ایک بار تعلیم کے محکمے کا ایک “بڑا افسر” معائنے (چیکنگ) کے لیے ایک گاؤں کے مدرسے میں پہنچا۔
افسر نے ایک کلاس (جماعت) میں جا کر بچوں کا امتحان لینا چاہا۔
اس نے ایک بچے کو کھڑا کیا اور تاریخ کا ایک سوال پوچھا:
“بیٹا! کھڑے ہو جاؤ اور یہ بتاؤ کہ ‘سومنات کا دروازہ’ کس نے توڑا تھا؟”
بچہ سوال سنتے ہی گھبرا گیا، اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ روتے ہوئے بولا:
“صاحب جی!… اللہ کی قسم، میں نے نہیں توڑا!… میں تو آج مدرسے آیا ہی دیر سے تھا، مجھے نہیں پتہ کس نے توڑا ہے۔”
افسر یہ جواب سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے غصے سے “استاد” کی طرف دیکھا اور کہا:
“ماسٹر صاحب! یہ بچہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں تاریخ کا سوال پوچھ رہا ہوں اور یہ اپنی صفائیاں دے رہا ہے؟”
استاد نے اپنی عینک ٹھیک کی، چھڑی میز پر رکھی اور بڑے اطمینان سے بولے:
“صاحب جی! آپ غصہ نہ کریں… میں اس بچے کو اچھی طرح جانتا ہوں، یہ بہت شریف اور غریب گھرانے کا ہے۔ یہ تو چھوٹی سی ‘چیونٹی’ بھی نہیں مارتا، اتنا بڑا دروازہ کیسے توڑے گا؟”
“میرا خیال ہے کہ یہ کام ضرور پچھلی گلی کے آوارہ لڑکوں کا ہے، وہی ایسی شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔”
افسر نے اپنا سر پیٹ لیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہاں جہالت کا یہ عالم ہے۔
وہ غصے میں بھرا ہوا شکایت لگانے کے لیے سیدھا گاؤں کے “بڑے چوہدری” کی حویلی پہنچا۔
افسر نے چوہدری صاحب کو ساری بات بتائی کہ میں نے کیا سوال پوچھا، بچے نے کیا جواب دیا اور استاد نے کیا کہا۔
افسر نے کہا:
“چوہدری صاحب! آپ کے گاؤں میں تعلیم کا یہ حال ہے کہ کسی کو نہیں پتہ کہ سومنات کا دروازہ کس نے توڑا تھا؟”
چوہدری صاحب نے حقے کا ایک لمبا کش لگایا، افسر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے بولے:
.
.
“ارے افسر صاحب!… آپ کیوں اپنا خون جلاتے ہیں؟ آپ شہر سے آئے ہیں، ہمارے مہمان ہیں، آرام سے ٹھنڈا پانی پئیں اور کھانا کھائیں…”
“چھوڑیں اس دروازے کو!… جس کمبخت نے بھی توڑا ہے، اس پر مٹی ڈالیں…”
“آپ فکر نہ کریں… لکڑی ہماری اپنی زمینوں کی ہے، بڑھئی (ترکھان) بلا کر ہم آپ کو کل ہی ‘نیا دروازہ’ لگوا دیں گے!!”😂😂🤣🤣🤣🤣
