بلاعنوان

بلاعنوان

کہتے ہیں کہ ایک قدیم سلطنت کا بادشاہ اپنے زمانے کے دوسرے حکمرانوں سے کچھ مختلف تھا۔ اسے محل کی بلند دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر حکومت کرنا پسند نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دربار میں سچ اکثر ریشمی پردوں میں لپٹ جاتا ہے، مگر بازار میں ننگے پاؤں چلتا ہے۔
اسی لیے وہ کبھی کبھی بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں نکل جاتا اور لوگوں کے دل کی آواز سننے کی کوشش کرتا۔
ایک صبح اس نے سادہ لباس پہنا، تاج اتار کر عام سی پگڑی باندھی اور تنہا بازار کی طرف چل پڑا۔
بازار اپنی پوری آب و تاب پر تھا۔
کہیں تندور کی خوشبو تھی، کہیں قہوہ خانوں کی رونق، کہیں لوہار کی ہتھوڑی بج رہی تھی اور کہیں سبزی فروش اپنے ٹھیلوں پر رنگ برنگی سبزیاں سجائے بیٹھے تھے۔
بادشاہ ایک سبزی فروش کے پاس جا رکا۔
سبزی فروش کے ٹھیلے پر تازہ ٹماٹر یاقوتوں کی طرح چمک رہے تھے، بینگن ایسے سجے تھے جیسے کسی مصور نے ترتیب دی ہو، اور ہری مرچیں اپنے تیکھے مزاج کی گواہی دے رہی تھیں۔
بادشاہ نے بے تکلفی سے پوچھا:
“بھائی، تمہارے بادشاہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
سبزی فروش نے کندھے اچکائے اور بولا:
“بادشاہ؟ برا آدمی نہیں ہے۔”
پھر ذرا جھک کر رازدارانہ انداز میں کہا:
“لیکن اس کا وزیر… اللہ بچائے!”
بادشاہ نے حیرت ظاہر کی۔
“کیوں؟ وزیر نے کیا کیا ہے؟”
سبزی فروش نے ایک لمبی سانس لی اور ایک ٹماٹر ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے بولا:
“حضور، اس وزیر نے سبزیوں پر ایسا ٹیکس لگایا ہے کہ نہ ہم چین سے بیچ سکتے ہیں، نہ لوگ خوشی سے خرید سکتے ہیں۔”
“میں مہنگی بیچتا ہوں تو گاہک ناراض ہوتے ہیں، سستی بیچوں تو میرا گھر نہیں چلتا۔”
پھر تلخی سے ہنس کر بولا:
“اور آخر میں گالی بادشاہ کو پڑتی ہے!”
یہ سن کر بادشاہ خاموش ہو گیا۔
اس نے چند اور سوال کیے، کچھ اور لوگوں کی باتیں سنیں، اور پھر محل واپس لوٹ آیا۔
اگلے دن دربار لگا۔
وزیر حسبِ معمول شاہی امور کی فہرست لیے حاضر ہوا۔
مگر بادشاہ کا مزاج کچھ بدلا ہوا تھا۔
اس نے سیدھا سوال کیا:
“سبزیوں پر ٹیکس کیوں لگایا گیا ہے؟”
وزیر نے لمبی چوڑی دلیلیں دینا شروع کیں۔
“خزانے کی ضرورت… مالی استحکام… ریاستی مفاد…”
بادشاہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“ریاستی مفاد تب تک مفاد نہیں جب تک عوام کا نقصان اس میں شامل ہو۔”
پھر دو ٹوک لہجے میں حکم دیا:
“سبزیوں پر ٹیکس فوراً ختم کیا جائے۔”
وزیر نے سر جھکا لیا۔
حکم شاہی تھا، سو نافذ ہو گیا۔
چند دن بعد بادشاہ پھر بھیس بدل کر بازار پہنچا۔
اس بار بازار کا منظر بدلا ہوا تھا۔
گاہک زیادہ تھے، خرید و فروخت میں رونق تھی، اور سبزی فروش کے چہرے پر اطمینان کی روشنی جھلک رہی تھی۔
بادشاہ دوبارہ اسی ٹھیلے کے پاس جا کھڑا ہوا اور مسکرا کر پوچھا:
“بھائی، اب بادشاہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
سبزی فروش نے فوراً جواب دیا:
“اب؟ اب تو بادشاہ بہت اچھا معلوم ہوتا ہے!”
بادشاہ نے ہنسی دباتے ہوئے پوچھا:
“اچھا! یہ تبدیلی کیسے آ گئی؟”
سبزی فروش نے قہقہہ لگایا اور بولا:
“لگتا ہے کسی عقل مند نے اسے اچھا مشورہ دے دیا ہے!”
بادشاہ اپنی ہنسی نہ روک سکا۔
اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک آ گئی۔
اس نے جیب سے چند سکے نکالے، سبزی فروش کے ہاتھ پر رکھے اور کہا:
“یہ اس شخص کی طرف سے انعام ہے جس نے بادشاہ کو وہ مشورہ دیا۔”
سبزی فروش خوشی خوشی دعائیں دیتا رہا، اور بادشاہ خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔
اس کے چہرے پر اطمینان تھا، کیونکہ اس دن اسے ایک بار پھر یقین ہو گیا تھا کہ عوام کی آواز سننے والا حکمران کبھی اندھا نہیں ہوتا۔
سبق
حکمران کا اصل آئینہ دربار نہیں، بازار ہوتا ہے۔
وزیر، مشیر اور درباری اکثر وہی کہتے ہیں جو بادشاہ سننا چاہتا ہے، مگر عام آدمی وہ کہتا ہے جو حقیقت ہوتی ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ جب روٹی، سبزی اور روزگار مہنگا ہو جائے تو شکایت وزیر سے شروع ہو کر بادشاہ تک پہنچتی ہے۔
جو حکمران بازار کی آواز سن لیتا ہے، اسے بغاوت کی گونج سننے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔
#منقول .

Leave a Reply

NZ's Corner