بلاعنوان

بلاعنوان

بہت سالوں کی بات ہے، ایران کے ایک شہر میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک کا نام قاسم تھا اور دوسرے کا، علی بابا۔ قاسم کی شادی ایک بہت امیر عورت سے ہوئی تھی، جس کی مدد سے اس نے ایک بڑا کاروبار سنبھال لیا اور شہر کے امیر آدمیوں میں شامل ہو گیا۔ دوسری طرف علی بابا بالکل سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور گدھے کے ساتھ روزانہ صبح سویرے جنگل میں جاتا، درختوں سے لکڑیاں کاٹتا اور شہر میں جا کر بیچ آیا کرتا تھا۔

ایک دن علی بابا جنگل میں اپنے معمول کے مطابق لکڑیاں کٹ رہا تھا کہ اچانک اس نے دور سے گھوڑوں کی ٹاپیں سنیں۔ اس نے جلدی سے ایک اونچے درخت پر چڑھ کر اپنے آپ کو پتوں میں چھپا لیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں چالیس مسلح ڈاکو گھوڑوں پر سوار ہو کر پہنچے۔ ان سب کے کندھوں پر تلواریں لٹک رہی تھیں، ان کے چہروں پر سیاہ نقاب تھے، اور ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ انہوں نے ایک بہت بڑی چٹان کے سامنے اپنے گھوڑے روکے۔

پھر ڈاکوؤں کا سردار چٹان کے پاس گیا، تین مرتبہ زور سے آواز لگائی: “کھل جا سم سم! کھل جا سم سم! کھل جا سم سم!” اگلے ہی لمحے چٹان کا ایک بڑا سا حصہ کھل گیا اور اندر ایک تاریک مگر چمکتا ہوا غار نمودار ہوا۔ تمام ڈاکو اندر جا کر تھوڑی دیر بعد وہاں سے نکلے اور اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر چلے گئے۔

چٹان کا دروازہ بند ہو گیا۔ علی بابا نے جب یہ سب کچھ دیکھا تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے بھی ہمت کر کے چٹان کے پاس جا کر وہی جادوئی الفاظ دہرائے: “کھل جا سم سم!” دروازہ کھل گیا۔ اندر جاتے ہی علی بابا کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اس نے دیکھا کہ سارا غار سونے، چاندی، جواہرات، موتیوں اور ہیروں سے بھرا پڑا ہے۔ تاہم، علی بابا نے صرف چند سونے کے سکے اپنے ساتھ لیے اور وہاں سے نکل آیا۔

گھر پہنچ کر اس نے اپنی بیوی سے کہانی سنائی۔ جب بیوی نے سونے کے سکے دیکھے تو وہ بھی حیران رہ گئی۔ علی بابا نے کہا: “یہ مال حرام ہے، لیکن ہمیں بھوکے رہنے سے تو بہتر ہی ہے کہ ہم تھوڑا تھوڑا کر کے صرف اپنی ضرورت پوری کریں۔”

جب قصاب کو راز معلوم ہوا تو وہ اس خزانے کا شریک بننے کی خواہش میں پاگل ہو گیا۔ اس نے علی بابا کو ڈانٹ ڈپٹ کر اپنی مرضی سے غار میں جانے کی کوشش کی، لیکن وہ جادوئی جملہ “کھل جا سم سم” بھول گیا اور اندر پھنس کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

جب ڈاکوؤں کو پتہ چلا کہ ان کے خزانے میں سے کوئی اور بھی فائدہ اٹھا رہا ہے، تو ان کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے علی بابا کے گھر کا پتہ لگانے کے لیے سازشیں شروع کر دیں۔ ان میں سے ایک چور نے علی بابا کے گھر کے دروازے پر چاک کا نشان لگایا۔ مگر مرجانا (علی بابا کی وفادار لونڈی) نے یہ چال بھانپ لی۔ اس نے ساری گلی کے ہر دروازے پر ایک جیسا نشان لگا دیا جب چور واپس آئے تو وہ علی بابا کے گھر کی پہچان نہ کر سکے۔

پھر سردار نے خود علی بابا کے گھر میں داخل ہونے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے ایک تاجر کا بھیس بدلا اور ڈاکوؤں کو مٹی کے بڑے بڑے برتنوں میں چھپا کر علی بابا کے گھر پہنچایا۔ مرجانا کو برتنوں کی وزنی ہلکی آنچ سے شک ہو گیا۔ جب سب سوتے تھے، اس نے ان برتنوں میں سے تیل ڈال کر تمام ڈاکوؤں کو آگ لگا کر ہلاک کر دیا۔ سردار فرار ہو گیا مگر بعد میں اس کا بھی انجام بہت برا ہوا۔

آخر کار علی بابا نے یہ سمجھ لیا کہ بغیر چالاکی کے خواب ادھورے ہیں۔ اس نے اپنے اوپر بھروسہ کرنا سیکھ لیا اور اس کے بعد اس کی زندگی میں خوشحالی آگئی۔

اخلاقی سبق: یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے اور حقیقی جیت شعور، صبر اور چوکسی سے ہوتی ہے۔ سچی ایمانداری اگر شائستگی سے مل جائے تو پھر وہ بڑی سے بڑی سازش کو بھی ناکام بنا دیتی ہے۔

حوالہ:
علی بابا اور چالیس چور  الف لیلہ و لیلہ کی لوک کہانی، عربی لوک اساطیر ۔

Leave a Reply

NZ's Corner