ایک ننھا بچہ، خلیفہ اور سو دینا

ایک ننھا بچہ، خلیفہ اور سو دینا

ایک مرتبہ خلیفہ مامون الرشید اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گئے۔ سفر کے دوران ایک قبیلے کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ ایک کم سن لڑکا مشکیزہ بھر رہا ہے اور اپنے والد کو آواز دے رہا ہے:

“ابا جان! جلدی آئیے، مشکیزے کا منہ بند کر دیجیے، مجھ سے بند نہیں ہو رہا!”

مامون الرشید اس بچے کی فصاحت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا:

“بیٹے! تم کون ہو؟”

لڑکے نے اپنا نام بتایا اور فوراً پوچھ لیا:

“اور آپ کون ہیں؟”

مامون نے جواب دیا: “اولادِ آدم میں سے ہوں۔”

لڑکا بولا: “یہ تو سب ہیں، مگر اولادِ آدم میں آپ کا تعلق کس قوم سے ہے؟”

انہوں نے کہا: “سب سے بہتر قوم سے۔”

لڑکا بولا: “تو عرب سے ہیں۔ عرب کے کس قبیلے سے؟”

مامون نے کہا: “سب سے بہتر قبیلے سے۔”

لڑکے نے کہا: “پھر تو قبیلہ مضر سے ہوں گے۔ مگر اس کی کس شاخ سے؟”

مامون نے جواب دیا: “سب سے بہتر شاخ سے۔”

لڑکا فوراً بولا: “تو پھر آپ بنی ہاشم سے ہیں! مگر بنی ہاشم کے کس گھرانے سے؟”

مامون نے مسکرا کر کہا: “میں وہ ہوں جس پر بنی ہاشم کے لوگ رشک کرتے ہیں۔”

یہ سنتے ہی لڑکا پیچھے ہٹا اور ادب سے بولا:

“اے امیرالمؤمنین! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!”

مامون الرشید اس کی ذہانت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا:

“بیٹے! تمہیں کیا پسند ہے؟ ابھی سو درہم لے لو یا بعد میں ہزار درہم؟”

لڑکا فوراً بولا:

“میں آج کو کل پر نہیں ٹالتا۔ جو آج مل رہا ہے، اسے کل کے وعدے کے لیے کیوں چھوڑوں؟”

اتنے میں اس کا بوڑھا باپ باہر آیا۔ مامون نے لڑکے کو اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش ظاہر کی تو بوڑھے نے عرض کیا:

“اے امیرالمؤمنین! میں بوڑھا ہوں اور اس کی ماں بھی بوڑھی ہے۔ یہ ہمارے بڑھاپے کا واحد سہارا ہے، اسے ہم سے جدا نہ کیجیے۔”

مامون الرشید نے اس خاندان کی مجبوری کو سمجھا، سو دینار بطور انعام دیے اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔

سبق:
عمر چھوٹی ہو تو ضروری نہیں کہ عقل بھی چھوٹی ہو۔ ذہانت، فصاحت اور حاضر جوابی انسان کو کم عمری میں بھی دوسروں سے ممتاز کر دیتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner