ایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔
انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟”
نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔”
انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔”
نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔”
انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے ہو۔”
اگلے ہفتے نصرالدین پھر آیا۔ اس بار گدھے پر بھوسے کا گٹھا لدا ہوا تھا۔ جب انسپکٹر نے اسے دیکھا تو فوراً پہچان گیا اور دل میں سوچا، “اس بار میں اسے ضرور پکڑ لوں گا۔”
انسپکٹر نے بھوسے کے گٹھے کو اچھی طرح ٹٹولا اور نصرالدین کے کپڑے تک تلاش کیے، لیکن پھر بھی کچھ نہ ملا۔ اس بار بھی اسے مجبوراً نصرالدین کو سرحد سے گزرنے دینا پڑا۔
یہ سلسلہ کئی سالوں تک چلتا رہا لیکن انسپکٹر کو کچھ بھی نہیں ملا۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ نصرالدین کے کپڑے اور زیورات اور بھی شاندار ہوتے جا رہے تھے، جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ امیر ہوتا جا رہا ہے۔
آخرکار انسپکٹر اپنی طویل نوکری سے ریٹائر ہو گیا، لیکن وہ نصرالدین کو بھول نہ سکا۔
ایک دن انسپکٹر نے بازار میں نصرالدین کو دیکھ لیا۔ اس نے اسے روکا اور کہا، “میں تمہیں جانتا ہوں..!! تم وہی شخص ہو جو گدھے پر لکڑیوں یا بھوسے کے گٹھے لاد کر سرحد سے گزرا کرتا تھا۔”
انسپکٹر نے اس سے کہا، “براہِ کرم جناب.. کیا ہم ایک منٹ بات کر سکتے ہیں؟”
نصرالدین مان گیا۔
انسپکٹر نے پوچھا، “میں ہمیشہ یہ سوچتا رہا کہ تم روز میری سرحد سے کیا اسمگل کرتے تھے۔ اب میں ریٹائر ہو چکا ہوں۔ مجھے ضرور جاننا ہے۔ پلیز بتاؤ کہ تم ان تمام سالوں میں کیا اسمگل کرتے رہے؟”
نصرالدین مسکرایا اور جواب دیا، “گدھے۔”
—
س کبھی کبھی جواب ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، لیکن ہم غلط جگہ ڈھونڈتے رہتے ہیں
