بلاعنوان

بلاعنوان

ایک شخص کے پاس چار ایکڑ زمین تھی، لیکن ہر سال اس کی پیداوار اپنے پڑوسی کی زمین سے کم رہتی، حالانکہ پڑوسی کے پاس صرف دو ایکڑ زمین تھی اور وہ بھی آدھی ہی کاشت کرتا تھا۔ آخر کار ایک دن وہ شخص اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب کر پڑوسی کے دروازے جا پہنچا۔ بھائی ! یہ کیا جادو ہے؟ اُس نے عاجزی سے پوچھا۔ “تم کم زمین استعمال کر کے بھی مجھ سے زیادہ پیداوار کیسے حاصل کر لیتے ہو ؟ پڑوسی نے مسکراتے ہوئے کہا بھائی، یہ کوئی جادو نہیں، بس زمین سے محبت کا معاملہ ہے۔ میں اپنی زمین کو دو حصوں میں بانٹتا ہوں: ایک حصے پر چھے مہینے فصل اگاتا ہوں اور دوسرے حصے کو آرام کرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ ان چھے مہینوں میں، میں اس زمین کو سنوارتا ہوں، اس کا زخم بھرنے دیتا ہوں، اور اسے زرخیز بناتا ہوں، تاکہ وہ اپنے اندر سے نئی زندگی جنم دے سکے۔ جب میں اس پر دوبارہ بیج ہوتا ہوں، تو وہ زمین نہ صرف ہر بیماری سے پاک ہوتی ہے بلکہ خوشی خوشی بھر پور فصل دیتی ہے۔ پہلا شخص حیرت سے بولا لیکن تم اتنا وقت اور محنت صرف زمین کی تیاری پر کیوں لگاتے ہو؟ پڑوسی نے ایک گہری نظر سے اُسے دیکھا اور دھیرے سے کہا زمین صرف مٹی کا ڈھیر نہیں ہوتی، یہ فصل کے لیے ماں جیسی ہوتی ہے ۔ اگر ماں خود کمزور ہو تو بچے بھی کمزور ہی ہوں گے۔ لیکن اگر ماں تندرست ہو، تو بچے (پودے) خود بخود تندرست اور توانا ہوں گے۔
تم نے ساری توجہ بیجوں اور کھادوں پر دی، مگر زمین کو نظر انداز کر دیا۔ یاد رکھو، جب زمین کی بنیاد مضبوط ہو، تو فصلیں بھی خود بخود بھر پور ہوتی ہے۔ کمزور زمین کمزور پیداوار دیتی ہے، اور کمزوری ہمیشہ کمزوری کو ہی جنم دیتی ہے۔ میں زمین پر ایسے محنت کرتا ہوں جیسے کوئی باغبان اپنے باغ کو سنوارتا ہے۔ زمین جب سکون میں آتی ہے، تو بیج ، پانی اور ہوا کا جادو خود بخود کام دکھانے لگتے ہیں۔ تم نے ساری محنت پودوں پر کی، مگر میں نے ماں (زمین) کو سنوارا، اور جب ماں خوش ہوتی ہے، تو بچے بھی ہنستے کھیلتے ہیں۔

پہلا شخص یہ باتیں سن کر کچھ دیر گہری سوچ میں ڈوبا رہا۔ پھر دھیرے سے مسکرایا، گویا کہ اسے کامیابی کا اصل راز مل گیا کہ صرف ظاہری طور پر نظر آنے والی چیزوں پر محنت کافی نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی کی جڑیں بنیادوں میں چھپی ہوتی ہیں۔ اسی طرح لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی ساری کی ساری توجہ محنت ظاہری طور پر مرکوز رکھتی ہے۔ مگر یہ حکمت سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ کوئی بھی کام صرف کرنا کافی نہیں ہوتا۔ اس کام کو سر انجام دینے سے پہلے اس کی حکمت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ کی توجہ صرف محنت کرنے پر مرکوز ہوتی ہے مگر اس کے اچھے اور برے پہلوئوں کے بارے میں نہیں تو پھر یہ چیز آپ کو کچھ خاص نتائج نہیں دے گی۔

حاصلِ سبق:
کامیابی صرف محنت سے نہیں آتی،
بلکہ صحیح حکمت، صحیح ترتیب اور بنیاد کی دیکھ بھال سے آتی ہے۔
جو لوگ صرف “نتیجے” پر محنت کرتے ہیں، وہ اکثر تھک جاتے ہیں، اور جو “بنیاد” کو سمجھ لیتے ہیں، وہ کم محنت میں زیادہ حاصل کر لیتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner