صحن میں رکھی پرانی سرخ سائیکل کے ہینڈل سے پانی کے قطرے ایک ایک کر کے ٹپک رہے تھے۔ زنگ آلود گھنٹی ہوا کے ہلکے جھونکے سے بجی تو عامر نے بے اختیار کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اسی لمحے اندر کمرے سے والد کی آواز آئی۔
“بیٹا… اگر ممکن ہو تو… وہ ٹچ والا موبائل دلا دینا۔”
آواز میں خواہش کم، اجازت زیادہ تھی۔
عامر نے اخبار تہہ کیا، مگر جواب فوراً نہ دے سکا۔ اسے حیرت اس بات پر نہیں ہوئی کہ ابا نے موبائل مانگا ہے؛ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انہوں نے پہلی بار اپنی کسی ضرورت کو لفظ دیا تھا۔
رات کے کھانے کے بعد وہ باورچی خانے میں آیا تو سارہ برتن دھو رہی تھی۔ نلکے سے بہتا پانی اسٹیل کے برتنوں پر ایسی آواز پیدا کر رہا تھا جیسے کوئی پرانی یاد آہستہ آہستہ گھل رہی ہو۔
“ابا کہہ رہے تھے، اینڈرائیڈ فون چاہیے۔”
سارہ نے ہاتھ نہیں روکے۔
“اچھا۔”
“لیکن کریں گے کیا؟ عمر بھر بٹن والا فون استعمال کیا ہے۔”
سارہ نے نل بند کیا، ہاتھ پونچھے اور اس کی طرف دیکھا۔
“تو؟”
“میں سوچ رہا ہوں اپنا پرانا فون انہیں دے دیتا ہوں، خود نیا لے لوں۔ ویسے بھی میرا فون ابھی ٹھیک چل رہا ہے۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر سارہ نے بہت آہستہ پوچھا،
“ایک بات پوچھوں؟”
“ہاں۔”
“جب تم آٹھویں جماعت میں تھے اور ضد پکڑ لی تھی کہ سائیکل چاہیے… تو کیا تمہارے ابا بازار سے کسی کا استعمال شدہ سائیکل اٹھا لائے تھے؟”
عامر کے چہرے پر جیسے کسی نے اچانک پرانی دھوپ رکھ دی۔
اسے وہ دن یاد آیا۔
گرمیوں کی شام تھی۔ گلی میں نئی نویلی سرخ سائیکل کھڑی تھی۔ اس کے ہینڈل پر نیلا ربن بندھا تھا۔ وہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا، مگر سائیکل چلانی نہیں آتی تھی۔
پہلے ہی چکر میں نالی میں جا گرا تھا۔
گھٹنا چھل گیا تھا۔
اس نے روتے ہوئے کہا تھا، “نہیں چلانی!”
اور اس کے ابا، جن کے ہاتھوں میں تب بھی محنت کی دراڑیں تھیں، ہنس کر بولے تھے،
“گرنے سے ڈر گیا تو چلنا کیسے سیکھے گا؟ پھر سے بیٹھ۔”
وہ شام کئی مہینوں تک پھیل گئی تھی۔
ہر مغرب کے بعد ابا سائیکل کے پیچھے دوڑتے۔ کبھی سیٹ پکڑتے، کبھی کیریئر۔ عامر سمجھتا رہتا کہ وہ ابھی تک اسے سنبھالے ہوئے ہیں، حالانکہ کئی دنوں سے ہاتھ چھوڑ چکے تھے۔
اعتماد، شاید، اسی طرح سکھایا جاتا ہے۔
“کیا سوچ رہے ہو؟”
سارہ کی آواز نے اسے حال میں واپس کھینچا۔
وہ خاموش رہا۔
سارہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“جنہوں نے تمہیں کبھی استعمال شدہ خواب نہیں دیے… انہیں تم اپنی استعمال شدہ سہولت دینا چاہتے ہو؟”
یہ جملہ کسی الزام کی طرح نہیں، آئینے کی طرح تھا۔
اگلے دن عامر دفتر سے سیدھا بازار گیا۔
گھر لوٹا تو ڈبہ ابھی تک پلاسٹک میں لپٹا ہوا تھا۔
ابا نے ڈبہ ہاتھ میں لیا تو ایسے دیکھا جیسے کسی نے ان کی عمر پر یقین کرنے سے انکار کر دیا ہو۔
“میرے لیے؟”
“جی، آپ کے لیے۔”
“اتنا مہنگا کیوں لیا، بیٹا؟”
عامر نے نظریں چرا لیں۔
“مہنگا نہیں ہے، ابا۔”
حالانکہ اسے معلوم تھا کہ مہنگا فون نہیں، احساس ہوتا ہے۔
پہلے دن ابا نے فون الٹا پکڑ لیا۔
دوسرے دن غلطی سے ٹارچ جلا کر جیب میں رکھ لی۔
تیسرے دن کسی کو کال کرنے کے بجائے اپنی ہی تصویر کھینچ بیٹھے۔
گھر میں ہنسی کی نرم لہریں دوڑتی رہیں۔
مگر عامر نے ایک بار بھی بے زاری نہیں دکھائی۔
ہر شام وہ ان کے پاس بیٹھ جاتا۔
“یہ واٹس ایپ ہے، ابا۔”
“یہ آواز کیسے بھیجتے ہیں؟”
“یہاں انگلی رکھیں… اب بولیں۔”
“السلام علیکم… آواز جا رہی ہے؟”
وہ دونوں ہنس پڑتے۔
چوتھے دن ابا نے پہلی بار خود سے ویڈیو کال ملائی۔
اسکرین پر گاؤں میں رہنے والی ان کی بڑی بہن نمودار ہوئی۔
سفید بال… دھندلی آنکھیں، مگر بھائی کو دیکھتے ہی چہرہ کھل گیا۔
“ارے اللہ… احمد! اب تو تُو سامنے بیٹھا لگ رہا ہے۔”
ابا کی پلکیں بھیگ گئیں۔
“ہاں باجی… عامر نے سکھا دیا۔”
عامر خاموشی سے کمرے سے نکل آیا۔
صحن میں آ کر اس نے وہی پرانی سرخ سائیکل سیدھی کی، جو کئی برسوں سے دیوار کے ساتھ ٹکی تھی۔
اس نے گھنٹی بجائی۔
آواز پہلے جیسی ہی تھی۔
بس ایک فرق تھا۔
بچپن میں اس گھنٹی کے پیچھے ایک باپ دوڑتا تھا۔
آج ایک بیٹا ٹھہرنا سیکھ گیا تھا
