قسطنطنیہ کی سرحدوں سے آیا ہوا طبیب، جس کا نام ڈاکٹر لیو تھا، دمشق کی گلیوں میں اپنے علم کا ڈنکا بجا رہا تھا۔ وہ کہتا پھرتا تھا کہ اسلامی طبیب صرف کتابوں کے غلام ہیں، جبکہ وہ خود تجربات کا علم رکھتا ہے۔ ایک دن وہ سلطان صلاح الدین کے دربار میں پہنچا، اور اس نے زعم میں کہا:
“سلطان! آپ کے طبیب بیماروں کو جڑی بوٹیاں کھلاتے ہیں اور دعائیں پڑھتے ہیں۔ میں سائنس لے کر آیا ہوں۔ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ زہر کو بھی دوائی بنا سکتے ہیں، اگر مقدار صحیح ہو۔”
سلطان مسکرائے اور بولے: “اچھا! تو تم مقدار کا علم رکھتے ہو؟”
ڈاکٹر لیو نے گردن اکڑائی: “جی ہاں! میں سانپ کے زہر کو بھی قطرہ قطرہ پی سکتا ہوں اور بچ سکتا ہوں۔”
دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ کچھ نے اسے دیوانہ کہا، کچھ نے جھوٹا۔ لیکن سلطان نے خاموشی سے اپنے خاص خادم کو بلایا اور کچھ دیر کان میں سرگوشی کی۔
—
اگلی صبح، دربار میں ایک عجیب منظر تھا۔ سلطان کے سامنے دو شیشے کے پیالے رکھے گئے تھے۔ دونوں میں دودھ جیسا سفید مائع تھا۔ سلطان نے ڈاکٹر لیو کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
“اے طبیب! تم کہتے ہو کہ زہر کو مقدار سے دوائی بنا سکتے ہو۔ بہت اچھا۔ یہ دو پیالے ہیں۔ دونوں میں بالکل ایک جیسا دودھ ہے۔ لیکن ایک میں زہر کی ایک قطرہ بھی نہیں، دوسرے میں زہر کی صرف ایک قطرہ ہے۔ تمہیں ان میں فرق کرنا ہے۔”
ڈاکٹر لیو ہنس پڑا: “یہ تو ناممکن ہے سلطان! ظاہری شکل ایک جیسی ہے، بو ایک جیسی ہے، رنگ ایک جیسا ہے۔ میں کیسے پہچان سکتا ہوں؟”
سلطان نے نرمی سے کہا: “تم نے دعویٰ کیا تھا کہ تم مقدار کا علم رکھتے ہو۔ اگر تم زہر اور دودھ میں فرق نہیں کر سکتے تو تم نے یہ کیسے طے کرو گے کہ کتنا زہر دوائی بنے گا اور کتنا موت؟”
ڈاکٹر لیو خاموش ہو گیا۔ اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔
تب سلطان نے اپنے ایک معتمد طبیب کو اشارہ کیا۔ وہ طبیب ایک بکری لے کر آیا۔ سلطان نے ایک پیالے کا دودھ اس بکری کو پلایا۔ بکری نے چٹخ کر پی لیا اور خوشی سے دم ہلانے لگی۔ پھر دوسرا پیالہ ایک دوسری بکری کے سامنے رکھا گیا۔ اس نے منہ لگایا ہی تھا کہ چند سیکنڈ میں تڑپنا شروع کر دیا اور دم توڑ گئی۔
پورا دربار خاموش۔
سلطان نے ڈاکٹر لیو کی طرف دیکھا: “تم نے دیکھا؟ تمہاری آنکھوں نے دھوکہ دیا، تمہارے تجربات نے جھوٹ بولا۔ کیونکہ تم نے اس ذات کو نظرانداز کر دیا جو آنکھ کو بینائی دیتا ہے۔ اسلام نے شراب کو اس لیے حرام نہیں کیا کہ وہ زہر ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ عقل کو زہر دے دیتی ہے۔ اور عقل کے بغیر انسان، زندہ لاش ہے۔”
ڈاکٹر لیو کے گھٹنے لرز گئے۔ وہ بولنے کی کوشش کر رہا تھا مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔
سلطان نے آگے فرمایا: “ہمارے ہاں اصول ہے: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ کیونکہ نشہ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اور عقل ہی وہ چیز ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے۔ تم زہر کی مقدار تو ناپ سکتے ہو، لیکن عقل کی مقدار کون ناپے گا؟ کتنی شراب عقل کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے؟ ایک قطرہ؟ دو قطرہ؟ یا پورا پیالہ؟”
ڈاکٹر لیو نے آنکھیں نیچی کر لیں۔ آہستہ سے بولا: “میں نے… میں نے سوچا تھا کہ علم صرف کتابوں میں نہیں، تجربوں میں ہے۔ لیکن آج پتہ چلا کہ تجربہ بھی تب تک بے معنی ہے جب تک حکمت اس کے ساتھ نہ ہو۔”
سلطان نے اسے کندھے پر ہاتھ رکھا: “لیو، علم وہ نہیں جو تمہیں فخر دے، علم وہ ہے جو تمہیں عاجزی سکھائے۔ یونان کے بڑے بڑے فلاسفر نے عقل کی تعریف کی، لیکن عقل کو بچانے کا طریقہ نہیں بتایا۔ ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ عقل کو بچانا فرض ہے، اسی لیے ہر وہ چیز جو عقل کو زخمی کرے، حرام ہے۔”
ڈاکٹر لیو نے سر اٹھایا، آنکھوں میں نمی تھی: “سلطان، مجھے اس دین کے بارے میں مزید بتائیے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ محض پابندیوں کا دین نہیں، یہ تحفظ کا دین ہے۔”
وہیں دربار میں، ڈاکٹر لیو نے کلمہ پڑھ لیا۔ بعد میں وہ دمشق کے مشہور طبیبوں میں شمار ہوا، اور اکثر کہا کرتا تھا:
“میں نے یونان میں پڑھا کہ عقل سب سے بڑی نعمت ہے۔ لیکن اسلام میں آیا تو سیکھا کہ عقل کو محفوظ رکھنا بھی عبادت ہے۔”
—
✦ اس کہانی کا مرکزی پیغام ✦
اللہ نے جو چیزیں حرام کیں، ان میں سے اکثر کا تعلق عقل، جان، مال، نسل اور عزت کے تحفظ سے ہے۔ شراب اور نشہ آور اشیاء عقل کو مفلوج کر دیتی ہیں، اور عقل کے بغیر انسان حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آج کا جدید میڈیا، سوشل میڈیا، اور بے مقصد تفریح بھی ایک طرح کی نشہ آور چیز بن چکی ہے؟ جو ہماری عقل کو ڈیڈ لاک کر دیتی ہے، سوچنے کی صلاحیت ختم کر دیتی ہے، اور ہمیں بے حس بنا دیتی ہے۔
شاید اسی لیے حدیث میں آیا ہے: “ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر شراب حرام ہے۔”
آج بھی یہ سوال زندہ ہے: ہم اپنی عقل کو کس چیز سے بچا رہے ہیں؟ 🕌✨
