ایک کسان نے ایک بوڑھے، بے بس اور بظاہر بیمار بھیڑیے کو بھیڑوں کے ریوڑ کے عین درمیان میں پھینک دیا، بھیڑیا اتنا کمزور تھا کہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۰ اس کے باوجود پورے ریوڑ میں ڈر کی وجہ سےشدید افرا تفری پھیل گئی۰ ریوڑ میں سب سے وزنی مینڈھا، جو ہمیشہ محفوظ رہنے کے لیے ریوڑ کے مرکز میں رہتا تھا، اچانک خود کو بھیڑیے کے بالکل سامنے کھڑا پاتا ہے۰ اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، اس کے پیچھے موجود وہی بھیڑیں، جو روزانہ اس کے ساتھ چمٹ کر کھڑی ہوتی تھیں، اپنے لیے راستہ بنانے کی خاطر بھیڑیے کی طرف دھکیل دیتی ہیں۰ مینڈھے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، لیکن بھیڑیے کے کاٹنے سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے ساتھیوں کے سموں تلے کچلے جانے کی وجہ سے اور وہ ایک بوڑھے ییمار بھیڑیے کی آسان ترین خوراک بن جاتا ہے۰
یہ کہانی ایک انتہائی اہم نفسیاتی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جب کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو انسانی گروہ اور سوسائٹی ایسے بقا کے میکانزم (Survival Mechanisms) کے تحت کام کرنے لگتی ہے جو تمام اخلاقی اور سماجی تعلقات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۰ نفسیات کی زبان میں اس رویے کو “اسکیپ گوٹنگ” (Scapegoating) اور “ڈیفنس میکانزم” (Defense Mechanism) سے تعبیر کیا جاتا ہے، جہاں خوف و ہراس کے عالم میں لوگ اپنے اجتماعی دباؤ کو دور کرنے کے لیے کسی ایک فرد کو قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۰ جب انسان پر شدید خوف غالب آتا ہے تو اس کا دماغ “فائٹ یا فلائٹ” (Fight or Flight) کے بنیادی جذبے کے تحت فیصلہ کرتا ہے، جس سے ہمدردی اور عقل کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے اور لوگ اپنی حفاظت کے لیے قریب ترین شخص کو بھی مشکل میں ڈال دینے سے گریز نہیں کرتے۰
ہم اکثر یاروں، دوستوں، رشتے داروں یا ذات برادری کا حصہ بن کر محفوظ ہونے کے غلط احساس کا شکار ہوتے ہیں، جب ہم لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں تو غیر محسوس طریقے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کے لوگ ہماری حفاظت کریں گے۰ ۰ لیکن حقیقت میں، خوف کے موقع پر گروہی نفسیات “ڈی انڈیویژوایشن” (Deindividuation) کو جنم دیتی ہے، جہاں انسان اپنے ذاتی اخلاقی معیار کھو دیتا ہے اور صرف اپنی ذات کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۰ اس کہانی کا بھیڑیا ایک معمولی بحران یا ناکامی کی علامت ہے، لیکن اصل تباہی ان لوگوں کی طرف سے آتی ہے جن کی ظاہری نزدیکی کو ہم نے غلطی سے وفاداری اور ہمدردی سمجھ لیتے ہیں۰
زندگی اور تعلقات کی اس نفسیات کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ خود انحصاری (Self-reliance) کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنائیں۰ اصل ذہنی اور عملی طاقت یہ ہے کہ آپ ریوڑ پر بلامشروط انحصار کرنا چھوڑ دیں۰ جب آپ اپنی زندگی کا کنٹرول دوسروں کے ہاتھوں میں دیتے ہیں، تو مفادات بدلتے ہی آپ خود کو تنہا اور اکیلا پائیں گے۰ ان لوگوں سے مدد اور نجات کی توقع رکھنا چھوڑ دیں جو صرف اپنے مفاد کے تحت سوچتے ہیں۰ اس نفسیاتی حقیقت کو تسلیم کریں، جھوٹے سہاروں کے وہم سے باہر نکلیں، اور اپنے اندر وہ طاقت پیدا کریں جو آپ کو اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑا کر سکے۔
