بلاعنوان

بلاعنوان

ایران کے ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک نہایت نیک اور درویش صفت استاد کا انتخاب کیا۔ بادشاہ نے اسے بلا کر کہا

“میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا دین، اخلاق اور حکمت سیکھے، کیونکہ کل کو یہی شہزادہ میری سلطنت کا وارث ہوگا۔”

استاد نے اس ذمہ داری کو پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ قبول کیا۔ اس نے شہزادے کو قرآنِ مجید کی تعلیم دی، احادیثِ مبارکہ پڑھائیں، اور اسے عدل، انصاف اور حکمت کے اصولوں سے روشناس کروایا۔ وقت گزرتا گیا اور شہزادہ علم و ادب میں پختہ ہوتا چلا گیا۔ جب اس کی تعلیم مکمل ہوئی تو دستار بندی کی تقریب ہوئی اور وہ رسمی طور پر تعلیم سے فارغ ہوگیا۔

چند دن بعد استاد نے شہزادے سے کہا

“بیٹے! کل میرے پاس ضرور آنا، مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے۔

شہزادہ وقت مقررہ پر آیا۔ استاد نے دروازہ بند کیا، ہاتھ میں ایک چھڑی لی اور بغیر کسی وضاحت کے اسے سخت مارنا شروع کر دیا۔ شہزادہ حیران بھی تھا اور درد سے بے حال بھی، مگر وجہ سمجھ سے باہر تھی۔ مار کھانے کے بعد وہ روتا ہوا اپنے والد، بادشاہ کے پاس پہنچا اور شکایت کی

“ابا جان! میں نے کوئی غلطی نہیں کی، مگر استاد نے مجھے بے وجہ مارا ہے۔

بادشاہ ایک سمجھدار شخص تھا۔ اس نے کہا

“بیٹا! استاد باپ کی مانند ہوتا ہے، وہ بلا وجہ ایسا نہیں کر سکتا۔ میں اسے نہیں بلاؤں گا، یقیناً اس میں کوئی حکمت ہوگی۔”

وقت گزرتا گیا۔ بائیس سال گزر گئے۔ بادشاہ کا انتقال ہوا اور وہی شہزادہ تخت پر بیٹھا۔

بادشاہ بنتے ہی اس نے پہلا حکم دیا

“میرے استاد کو فوراً دربار میں پیش کیا جائے!”

بوڑھا استاد چھڑی کے سہارے، کمزور آنکھوں اور جھکی کمر کے ساتھ دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے بادشاہ کی طرف دیکھا، جو اب طاقت اور اختیار کا مالک تھا۔

بادشاہ نے کہا

“استاد جی! بائیس سال پہلے آپ نے مجھے بلا وجہ سخت مارا تھا۔ اس درد کو نہ میں بھولا ہوں اور نہ میرا دل۔ آج میں بااختیار ہوں، مجھے بتائیے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تھا؟”

یہ سن کر استاد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ بولا۔

“بیٹے! میں نے تمہیں صرف آج کے دن کے لیے تیار کیا تھے”

بادشاہ حیران ہوا

“یہ کیسی بات ہے؟”

استاد نے نرمی سے پوچھا

“بیٹے! اس واقعے کو کتنے سال گزر گئے؟”

بادشاہ نے کہا

“بائیس سال”

استاد نے پھر پوچھا

“کیا تمہیں آج بھی وہ درد یاد ہے؟”

بادشاہ نے جواب دیا

“ہاں، آج بھی کبھی کبھی دل میں چبھن اٹھتی ہے”

استاد نے آہستہ سے کہا

“بس یہی تمہیں سمجھانا تھا۔ جب ایک معمولی سا ظلم تمہاری یاد سے نہیں جاتا، تو سوچو اگر تم کسی پر ظلم کرو گے تو وہ درد اس کے دل میں کتنا گہرا ہوگا۔

وہ تھوڑی دیر خاموش رہا پھر بولا

“آج تم بادشاہ ہو، اس لیے تم نے مجھے بلا لیا، لیکن یاد رکھنا، کل قیامت کے دن مظلوم طاقتور ہوں گے اور ظالم جواب دہ۔ وہاں کوئی تخت نہیں ہوگا، صرف انصاف ہوگا۔”

“یہ دنیا وقتی طاقت کا کھیل ہے، مگر آخرت ابدی انصاف کا میدان ہے۔”

استاد نے کہا

“بیٹے! ظلم کبھی نہ کرنا، کیونکہ ظلم دلوں میں ایسی یاد چھوڑ جاتا ہے جو وقت بھی مٹا نہیں سکتا۔ اتنا ہی بوجھ اٹھانا جتنا تم آخرت میں برداشت کر سکو۔

سبق

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ طاقت، اقتدار اور اختیار عارضی ہیں، مگر ظلم کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنے فیصلوں میں عدل، رحم اور احتیاط اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ایک دن ہر عمل کا حساب ضرور ہوگا۔

Leave a Reply

NZ's Corner