بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

جگنو ٹیلرز : بے گناہ اور ناحق ق۔ت۔ل خود پکار اٹھتا ہے ۔۔۔۔ 1998 میں ایک مزدور کےاندھے ق۔ت۔ل کی تفتیش کی روداد جب واقعات کی کڑیاں ایسے ملتی گئیں کہ تفتیشی افسران بھی حیران رہ گئے ۔۔۔۔۔ گوجرانوالہ میں ایک روز پولیس کو اطلاع ملی کی ایک لا۔ش کسی ٹوبہ یا تالاب میں تیر رہی ہے ، پولیس موقع پر پہنچی ، لا۔ش کے گل سڑ جانے اور پھول جانے کی وجہ سے شناخت ممکن نہ تھی ، ایک ہجوم جمع تھا مگر کسی نے شناخت نہ کی ، لہذا رسمی کارروائی کے بعد پولیس نے لا۔ش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ، متوفی کی جیب سے بھی کچھ نہ ملا تھا ، پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت سر پر لگنے والی چوٹ بتائی گئی اور یہ کہ ٹوبہ میں پھینکے جانے سے قبل اس شخص کی موت ہو چکی تھی جسے ق۔ت۔ل کیا گیا ہے ۔۔۔۔ لا۔ش کو لاوارث قرار دے کر امانتا دفن کردیا گیا اور دیگر ضلع جات اور تھانوں کو بھی مطلع کردیا گیا تاکہ وارثان کا پتہ چل سکے مگر کہیں سے کوئی اطلاع نہ آئی ۔۔۔ 10 روز گزرے تو اس کیس کے تفتیشی افسر سید امجد حسین نے نئے سرے سے اس کیس کی تفتیش شروع کردی ، انہوں نے تھانے کے مال خانے سے مق۔تول کے کپڑے اٹھائے جنہیں مال مقدمہ کے طور پر محفوظ کر لیا گیا تھا اور انکا بغور جائزہ لیا ، کچھ بھی نہ نکلا مگرقمیض کے پچھلی سائیڈ پر اندر کی طرف جگنو ٹیلرز کا چھوٹا سا ٹیگ نظر آگیا ، پتہ کروایا گیا تو شہر میں اس نام سے دو دکانوں کا پتہ چلا ، پہلی دکان والوں نے سوٹ دیکھ کر کہا یہ ہمارا نہیں دوسری دکان کا سلا سوٹ ہے ، دوسری دکان پر پولیس پہنچی اور ٹیلر ماسٹر کو سوٹ دکھایا تو اس نے نہ صرف تسلیم کیا کہ سوٹ انہوں نے تیار کیا تھا بلکہ رجسٹر کا معائنہ کرکے اور ناپ وغیرہ دیکھ کر بتا دیا کہ یہ شہر کے ایک مہر صاحب نامی آڑھتی ایک سال قبل سلوا کر لے گئے تھے ، درزی نے مہر صاحب کا پتہ بتا دیا ، پولیس والے پریشان ہو گئے کہ کہیں وہ لاوارث دفن کردہ مہر صاحب ہی نہ ہوں لیکن پولیس انکے گھر پہنچی تو شام کا وقت تھا مہر صاحب گھر پر تھے ، سوٹ دیکھ کر انہوں نے کہا لگتا تو میرا ہے لیکن میں بیگم سے پوچھتا ہوں ، بیگم صاحبہ نے تصدیق کردی کہ سوٹ انکا ہی ہے لیکن یہ میں نے 3،4 ماہ قبل اپنی نوکرانی کو دے دیا تھا جس نے اپنے شوہر کے لیے پرانے کپڑے مانگے تھے ، پتہ چلا کہ نوکرانی کئی دنوں سے کام پر بھی نہیں آرہی ، خیر اس نوکرانی کے گھر کا پتہ معلوم کرکے پولیس وہاں پہنچی تو ایک پریشان حال عورت نے دروازہ کھولا ۔ اسے سوٹ دکھایا گیا اور دفن کردہ میت کے چہرے کی تصویر دکھائی گئی تو تصویر کو یہ شناخت نہ کر سکی لیکن سوٹ اس نے پہچان لیا کہ یہ اسکے شوہر نے پہنا ہوا تھا جب 15 روز قبل وہ ایک فیکٹری میں کام پر گیا اور پھر واپس نہیں آیا ، خاتون کے بقول وہ فیکٹری گئی لیکن مالکان نے کہا کہ وہ 2 ہفتے سے غیر حاضر ہے ، خاتون نے فیکٹری کا پتہ بتایا تو یہ فیکٹری اس ٹوبے والے مقام سے چند سو فٹ کے فاصلے پر تھی جہاں سے مق۔تول کی لا۔ش ملی تھی ، پولیس ٹیم فیکٹری پہنچی اور اس مزدور کے بارے میں پوچھا گیا تو فیکٹری مالک کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور اس نے خود اعتمادی کی مصنوعی اداکاری کرکے پولیس والوں پر رعب ڈالنا چاہا کہ یہ تو ہمارے ایڈوانس پیسے کھا کر بھاگ گیا ہے ، ہم تو خود اسے ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔ آپ کو ملے تو بتائیے گا ہم آپ کو چایے پانی دیں گے ۔۔۔۔ اس بات پر پولیس نے انہیں تھانے چلنے کو کہا ، چار وناچار فیکٹری مالک اور اسکا جوان سال بیٹا پولیس والوں کے ہمراہ تھانے پہنچے ، پہلے احترام سے ان سے سوال کیا گیا کہ اس مزدور کے بارے میں کچھ علم ہے تو بتاؤ ۔۔۔ فیکٹری مالک بولا استٖغفراللہ ، ہمیں کچھ نہیں پتہ ۔۔۔ اسکے بعد تفتیشی افسر نے اپنے ایک 6 فٹ 2 انچ قد والے پہلوان ٹائپ کانسٹیبل کو بلایا اور فیکٹری مالک باپ کو اسکے حوالے کردیا گیا ، 5 منٹ بعد والد صاحب کے بعد برخوردار کی باری آگئی ، اس پر بھی پانچ منٹ محنت کی گئی جسکے بعد باپ بیٹا خود بولے : جناب: یہ مزدور اپنے ایڈوانس والے پیسے کلیئر کرنے کے چکر میں اوور ٹائم لگا رہا تھا، کسی بات پر میرے بیٹے نے اسے گا۔لی دی تو جواب میں مزدور نے بھی اسے گا۔لی دی ، جوان خون تھا اس نے لوہے کا سریا اٹھایا اور مزدور کے سر میں دے مارا جس سے وہ گر پڑا اور اسکی موت واقع ہو گئی ، فیکٹری میں اس وقت بیٹے چوکیدار اور اس مزدور کے علاوہ کوئی نہ تھا ، بیٹے کو اور کچھ سمجھ نہ آیا اس نے چوکیدار کی مدد سے مزدور کی لا۔ش قریبی ٹوبے میں جا کر پھینک دی اور جب کچھ روز گزر گئے تو یہ بے فکر ہو چکے تھے کہ انکا جرم چھپ چکا تھا ۔۔۔۔۔ پولیس نے دونوں باپ بیٹے کو چالان کرکے جیل بھیج دیا تھا مگر ایک سال بعد ملزمان کے لواحقین نے مزدور کی بیوہ کو دیت کی رقم ادا کرکے صلح نامے پر دستخط کروا لیے جسکے بعد باپ بیٹے کو رہا کردیا گیا تھا ۔

Leave a Reply

NZ's Corner