بدی کی سزا بدی ہے

بدی کی سزا بدی ہے

پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا جو بڑا ہی ظالم، خونخوار اور جفا پیشہ تھا ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتا تھا۔ ایک فقیر نے اس کے لیے بد دعا کی اور اس پر لعنت ملامت بھیجی۔ ایک دن وہ بادشاہ شکار سے لوٹا تو منادی کرا دی کہ ” میں نے ایک عمر تک غریبوں اور کمزوروں پر ظلم و ستم کیا۔ انھیں طرح طرح کی ایذائیں دیں ۔ لیکن اب میں چاہتا ہوں کہ اب میں سچے دل سے توبہ کروں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آج سے کبھی اپنی رعایا کو آزار نہ پہنچاؤں گا اور کسی ستم گر کے قدم اپنی سلطنت کے کسی گلی کوچے میں پڑنے نہ دوں گا۔

اس خوشخبری سے رعایا کی جان میں جان آئی اور کچھ ہی دنوں میں اس کا عدل انصاف یہاں تک پہنچا کہ اس کا لقب ” بادشاہ دادگر مشہور ہو گیا۔ اس کے دور میں

شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے ۔

بادشاہ کے ایک مصاحب نے ایک دن موقع پا کر بادشاہ سے اس اچانک تبدیلی کی وجہ دریافت کی اور کہا :

” جہاں پناہ کی عمر درانہ ہو۔ آخر اس کا سبب کیا ہے کہ مزاج عالی اچانک ظلم و ستم سے رحم انصاف کی طرف راغب ہوا ؟“ بادشاہ نے جواب دیا۔

میں ایک دن شکار کو گیا ۔ تھک کر ایک درخت کے سائے تلے کھڑا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک کتے پر پڑی جو ایک لومڑی کے تعاقب میں دوڑ رہا تھا۔

اس نے لومڑی کا پاؤں پکڑا سے اتنی زور سے چبایا کہ اس کی ہڈیاں چور چور ہو گئیں اور وہ چیختی چلاتی ایک غار میں داخل ہوئی ۔ وہ کتا تھوڑی دور گیا تھا کہ ایک شخص نے اسے زور کا پتھر مارا اور کتے کی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی۔ وہ شخص چند قدم چلا تھا کہ گھوڑے نے لات ماری اور وہ بھی لنگڑا ہو گیا۔ گھوڑا تھوڑی دور گیا تھا کہ اس کا پاؤں ایک گڑھے میں پڑ گیا اور اس کی ہڈی بھی چور چور ہوگئی۔ جب میں نے یہ منظر دیکھا تو اپنے دل میں خیال کیا کہ بدی کی سنرا بدی ہے۔ ان سبھوں نے جیسا کیا ویسا پا یا۔ جو جیسا عمل کرے گا اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہوگا ۔

Leave a Reply

NZ's Corner