یہ کہا جاتا ہے کہ ارسطو اپنے شاگرد سکندرِ اعظم کو ہمیشہ عورتوں کی صحبت سے دور رہنے کی نصیحت کرتا تھا۔ اسی وجہ سے حرم کی عورتیں اس سے بہت خفا رہتی تھیں۔
ایک دن انہوں نے مل کر ایک چال چلی۔ انہوں نے ایک نہایت خوبصورت، شوخ اور دلکش کنیز کو ارسطو کی خدمت میں بھیج دیا۔ اس کنیز نے اپنے انداز و اشاروں کے جال میں ارسطو کو پھانس لیا اور ایک دن اچانک شرط رکھ دی کہ ارسطو گھوڑا بنے اور وہ اس کی پیٹھ پر سوار ہو۔
—
جب یہ مشہورِ زمانہ واقعہ ہو رہا تھا، ٹھیک اسی وقت حرم کی تمام عورتیں سکندر کے ساتھ کمرے میں داخل ہو گئیں۔ سکندر نے اپنے استاد کو ایک کنیز کے لیے واقعی “گھوڑا” بنے دیکھا تو حیران ہو کر بولا:
“اے استاد! یہ کیا استادی ہے؟ ہمیں عورتوں سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں اور خود یہ…؟”
—
ارسطو جو بہت چالاک تھا، فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور مسکراتے ہوئے بولا:
“میرے پیارے شہنشاہ! یہ سب کچھ تمہاری ہی تعلیم کے لیے کیا گیا ہے۔ خود سوچو، جو عورت اپنے استاد کو گھوڑا بنا سکتی ہے، وہ تمہیں تو گدھا بناکر رکھ دے گی…!”
