزیر تیزی سے اندر داخل ہوا۔

اُس کے ہاتھ میں ایک خط تھا!

وزیر نے بتایا کہ اصل مجرم گرفتار ہو چکا ہے اور نوجوان بے گناہ ثابت ہو گیا ہے۔

سلطان نے فوراً اُس کی زنجیریں کھولنے کا حکم دیا۔ نوجوان کی جان بچ گئی اور اُسے ایک نئی زندگی مل گئی۔

یوں جس رات وہ موت کے انتظار میں تھا، وہی رات اُس کی زندگی کا نیا آغاز بن گئی۔ ❤️

✨ کہانی کا سبق

زندگی میں مایوسی کے کتنے ہی اندھیرے کیوں نہ ہوں، امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ دعا کریں، صبر سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اچھا گمان رکھیں۔

ہم مستقبل نہیں جانتے، لیکن کبھی کبھی حالات ایسے بدلتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلات آسان فرمائے اور ہمیں ہر حال میں صبر، ہمت اور امید عطا فرمائے۔ آمین!

آپ کے خیال میں مشکل وقت میں انسان کو سب سے زیادہ طاقت کس چیز سے ملتی ہے: دعا، صبر یا امید؟ کمنٹس میں بتائیں۔ 💬

Leave a Reply

NZ's Corner