بہت زمانہ پہلے چین کی ایک وسیع و عریض سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجیب و غریب خواہشات پالنے کا شوق تھا۔ کبھی وہ موسیقاروں سے ایسا راگ سننے کا مطالبہ کرتا جو بادلوں کو رُلا دے، اور کبھی شاعروں سے ایسی نظم لکھوانا چاہتا جو پتھروں کو ہنسا دے۔
ایک روز صبح دربار لگا تو بادشاہ کا موڈ بھی حسبِ معمول غیر معمولی تھا۔
اس نے شاہی باورچی کو طلب کیا، جو اپنی حاضر جوابی اور پاک فن میں کمال رکھتا تھا۔
باورچی ادب سے جھکا۔
“حکم فرمائیے، حضور!”
بادشاہ نے سنجیدگی سے کہا:
“آج ہمارے لیے ایسا پکوان تیار کرو جو ہمیں رُلا دے۔”
درباری ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
کسی نے سوچا شاید کوئی غمگین داستان پر مبنی کھانا ہوگا۔
کسی نے خیال کیا شاید مرچوں کا کوئی نادر نسخہ تیار ہوگا۔
مگر باورچی نے خاموشی سے سر جھکا لیا اور محل کے باورچی خانے کی طرف روانہ ہو گیا۔
چند گھنٹوں بعد شاہی ضیافت کا وقت آیا۔
سونے کے برتن سجائے گئے، ریشمی دسترخوان بچھائے گئے اور درباری اشتیاق سے انتظار کرنے لگے کہ آج کون سا عجوبۂ روزگار پکوان پیش ہوگا۔
لیکن جب باورچی حاضر ہوا تو اس کے ہاتھ میں صرف ایک چاندی کی طشتری تھی۔
طشتری میں باریک باریک کٹی ہوئی پیاز رکھی تھی۔
بس پیاز!
نہ کوئی شوربہ، نہ کوئی قورمہ، نہ کوئی نایاب مصالحہ۔
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:
“یہ کیا ہے؟”
باورچی نے بڑے اطمینان سے جواب دیا:
“حضور کا مطلوبہ پکوان۔”
بادشاہ نے ابرو چڑھائے، مگر چونکہ وہ اپنی ہی فرمائش کا اسیر تھا، اس لیے خاموش رہا۔
اس نے ایک ٹکڑا اٹھایا۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔
چند ہی لمحوں میں اس کی آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو گیا۔
درباری گھبرا گئے۔
“حضور رو رہے ہیں!”
بادشاہ نے رومال سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا:
“واہ! کیا کمال کا پکوان ہے!”
ایک اور لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے بولا:
“اتنا مؤثر کہ آنکھیں خود بخود برسنے لگیں!”
اب وہ واقعی رو رہا تھا۔
ناک بھی سرخ ہو چکی تھی، آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں، مگر شاہی وقار بچانے کے لیے مسلسل تعریف کیے جا رہا تھا۔
“بہت اعلیٰ! بہت نفیس! بہت دل گداز!”
باورچی خاموشی سے کھڑا رہا۔
آخر بادشاہ نے پوچھا:
“یہ راز کیا ہے؟”
باورچی نے ادب سے عرض کیا:
“جہاں پناہ، راز کوئی نہیں۔”
“تو پھر؟”
“یہ صرف پیاز ہے۔”
دربار میں قہقہہ دب گیا۔
بادشاہ نے حیرت سے کہا:
“پیاز؟”
“جی ہاں۔”
“لیکن میں نے تو ایسا پکوان مانگا تھا جو مجھے رُلا دے!”
باورچی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
“اور حضور رو تو رہے ہیں۔”
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔
“مگر میں نے پیاز مانگی کب تھی؟”
باورچی نے فوراً جواب دیا:
“حضور نے پکوان مانگا تھا، طریقہ نہیں بتایا تھا۔”
پھر آہستہ سے بولا:
“میں نے سوچا، جب مقصد رُلانا ہی ہے تو مہنگے مصالحوں اور قیمتی اجزا پر خزانہ کیوں ضائع کیا جائے؟ پیاز سستی بھی ہے اور اپنا کام بھی بخوبی کر دیتی ہے۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بادشاہ زور سے ہنس پڑا۔
اتنا ہنسا کہ آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کا فرق کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ پیاز کے تھے یا ہنسی کے۔
اس نے خوش ہو کر اعلان کیا:
“باورچی کو پانچ سو اشرفیاں انعام میں دی جائیں!”
پھر ذرا رک کر بولا:
“اور ساتھ میں ایک تھیلا پیاز بھی، تاکہ آئندہ اگر ہمیں دوبارہ رونا آئے تو خزانے پر بوجھ نہ پڑے!”
پورا دربار قہقہوں سے گونج اٹھا، اور باورچی سر جھکائے مسکراتا رہا۔
سبق
عقل مندی یہ نہیں کہ مشکل حل تلاش کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ آسان حل کو پہچان لیا جائے۔
بعض اوقات سادہ ترین چیز وہ کام کر جاتی ہے جو مہنگی ترین تدبیر بھی نہیں کر پاتی۔
اور چینی داناؤں کے انداز میں:
“جب مقصد آنسو ہوں تو ضروری نہیں کہ المیہ لکھا جائے، ایک پیاز بھی کافی ہو سکتی ہے!” 🧅👑😄
زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ لوگ اکثر حل کی قیمت دیکھتے ہیں، اثر نہیں۔ حالانکہ کبھی کبھی پانچ سو اشرفیوں کا کام ایک پیاز کر جاتی ہے۔
