ایک بادشاہ کے پاس ایک پالتو ہاتھی تھا، جو بہت ضدی تھا۔ وہ روزانہ بازار جاتا، دکانیں تباہ کرتا اور لوگوں کو تنگ کرتا۔ عوام ہاتھی کی اس غنڈہ گردی اور بادشاہ کی “سیاسی طاقت” سے سخت پریشان تھے، لیکن کسی میں شکایت کرنے کی ہمت نہ تھی۔سسپنس اور سیاست:ایک دن، بازار کے تاجروں نے مل کر ایک سیاسی حکمتِ عملی بنائی۔ انہوں نے طے کیا کہ سب مل کر دربار جائیں گے اور بادشاہ سے ہاتھی کی شکایت کریں گے۔ تاجروں نے ملا نصر الدین کو اپنا لیڈر بنایا۔ ملا نے کہا: “جب میں دربار میں کہوں گا کہ ‘عالی جاہ! آپ کا ہاتھی…’ تو تم سب پیچھے سے بولنا ‘روزانہ ہماری دکانیں اجاڑتا ہے، اسے قید کریں!'” سب مان گئے۔
دربار لگا۔ بادشاہ تخت پر جاہ و جلال سے بیٹھا تھا۔ ملا نصر الدین آگے بڑھے۔ جیسے ہی ملا نے بولنا شروع کیا: “عالی جاہ! آپ کا وہ جو ہاتھی ہے…”بادشاہ نے غصے سے اپنی لال آنکھیں نکالیں اور گرج دار آواز میں پوچھا: “ہاں! کیا ہوا میرے ہاتھی کو؟”بادشاہ کا غضب دیکھ کر پیچھے کھڑے تمام تاجر ڈر کے مارے دباؤ میں آ گئے اور سب نے اپنے سر نیچے کر لیے۔ کوئی ایک لفظ نہ بولا۔ ملا نصر الدین نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سب غائب تھے!ملا نے فوراً اپنی سیاسی چال بدلی، مسکرائے اور بولے: “عالی جاہ! آپ کا ہاتھی شہر میں اکیلا بہت اداس رہتا ہے۔ ہم سب عوام یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ اس ہاتھی کی تنہائی دور کرنے کے لیے اس کے ساتھ ایک ‘ہتھنی’ بھی لائی جائے تاکہ اس کا دل لگا رہے!”بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور بولا: “بہت اچھے! ملا کو انعام دیا جائے اور کل ہی ایک ہتھنی لائی جائے!”جب سب دربار سے باہر آئے، تو تاجر ملا پر غصہ ہونے لگے کہ آپ نے یہ کیا کیا۔ ملا نے ہنس کر جواب دیا: “سیاست کا اصول ہے کہ جب ووٹرز اور سپورٹرز بزدل ہوں اور وقت پر پیٹھ دکھا جائیں، تو لیڈر کو اکیلے پھانسی پر چڑھنے کے بجائے اپنی حکمتِ عملی بدل لینی چاہیے۔ اب بھگتو دو ہاتھیوں کا عذاب!”
اخلاقی سبق
بزدلی کا انجام نقصان ہے: جب عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر کھڑی نہیں ہوتی اور خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتی ہے، تو ان کی مشکلات کم ہونے کے بجائے دوگنی ہو جاتی ہیں۔
