بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گھنا، سرسبز اور خوشحال جنگل تھا، جہاں حکومت تو شیر کی تھی مگر اس کا سب سے قابلِ اعتماد ساتھی اس کا وزیر، لومڑی، تھا۔ صبح سے شام تک دربار میں، شکار کے وقت، فیصلوں میں، سفیروں کی ملاقات میں، یہاں تک کہ سیر و تفریح میں بھی لومڑی ہر وقت شیر کے ساتھ ہوتی تھی۔
لیکن ایک چیز تھی جو برسوں سے اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔
جنگل بھر کے جانور جب بھی اپنے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کوئی رس بھرے آم لاتا، کوئی خوشبودار خربوزے، کوئی میٹھے تربوز، کوئی شہد کے چھتے، تو کوئی نایاب جنگلی پھل۔
سب تحفے شیر کے قدموں میں رکھ دیے جاتے۔
شیر مزے سے کھاتا، تعریفیں سنتا، اور آگے بڑھ جاتا۔
ادھر لومڑی چند قدم دور کھڑی رہتی، اس کے منہ میں پانی بھرتا رہتا، مگر اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا۔
وہ دل ہی دل میں سوچتی: “محنت میں بھی برابر کی شریک، خطرات میں بھی برابر، مگر پھل ہمیشہ اکیلا شیر ہی کھاتا ہے!”
وقت گزرتا گیا، مگر حسرت بڑھتی گئی۔
ایک صبح حسبِ معمول شیر اپنے پسندیدہ پھلوں کے ساتھ ناشتے کے لیے بیٹھا، اور لومڑی اخبار اٹھا کر خبریں سنانے لگی۔ یہ اس کی روزانہ کی ذمہ داری تھی۔
آج مگر اخبار کچھ اور ہی تھا، لومڑی نے گلا صاف کیا اور نہایت سنجیدگی سے پڑھنا شروع کیا:
“اہم خبر! پڑوسی جنگل کے بادشاہ کا انتقال”
شیر چونک کر سیدھا بیٹھ گیا۔
“کیسے؟”
لومڑی نے اخبار پر نظریں جمائے ہوئے جواب دیا:
“لکھا ہے کہ حضور کو ایک نایاب پھل بطور تحفہ پیش کیا گیا۔ اس میں زہر ملا ہوا تھا۔ بادشاہ نے بغیر سوچے سمجھے خود ہی کھا لیا اور چند ہی لمحوں میں جان کی بازی ہار گئے۔”
شیر کے ہاتھ سے آم کا ٹکڑا نیچے گر گیا۔
اس نے سامنے رکھے تمام پھلوں کو ایسے دیکھا جیسے وہ پھل نہیں، زہریلے سانپ ہوں۔
چہرے کا رنگ بدل گیا۔
لومڑی نے دل ہی دل میں کہا: “پہلا تیر ٹھیک نشانے پر لگا”
اب اس نے اخبار کا دوسرا صفحہ پلٹا اور پڑھنے لگی:
“اس افسوسناک واقعے کے بعد آس پاس کی تمام ریاستوں کے بادشاہوں نے ایک نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ اب کوئی بھی بادشاہ تحفے میں آنے والی چیز پہلے خود استعمال نہیں کرتا۔ پہلے اپنے کسی نہایت قابلِ اعتماد، وفادار اور قریبی ساتھی کو کھلاتا ہے۔ اگر وہ خیریت سے رہے تو پھر بادشاہ خود کھاتا ہے۔”
شیر نے گہرا سانس لیا۔
“ہاں، یہ تو واقعی عقل مندی کی بات ہے۔”
لومڑی نے اخبار بند کیا اور معصوم بن کر بولی:
“حضور، دنیا روز نئی تدبیریں سیکھ رہی ہے۔”
شیر نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر بولا:
“لومڑی!”
“جی حضور؟”
“آج سے جو بھی پھل، شہد یا کوئی تحفہ آئے… پہلے تم چکھا کرو۔ اگر سب خیریت رہی تو میں کھا لیا کروں گا۔ آخر تم میرے سب سے زیادہ قابلِ اعتماد وزیر ہو۔”
لومڑی نے فوراً سر جھکا لیا تاکہ اس کے چہرے کی خوشی ظاہر نہ ہو۔
“جیسا حکم، حضور!”
اگلے ہی دن سے عجیب منظر ہونے لگا۔
کوئی آم لاتا،
پہلا نوالہ لومڑی کا۔
کوئی خربوزہ لاتا
پہلا قتلہ لومڑی کے حصے میں۔
شہد آتا،
پہلے لومڑی انگلی ڈبوتی۔
تربوز آتا،
پہلے لومڑی چکھتی۔
لومڑی روز پیٹ بھر کر کھاتی اور ہر مرتبہ نہایت سنجیدگی سے کہتی: “حضور! الحمدللہ، زہر نہیں ہے۔”
تب جا کر شیر اطمینان سے کھاتا۔
مہینے گزر گئے۔
شیر ہر روز دل ہی دل میں خوش ہوتا:
“دیکھا! میں نے کتنی عقل مندی کی۔ اب کوئی مجھے زہر نہیں دے سکتا۔”
اور ادھر لومڑی بھی ہر روز اپنے حصے کے تازہ پھل کھا کر سوچتی:
“آخرکار برسوں کی حسرت پوری ہوئی۔”
یوں دونوں اپنی اپنی چالاکی پر خوش تھے۔
شیر کو یقین تھا کہ اس نے اپنی جان محفوظ کر لی ہے۔
اور لومڑی کو یقین تھا کہ اس نے بغیر مانگے روزانہ کی ضیافت کا مستقل انتظام کر لیا ہے۔
اخلاقی سبق:
عقل مند وہ نہیں جو صرف دوسروں کو چالاک سمجھے، بلکہ وہ ہے جو ہر مشورے کے پیچھے چھپی نیت کو بھی پہچان لے۔ بعض اوقات ایک شخص اپنی حفاظت کے لیے فیصلہ کرتا ہے، جبکہ دوسرا اسی فیصلے میں اپنا فائدہ تلاش کر لیتا ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ دوسروں کے خوف کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
