ایک پرانے اور خوبصورت شہر میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا جس کا نام رحمت تھا۔ رحمت صبح سویرے جنگل جاتا، سوکھی لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ انتہائی ایماندار اور خدا ترس انسان تھا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تھا۔
اس شہر کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا، لیکن وہ اکثر عام لباس پہن کر شہر کے حالات کا جائزہ لینے نکلتا تھا۔ ایک دن، جب رحمت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، تو اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ رحمت بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانے اور ویران غار کی طرف بھاگا۔
غار کے اندر اندھیرا تھا، لیکن جب رحمت اندر داخل ہوا تو اسے کونے میں ایک پرانی لکڑی کا صندوق نظر آیا۔ اس نے تجسس سے صندوق کھولا تو وہ حیرت سے دنگ رہ گیا! وہ ہیروں، موتیوں اور سونے کے سکوں سے بھرا ہوا تھا۔ رحمت نے دل میں سوچا: “یہ دولت یقیناً کسی کی چھوٹی ہوئی یا غائب کی گئی امانت ہے۔ اگر میں نے اسے اٹھا لیا تو یہ خیانت ہوگی۔ حرام کی کمائی سے سکون نہیں ملتا۔” اس نے اللہ کا شکر ادا کیا، صندوق کو وہیں بند کر دیا اور صرف اتنی لکڑیاں لے کر گھر واپس آ گیا جتنی روز لاتا تھا۔
دوسری طرف، بادشاہ کو اس غار کے بارے میں معلوم ہوا جہاں شاہی خزانے کا ایک گم شدہ صندوق چھپایا گیا تھا (جو دراصل ایک آزمائش تھی۔) بادشاہ نے خفیہ طور پر پتا لگایا کہ اس غار میں کون گیا تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ غریب لکڑہارا رحمت وہاں گیا تھا لیکن اس نے ایک دانہ بھی نہیں اٹھایا۔
بادشاہ بہت متاثر ہوا اور اس نے رحمت کو محل میں طلب کیا۔ جب رحمت دربار میں حاضر ہوا تو وہ ڈر گیا کہ شاید اس پر کوئی الزام لگا ہے۔ لیکن بادشاہ نے مسکرا کر اپنے تخت سے اتر کر اسے گلے لگایا اور سارا ماجرا سناتے ہوئے کہا: “اے رحمت! آج تو نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا میں ایمانداری اب بھی زندہ ہے۔ یہ خزانہ اب تیرا ہے، کیونکہ تو نے دولت سے زیادہ اپنے ضمیر کو مہنگا بیچا ہے۔”
کہانی کا سبق:
ایمانداری اور دیانت داری انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ محنت کی روٹی اگرچہ چھوٹی ہو لیکن اس میں جو سکون ہے، وہ بے ایمانی کے محلات میں کبھی نہیں ملتا۔

