صحرا کی رات اپنے پورے جوبن پر تھی۔
سنہری ریت دن بھر سورج کی آگ سہنے کے بعد اب چاندنی کی ٹھنڈی چادر اوڑھے خاموش پڑی تھی۔ دور دور تک سکوت کا راج تھا، صرف ہوا کے نرم جھونکے ریت کے ذروں سے راز و نیاز کر رہے تھے۔
ایک بدوی اپنے وفادار اونٹ کے ساتھ ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھا تھا۔ قریب ہی آگ کی ننھی سی لو جھلملا رہی تھی اور آسمان ستاروں سے اس طرح بھرا ہوا تھا جیسے کسی مصور نے سیاہ مخمل پر چاندی کے ہزاروں موتی ٹانک دیے ہوں۔
بدوی نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے اپنے اونٹ سے کہا:
“اے صحرا کے جہاز! کیا تم جانتے ہو کہ یہ ستارے کیا ہیں؟”
اونٹ نے گردن ہلائی، ایک لمبی سانس لی اور بڑے اطمینان سے بولا:
“ہاں، یہ میرے قدموں کے نشان ہیں۔”
بدوی چونک گیا۔
“تمہارے قدموں کے نشان؟”
اونٹ نے فخر سے سر اونچا کیا۔
“جی ہاں! جب میں بہت عرصہ پہلے آسمان کے سفر پر نکلا تھا، تب میرے قدم جہاں جہاں پڑے، وہاں یہ روشن نشان رہ گئے۔”
بدوی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
“اونٹ میاں! تم آسمان پر کیسے چل سکتے ہو؟”
اونٹ نے ایسے دیکھا جیسے سوال ہی بے معنی ہو۔
“جس طرح تم صحرا میں چلتے ہو، میں بھی ویسے ہی چلا تھا۔ ایک قدم، پھر دوسرا قدم، پھر تیسرا قدم۔”
بدوی نے ہنسی روکتے ہوئے پوچھا:
“مگر آسمان تک پہنچے کیسے؟”
اونٹ نے جواب دیا:
“ایک دن مجھے لگا کہ صحرا بہت چھوٹا ہو گیا ہے۔ ہر طرف ایک ہی ریت، ایک ہی ہوا، ایک ہی افق۔ تو میں نے سوچا، کیوں نہ راستہ بدل کر آسمان میں سفر کیا جائے؟”
بدوی اب پوری دلچسپی سے سن رہا تھا۔
اونٹ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
“میں ستاروں کے درمیان چلتا رہا۔ وہاں نہ ریت تھی، نہ پیاس، نہ لمبے سفر کی تھکن۔ صرف خاموشی تھی اور روشنی۔”
بدوی نے حیرت سے پوچھا:
“پھر تم نے وہاں قدموں کے نشان کیوں چھوڑے؟”
اونٹ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی اتر آئی۔
وہ بولا:
“میں چاہتا تھا کہ دوسرے اونٹ بھی میرے پیچھے آئیں۔ میں نے ہر قدم پر ایک روشن نشان چھوڑا تاکہ وہ راستہ نہ بھولیں۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر بدوی نے پوچھا:
“کیا کوئی آیا؟”
اونٹ نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
“نہیں۔”
“کیوں؟”
اونٹ نے آسمان سے نظریں ہٹا کر صحرا کی ریت پر ڈال دیں۔
“شاید وہ سب اپنے قدموں کے نشان ریت میں دیکھتے رہے۔ کسی نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ہی نہیں۔”
ہوا کا ایک جھونکا آیا اور آگ کی لو ہلکی سی لرز گئی۔
بدوی نے دوبارہ آسمان کی طرف دیکھا۔
اب اسے ستارے صرف ستارے نہیں لگ رہے تھے؛ وہ خوابوں کے چراغ محسوس ہو رہے تھے، جو کسی بھولے بسرے مسافر نے دوسروں کے لیے جلائے تھے۔
اونٹ خاموشی سے بیٹھا رہا، اور آسمان اس کے فرضی قدموں کے نشانات سے جگمگاتا رہا۔
سبق
کچھ لوگ اپنے وقت سے آگے چلتے ہیں۔ وہ ایسے راستوں پر قدم رکھتے ہیں جہاں دوسروں کی نگاہ نہیں پہنچتی۔ ان کے چھوڑے ہوئے نشانات اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگ زمین کی دھول میں الجھے رہتے ہیں اور آسمان کی وسعتوں کی طرف دیکھنا بھول جاتے ہیں۔
🌙✨🐪
اور ایک صوفیانہ انداز میں:
“جو لوگ ستاروں میں راستے بناتے ہیں، ان کی تنہائی کا سبب یہی ہوتا ہے کہ دنیا ابھی ریت پر چل رہی ہوتی ہے۔”
