بلاعنوان۔۔۔😃!

بلاعنوان۔۔۔😃!

ایک شہری بابو اپنی چمچماتی کار اور چھمچھم کرتی بیگم کے ساتھ ایک دیہاتی سڑک پر جارہا تھا۔ آس پاس کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک پکی سڑک ختم ہوگئی اور ایک ٹوٹا ہوا کچا راستہ شروع ہوگیا۔ اس کچے راستے پر بے پناہ کیچڑ تھا اور کار کیچڑ میں پھنس گئی۔

شہری بابو نے بہت زور لگایا مگر کار اندر ہی دھنستی چلی گئی۔ اتنے میں زلیخا اپنے ٹریکٹر کے ساتھ ادھر سے گزری۔ شہری بابو نے اس سے مدد مانگی۔

زلیخا نے کہا،
“میں مدد تو کر دوں گی، لیکن اس کے لیے پانچ سو روپے لگیں گے۔”

بابو نے کہا،
“ٹھیک ہے، یہ لو پیسے۔”

زلیخا نے رسہ ڈال کر ٹریکٹر کی مدد سے کار کو کیچڑ سے باہر نکال دیا۔ زلیخا نے کہا،
“آج یہ دسویں کار ہے جسے ہم نے دھکا لگایا ہے۔”

بابو بولا،
“سارا دن تو تم یہ دھکا لگانے میں گزار دیتی ہو، کھیتی باڑی کب کرتی ہو؟ رات کو ہل چلاتی ہوگی؟”

زلیخا ہنس کر بولی،
“نہیں جناب، رات کو میں ہل نہیں چلاتی، رات کو تو میں اس کچے راستے کو پانی لگاتی ہوں۔”

منقول

Leave a Reply

NZ's Corner