ایک میراثی کی بھینس کو “مُنہ کُھر” کی بیماری ہو گئی، اس کے جبڑے کے نچلے حصے پر برا سا دانہ نکل آیا، اس نے گاؤں کے ایک سیانے بزرگ کو احوال سنایا تو بزرگ بولے،
“کچھ عرصہ پہلے میری بھینس کو بھی ایسی بیماری ہو گئی تھی، میں نے تو اسکا منہ دو درختوں کے درمیان باندھا، ایک طرف قصائی کی گوشت کاٹنے والی لکڑی (مُڈھی) رکھی اور دوسری طرف سے کِلا ٹھوکنے والی لکڑ سے ایک بھرپور ضرب لگائی تھی، منہ کَھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا تھا…”
میراثی کو علاج مل گیا تھا اور فوراً مزید کوئی بات کیے گھر کی طرف بھاگ نکلا۔ جیسے مزید ایک لفظ بھی سننے کو رکا تو بھینس جیسے مر ہی جائے گی۔ اور جاتے ہی بھینس کو اسی طریقے سے باندھا اور ایک بھرپور ضرب بھینس کے گلے پہ لگائی، بدقسمتی سے ضرب اس قدر شدید لگی کہ بھینس مر گئی، اب میراثی غصے میں اسی جٹ کے پاس آیا اور بولا،
“آپ نے کیسا علاج بتایا ہے، اس سے تو میری بھینس ہی مر گئی۔”
بزرگ نے حُقے کی ” نے” کو منہ سے نکالا اور بولے،
“مر تے میری وی گئی سی، پر مُنہ کَھر کدی واپس نہیں آیا”
(مَر تو میری بھینس بھی گئی تھی، مگر منہ کَھر واپس نہیں آیا کبھی)
سچ ہے کہ جلد بازی اکثر نقصان پہنچاتی ہے۔
منقول
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
