ایک دفعہ ایک استاد اور اس کا شاگرد سیر کے لیے نکلے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ ایک کھیت میں پہنچے جہاں شاگرد نے ایک جوڑا پرانے پھٹے ہوئے جوتے دیکھے۔ لگتا تھا کہ یہ جوتے کسی غریب کسان کے ہیں جو سارا دن سخت محنت کے بعد اب گھر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔
یہ دیکھ کر شاگرد کے ذہن میں شرارت سوجھی اور اس نے کہا، “استاد جی، کیوں نہ ہم یہ جوتے جھاڑیوں کے پیچھے چھپا دیں اور کسان کا انتظار کریں۔ مزہ آئے گا جب وہ اپنے جوتے نہ ملنے پر پریشان ہوگا..!!”
استاد کو یہ بات بری لگی۔ انہوں نے شاگرد کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹا، کسی غریب کے ساتھ ایسا ظالمانہ مذاق کرنا اچھی بات نہیں۔”
استاد نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے بولے، “بیٹا، میرے پاس ایک بہتر خیال ہے۔ کیوں نہ ہم اس کے دونوں جوتوں میں کچھ سکے رکھ دیں اور جھاڑیوں کے پیچھے چھپ جائیں۔ پھر دیکھتے ہیں کہ جب اسے اپنے پھٹے جوتوں میں سکے ملیں گے تو کسان کا کیا ردِ عمل ہوتا ہے؟”
شاگرد بھی غریب کسان کا ردِ عمل دیکھنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے استاد کے کہنے پر عمل کیا۔ دونوں نے جوتوں میں سکے رکھے اور جھاڑیوں کے پیچھے چھپ کر کسان کا انتظار کرنے لگے۔
کسان نے اپنا کام ختم کیا اور اس جگہ آیا جہاں اس نے اپنے جوتے رکھے تھے۔ جیسے ہی اس نے پاؤں جوتے میں ڈالا تو اسے کچھ سخت سی چیز محسوس ہوئی۔ جب اس نے دیکھا تو جوتے میں سکے تھے۔ کسان سکے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے سکے ہاتھ میں لیے اور غور سے دیکھا، پھر ادھر اُدھر دیکھنے لگا کہ شاید کوئی انہیں ڈھونڈ رہا ہو یا یہ کسی کے ہوں۔ جب اسے کوئی نظر نہ آیا تو اس نے وہ سکے اپنی جیب میں رکھ لیے۔
اس کے بعد جب کسان نے دوسرا پاؤں دوسرے جوتے میں ڈالا تو اسے پھر کچھ سخت سی چیز محسوس ہوئی۔ جب اس نے چیک کیا تو اس میں بھی کچھ سکے تھے۔ سکے دیکھ کر کسان کے جذبات پر قابو نہ رہا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
کسان نے اپنے ہاتھ جوڑے، آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، “اے خدا، اس انجان مددگار کا ہزار بار شکر ہے جس نے ضرورت کے اس وقت میری مدد کی۔ اس شخص کی مہربانی اور مدد کی وجہ سے اب میں اپنی بیمار بیوی کے لیے دوا خرید سکوں گا اور اپنے بھوکے بچوں کے لیے روٹی لے جا سکوں گا۔”
کسان کی باتیں سن کر شاگرد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ غریب کسان وہ سکے اپنی جیب میں رکھ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
غریب کسان کے جانے کے بعد استاد نے اپنے شاگرد سے سوال کیا، “اب مجھے بتاؤ، تمہیں کس بات سے زیادہ خوشی ملتی؟ اس کے جوتے چھپانے سے یا اس کے جوتوں میں سکے رکھنے سے؟”
شاگرد کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے کہا، “استاد جی، میں یہ سبق کبھی نہیں بھولوں گا جو آپ نے آج مجھے سکھایا۔ اب میں ان الفاظ کا مطلب سمجھ گیا ہوں: دینے کی خوشی لینے سے کہیں زیادہ ہے۔ دینے کی خوشی کی کوئی حد نہیں۔ شکریہ استاد جی۔”
کسی کو تکلیف دینے کے بجائے اگر ہم اس کی مدد کریں تو نہ صرف اس کی زندگی میں خوشی آتی ہے بلکہ ہمارے دل کو بھی سکون اور خوشی ملتی ہے.
