جنگل میں ایک لومڑی کئی مہینوں سے بے روزگار پھر رہی تھی۔ صبح نوکری کی تلاش میں نکلتی اور شام کو مایوسی کو کندھوں پر لادے واپس لوٹ آتی۔ آخر ایک دن اسے خبر ملی کہ جنگل کے امیر ترین میاں بیوی، ریچھ اور ریچھنی، کے گھر ایک ملازم کی جگہ خالی ہوئی ہے۔
خبر سن کر لومڑی کی آنکھیں تو چمک اٹھیں، مگر اگلے ہی لمحے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
کیونکہ یہ وہی ریچھ میاں بیوی تھے جن کا نام سنتے ہی جنگل کے طاقتور بیل بھی راستہ بدل لیتے تھے۔
ان کے بارے میں پورے جنگل میں مشہور تھا:
“جو جانور ایک بار ان کے ہاں ملازم بن گیا، وہ ایک سال بعد ملازم کم اور پرانا فرنیچر زیادہ لگتا تھا۔”
وہ صبح ایک کام کہتے اور شام تک دس نئے کام اس کے ساتھ باندھ دیتے۔
“پہلے پانی بھر دو، اچھا جاتے جاتے لکڑیاں بھی لے آنا، بچوں کو بھی نہلا دینا، واپسی پر شہد بھی لیتے آنا اور ہاں، شام سے پہلے باڑ بھی ٹھیک کر دینا”
بیچارا ملازم شام تک یہی بھول جاتا کہ صبح اسے پہلا کام کیا ملا تھا۔
اوپر سے ظلم یہ کہ نوکری سے پہلے ایک سال کا معاہدہ لکھواتے تھے۔
“ایک سال سے پہلے نوکری چھوڑی تو جرمانہ بھی دو گے اور جیل بھی جاؤ گے۔”
اسی لیے ہر ملازم ایک سال تک دانت پیستا رہتا، پھر کنٹریکٹ ختم ہوتے ہی ایسے بھاگتا جیسے پنجرے سے پرندہ آزاد ہوا ہو۔
لومڑی نے خبر سنی تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک پیدا ہوئی اور
اگلی صبح وہ اپنے ایک ہرن دوست کو ساتھ لے کر ریچھ کے گھر پہنچی۔
بات ہرن نے کی۔
“حضور! ملازمہ حاضر ہے۔ کام میں ایسی ماہر کہ جس گھر میں جائے وہاں کے برتن بھی چمکنے لگتے ہیں۔”
ریچھنی خوش ہو گئی۔
“پھر مسئلہ کیا ہے؟”
ہرن نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
“بس ایک معمولی سی کمی ہے”
“وہ کیا؟”
“یہ چند ماہ پہلے دوسرے جنگل سے آئی ہے، بہت محنتی ہے، مگر ہماری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں سمجھتی۔”
ریچھ نے ایک لمحہ سوچا، پھر بے پروائی سے ہاتھ ہلایا۔
“زبان آج نہیں تو کل سیکھ ہی جائے گی، ہمیں تو کام کرنے والا چاہیے۔”
پہلی صبح ابھی سورج پوری طرح نکلا بھی نہ تھا کہ ریچھنی نے ہمیشہ کی طرح اونچی آواز لگائی،
“ارے لومڑی! جلدی اُٹھ، پہلے آٹا گوندھ، پھر ندی سے پانی بھر، پھر بچوں کو نہلا، پھر لکڑیاں لے آ، پھر”
لومڑی نے ایسے معصوم چہرے کے ساتھ اس کی طرف دیکھا جیسے پہلی بار کسی نے اس کے سامنے بولنا شروع کیا ہو۔
آنکھیں جھپکائیں،
گردن ذرا سی ٹیڑھی کی،
اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی رہی۔
ریچھنی نے دوبارہ کہا۔
اس بار پہلے سے زیادہ زور سے۔
لومڑی پھر بھی خاموش۔
اب ریچھنی کو غصہ آنے لگا۔
“کیا بہری ہے؟”
اچانک اسے ہرن کی بات یاد آئی۔
“اوہ ہاں، یہ تو ہماری زبان سمجھتی ہی نہیں!”
