ایک گاؤں میں روٹی کھاتے ہوئے ایک میراثی کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا:
“امّاں! اگر چوہدری مر جائے تو گاؤں کا نیا چوہدری کون بنے گا؟”
ماں نے جواب دیا: “بیٹا! اس کا بیٹا بنے گا۔”
بیٹے نے پھر سوال کیا: “اگر وہ بھی مر گیا تو؟”
ماں بولی: “پھر چوہدری کا بھتیجا یا اس کے چاچے کا پتر (بیٹا) کرسی سنبھالے گا۔”
بیٹے نے اشتیاق سے دوبارہ پوچھا: “اچھا امّاں! اگر وہ بھی نہ رہا… تو پھر؟”
اب ماں بیٹے کے دل میں چھپی مراد اور ذہن میں پلنے والی ‘کھچڑی’ سمجھ گئی تھی۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور غصے سے کہا:
“پتر! جے سارا پنڈ (گاؤں) وی مر جائے، تیکوں چوہدری فیر وی کسے نئیں بنانڑاں۔ چپ کر تے ٹُکر کھا!”
(ترجمہ: بیٹا! اگر سارا گاؤں بھی مر جائے، تب بھی تمہیں کسی نے چوہدری نہیں بنانا۔ خاموشی سے اپنی روٹی توڑو!)
حاصلِ کلام
سچ تو یہ ہے کہ اس کہانی کا وہ بچہ آج کی عام عوام ہے جو برسوں سے کسی معجزے یا تبدیلی کی آس لگائے بیٹھی ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہی ہے کہ مقتدر حلقے اور اشرافیہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک عام آدمی ان کے برابر آکر کھڑا ہو یا ان کے اقتدار میں حصہ دار بنے۔ وہ نظام کو اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ عام بندہ صرف خواب دیکھ سکتا ہے، اسے تعبیر دینے کا اختیار ان کی دہلیز پر دم توڑ دیتا ہے۔
#photographychallengechallengeraphychallengechallenge #photographychallengeraphychallenge #viralchallenge #photographychallenge #PhotoEditingChallenge #motivation
