بادشاہ کی آخری تین خواہشیں…….. ایک سبق آموز کہانی

بادشاہ کی آخری تین خواہشیں…….. ایک سبق آموز کہانی



بہت سی سلطنتیں فتح کرنے کے بعد، جب سکندر وطن واپس لوٹ رہا تھا تو راستے میں وہ بیمار پڑ گیا اور اس کی بیماری اسے موت کے بستر تک لے آئی۔ بسترِ مرگ پر اس کی خواہش تھی کہ مرنے سے پہلے وہ اپنی ماں سے مل سکے۔

لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کی بیماری اسے اپنے دور دراز وطن تک پہنچنے کا وقت نہیں دے گی۔ اسی لمحے سکندر کو ایک بات کا احساس ہوا۔ چنانچہ موت کا بے بسی سے انتظار کرتے ہوئے اس نے اپنے جرنیلوں کو بلایا۔

جب جرنیل اس کے پاس آئے تو اس نے کہا، “میری تین خواہشات ہیں۔ میرے مرنے کے بعد انہیں ضرور پورا کرنا۔”

سکندر نے کہا، “میری پہلی خواہش یہ ہے کہ… میرا تابوت صرف میرے طبیب ہی اٹھائیں۔”

“دوسری یہ کہ، قبرستان تک جانے والا راستہ ان تمام ہیروں اور قیمتی پتھروں سے بھر دیا جائے جو میں نے اپنے خزانے میں جمع کیے ہیں۔”

“تیسری اور آخری خواہش یہ ہے کہ میرے دونوں خالی ہاتھ تابوت سے باہر لٹک رہے ہوں۔”

یہ کہہ کر بادشاہ تھک گیا۔ بادشاہ کے گرد جمع جرنیل اس کی ان عجیب خواہشوں کو سمجھ نہ سکے، لیکن کسی میں سوال کرنے کی ہمت نہ تھی۔

چنانچہ بادشاہ کے قریبی جرنیلوں میں سے ایک اس کے پاس گیا، اس کا ہاتھ چوما اور کہا، “ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی خواہشات پوری کی جائیں گی، لیکن براہِ کرم ہمیں بتائیں کہ آپ نے ایسی عجیب خواہشات کیوں کیں؟”

سکندر نے گہری سانس لی اور کہا، “میں چاہتا ہوں کہ دنیا وہ تین سبق جان لے جو میں نے ابھی سیکھے ہیں۔”

“میری پہلی خواہش سے میں چاہتا ہوں کہ لوگ جان لیں کہ کوئی بھی ڈاکٹر دراصل کسی کو موت سے نہیں بچا سکتا۔ وہ بے بس ہیں اور کسی انسان کو موت کے پنجے سے نہیں نکال سکتے۔”

“میری دوسری خواہش یہ ہے کہ لوگوں کو بتاؤں کہ میں نے ساری زندگی دولت کے پیچھے دوڑ کر گزاری اور دولت کمانے میں عمر گنوا دی، لیکن میں اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لے جا سکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ دولت کے پیچھے بھاگنا وقت کا ضیاع ہے۔”

“اور اپنی آخری خواہش سے میں چاہتا ہوں کہ لوگ جانیں کہ میں اس دنیا میں خالی ہاتھ آیا تھا اور اس دنیا سے خالی ہاتھ ہی جاؤں گا۔”

سکندر کے آخری الفاظ یہ تھے:
“جب تم میرے جسم کو دفن کرو… تو کوئی یادگار نہ بنانا اور میرے ہاتھ باہر رکھنا، تاکہ دنیا جان لے کہ جس شخص نے پوری دنیا فتح کر لی، وہ مرتے وقت خالی ہاتھ تھا۔”

صحت، وقت، اور انسانیت دولت سے زیادہ قیمتی ہیں۔ ہم دنیا میں خالی ہاتھ آتے ہیں اور خالی ہاتھ جاتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner