بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

خلیفۂ بغداد ہارون الرشید کے درباری
حکیموں میں ایک نصرانی طبیب بھی تھا،
جو بادشاہ کا بہت ہی معتمد اور منہ چڑھا ہوا تھا۔ ایک
دن اس نے برسرِ دربار ایک جید عالم علی بن حسین بن واقد سے کہا کہ تمہاری کتاب قرآنِ شریف میں علمِ طب کا کہیں کوئی ذکر نہیں، حالانکہ تمام علوم میں سب سے زیادہ ممتاز اور بلند مرتبہ دو ہی علم ہیں: ایک علمُ الادیان اور دوسرا علمُ الابدان۔

علی بن حسین نے اس کے جواب میں برجستہ فرمایا: کیا تمہیں خبر ہے کہ پورا علمِ طب خداوندِ قدوس نے قرآنِ مجید کی صرف آدھی آیت میں جمع فرما دیا ہے؟
نصرانی طبیب نے حیران ہو کر پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟
علی بن حسین نے فرمایا: ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾
یعنی کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔

یہ سن کر نصرانی طبیب ہکا بکا رہ گیا۔ پھر کہنے لگا: اچھا یہ بتاؤ کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے بھی اصولِ طب کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا ہے؟
علی بن حسین نے فرمایا: ہمارے پیغمبرِ اسلام ﷺ نے تو بہت کچھ ارشاد فرمایا ہے، مگر تم اس وقت صرف ایک حدیث مان لو:

«الْمِعْدَةُ بَيْتُ الدَّاءِ، وَالْحِمْيَةُ رَأْسُ كُلِّ دَوَاءٍ، وَعَوِّدُوا كُلَّ جِسْمٍ مَا اعْتَادَ»

یعنی معدہ تمام بیماریوں کا گھر ہے، پرہیز تمام دواؤں کا سردار ہے، اور ہر جسم سے وہی کام لو جس کا وہ عادی ہے۔

یہ سن کر نصرانی طبیب فرطِ حیرت سے علی بن حسین کا منہ تکنے لگا اور کہنے لگا:
«مَا تَرَكَ كِتَابُكُمْ وَلَا نَبِيُّكُمْ لِجَالِينُوسَ طِبًّا»
یعنی تمہاری کتاب اور تمہارے نبی ﷺ نے تو جالینوس کے لیے کوئی طب چھوڑی ہی نہیں۔
(روحُ البیان، ج 3، ص 155)

نتیجہ:
قرآنِ مجید تمام علوم کا جامع ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ارشاد ہے:

جَمِيعُ الْعِلْمِ فِي الْقُرْآنِ وَلَكِنْ
تَقَاصَرَ عَنْهُ أَفْهَامُ الرِّجَالِ

یعنی قرآنِ مجید میں تمام علوم موجود ہیں، مگر لوگوں کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ کا یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ جب بھی کفار نے اس قسم کے سوالات کیے، اللہ تعالیٰ علماءِ حق کو قرآنِ مجید سے ایسے جوابات کا الہام فرماتا ہے کہ قرآن کا بول بالا اور کفار کا منہ کالا ہو جاتا ہے۔

✭ نوٹ:- مزید دلچسپ اور ایمان افروز واقعات و حکایات کے لئے ہمیں فالو کر لیں شُکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner