بلاعنوان۔۔۔😁!

بلاعنوان۔۔۔😁!

بشیر صاحب کے گھر میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب پپو میاں نے اعلان کیا کہ وہ اب دنیا داری چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ وجہ کوئی خاص نہیں تھی، بس پپو میاں لگاتار تین نوکریوں کے انٹرویو میں فیل ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دنیا انہیں سمجھنے کے لائق نہیں ہے۔
پپو میاں نے راتوں رات اپنے بال بڑھائے، گلے میں چار پانچ رنگ برنگے موتیوں والے دھاگے ڈالے اور ابا کی ایک پرانی ریشمی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر پیر پپو شاہ سرکار رکھ لیا۔
محلے میں خبر پھیل گئی کہ بشیر صاحب کا بیٹا پہنچا ہوا بزرگ بن گیا ہے۔ سب سے پہلے محلے کی ماسی برکتے آئی، جس کا بیٹا پڑھائی میں کمزور تھا۔ پپو میاں نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اور بولے:
مائی! تیرے بیٹے پر کالے کواڈراٹک فارمولے کا اثر ہے! اسے کہو کہ ریاضی کی کتاب کو روزانہ دہی میں بھگو کر اس کا پانی پئے، عقل ٹھکانے آ جائے گی۔
ماسی تو حیران رہ گئی کہ پپو میاں کو کیسے پتہ چلا کہ بیٹا ریاضی میں فیل ہوا ہے۔ آہستہ آہستہ پپو میاں کا آستانہ جو دراصل بشیر صاحب کا ڈرائنگ روم تھا عقیدت مندوں سے بھرنے لگا۔ کوئی کہتا کہ بھینس دودھ نہیں دے رہی، تو پپو میاں اسے انگریزی گانے سنانے کا مشورہ دیتے تاکہ بھینس کا موڈ خوشگوار رہے۔
بشیر صاحب پریشان تھے، وہ جب بھی ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے، پپو میاں غصے سے کہتے: اے فانی انسان! جوتے باہر اتار کر آؤ، یہاں روحانی لہریں چل رہی ہیں۔ بشیر صاحب دانت پیستے ہوئے باہر نکل جاتے کیونکہ پپو میاں کے مرید انہیں برا بھلا کہنا شروع کر دیتے۔
ایک دن محلے کا سب سے بڑا بدمعاش، گلو پہلوان، وہاں آ گیا۔ اس کا بازو ٹوٹ گیا تھا اور وہ سمجھا کہ پپو میاں کوئی معجزہ دکھائیں گے۔ پپو میاں نے حسبِ عادت آنکھیں بند کیں اور ایک دم سے گلو پہلوان کے ٹوٹے ہوئے بازو پر زور سے ہاتھ مار کر بولے:
جا بچہ! تیرا درد آج سے میرا ہوا!
گلو پہلوان نے جو زور دار چیخ ماری، اس سے محلے کے کبوتر اڑ گئے۔ درد دور ہونا تو دور کی بات، گلو پہلوان کو تارے نظر آگئے۔ اس نے وہیں اپنا دوسرا ہاتھ اٹھایا اور پپو میاں کا روحانیت والا چلہ ایک ہی سیکنڈ میں اتار دیا۔ پھر جو جوتوں کی بارش ہوئی، وہ دیکھنے کے لائق تھی۔
اسی وقت پولیس کی گاڑی بھی پہنچ گئی۔ کسی نے شکایت کر دی تھی کہ یہاں جعلی پیر لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ پولیس والے نے پپو میاں کا ہرا دوپٹہ اتارا اور ان کی اصلیت دیکھ کر بولا: اوئے پپو! تو یہاں بیٹھ کر لوگوں کے جن نکال رہا ہے؟ چل تھانے، وہاں تیرا بڑا جن نکالتے ہیں۔
جب پولیس والے نے پپو میاں کا گریبان پکڑا تو پپو میاں نے آخری پتہ کھیلا۔ انہوں نے عقیدت مندوں کی طرف ہاتھ لہرایا اور چیخ کر بولے: اے میرے مریدوں! دیکھو باطل کی قوتیں تمہارے پیر کو لے جا رہی ہیں، ان پر پھونکوں کی بارش کر دو!
مرید بیچارے جو پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے، انہوں نے پپو میاں کا حکم مانا اور سب نے مل کر پولیس والے پر ایسی پھونکیں مارنا شروع کیں کہ پورے کمرے میں پیاز، لہسن اور سگریٹ کی بدبو کا طوفان آ گیا۔ پولیس والے کا دم گھٹنے لگا اور وہ چلایا: اوئے! یہ پیر ہے یا کوئی گیس کا سلنڈر؟ اسے یہاں سے لے جاؤ ورنہ پورا تھانہ بے ہوش ہو جائے گا!
بشیر صاحب نے موقع غنیمت جانا اور پپو میاں کو بازو سے پکڑ کر اندر والے کمرے میں گھسیٹ لیاbox۔ پولیس والے بدبو سے بچنے کے لیے باہر بھاگے، تو پیچھے سے بشیر صاحب کی دھلائی سروس شروع ہوئی۔
پپو میاں کی چیخیں سن کر باہر کھڑے مرید سمجھے کہ پیر صاحب وجد میں آ گئے ہیں۔ ایک مرید بولا: سبحان اللہ! دیکھو پیر صاحب کی کیسی کیسی آوازیں نکل رہی ہیں، کبھی ہائے ابا کہتے ہیں تو کبھی بس کر دیں ابا ۔ یہ کوئی خاص قسم کا ذکر معلوم ہوتا ہے!
انجام:
اگلے دن پپو میاں محلے کی گلی سے گزر رہے تھے کہ ماسی برکتے نے روک کر پوچھا: شاہ جی! کل آپ کو کون سا نور نظر آ رہا تھا جو آپ آہ و پکار کر رہے تھے؟
پپو میاں نے لنگڑاتے ہوئے جواب دیا: ماسی! وہ نور نہیں تھا، وہ ابا کا نورِ نظر یعنی ان کا پرانا لیدر کا جوتا تھا، جو میری کمر پر لائیو ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا۔
تب سے پپو میاں نے پیری فقیری سے توبہ کر لی ہے۔ اب وہ گھر کے باہر بورڈ لگا کر بیٹھے ہیں جس پر لکھا ہے:
یہاں ہر قسم کے جن نکالے جاتے ہیں… شرطیہ علاج بذریعہ بشیر صاحب کا جوتا!

Leave a Reply

NZ's Corner