اب ریچھنی نے اشاروں سے سمجھانا شروع کیا۔
پہلے آٹے کی طرف انگلی کی،
پھر اپنے ہاتھ گوندھنے کی طرح چلائے، پھر برتن اٹھا کر دکھایا، پھر لومڑی کی طرف دیکھا۔
لومڑی نے بڑے غور سے دیکھا، پھر سر ہلایا
اور وہیں کھڑی رہی۔
ریچھنی نے سمجھا شاید ابھی بھی بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی۔
اس نے دوبارہ اشارے کیے۔
پھر تیسرے طریقے سے۔
پھر چوتھے طریقے سے۔
پورا آدھا گھنٹہ گزر گیا۔
آخر میں لومڑی نے بڑی معصومیت سے دونوں ہاتھ جوڑ کر ایسی شکل بنائی جیسے کہنا چاہتی ہو:
“بس، تھوڑا سا اور سمجھا دیں، اب شاید سمجھ آ جائے۔”
ریچھنی نے تھک کر پیشانی سے پسینہ صاف کیا۔
“رہنے دو!”
وہ بڑبڑائی۔
“اتنی دیر میں تو میں دو بار آٹا گوندھ چکی ہوتی”
اور غصے میں خود آٹا گوندھنے بیٹھ گئی۔
ادھر لومڑی آہستہ سے صحن کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئی۔
دوسرے ہی دن ریچھ اور ریچھنی نے سوچا کہ شاید آج لومڑی کچھ سمجھ گئی ہوگی۔ ریچھ نے ہاتھ کے اشاروں سے کہا، “جا کر لکڑیاں لے آؤ۔” لومڑی نے پہلے لکڑیوں کو دیکھا، پھر ریچھ کو، پھر آسمان کی طرف دیکھا، پھر اپنے کان پکڑ لیے، جیسے کہہ رہی ہو، “بات تو سمجھ آئی ہے مگر پوری نہیں آئی!” ریچھ نے دوبارہ سمجھایا، پھر تیسری بار، پھر زمین پر لکڑی رکھ کر عملی نمونہ بھی دکھایا۔ اتنی دیر میں سورج آدھا سر پر آ گیا۔ آخرکار ریچھ نے جھنجھلا کر کلہاڑی اٹھائی اور خود لکڑیاں کاٹنے چل پڑا۔ لومڑی ایک درخت کے سائے میں بیٹھی دم ہلاتی رہی۔
اب تو روز یہی معمول بن گیا۔ کبھی ریچھنی برتن دھوتی، کبھی خود پانی بھر لاتی، کبھی خود بچوں کو نہلاتی، کیونکہ ہر بار لومڑی کو سمجھاتے سمجھاتے آدھا دن گزر جاتا تھا۔ ادھر لومڑی نہایت سنجیدہ چہرہ بنا کر ہر بات بڑے غور سے سنتی، کبھی سر ہلاتی، کبھی مسکراتی، کبھی حیرانی سے آنکھیں پھیلا دیتی، مگر کام شروع ہونے سے پہلے ہی مالک کا صبر ختم ہو جاتا۔ چند ہفتوں میں حالت یہ ہو گئی کہ گھر کے سارے کام ریچھ میاں بیوی خود کرتے تھے اور لومڑی صرف وقت پر کھانا کھاتی، آرام سے قیلولہ کرتی اور شام کو معصوم شکل بنا کر ایسے بیٹھ جاتی جیسے آج بھی اسے کسی نے کام ہی نہ بتایا ہو۔
کئی بار ریچھ غصے میں بولا، “آج ہی اسے نکالتا ہوں!” مگر اگلے ہی لمحے معاہدہ یاد آ جاتا۔ ایک سال کا کنٹریکٹ جو پہلے خود کے حق میں استعمال کرتے اس بار ان کے اپنے گلے کا پھندا بن چکا تھا۔
اخلاقی سبق:
“چالاک آدمی ہمیشہ طاقت سے نہیں جیتتا، بلکہ دوسرے کی عادت، کمزوری اور جلدبازی کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ بعض اوقات سب سے زیادہ محنت وہی کرتا ہے جو دوسروں سے کام لینے کا عادی ہوتا ہے، اور سب سے زیادہ آرام وہی کرتا ہے جو دوسروں کی نفسیات سمجھ لیتا ہے۔ عقل سے کھیلا گیا ایک کھیل، طاقت کے سو واروں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔”
