ایک بہت ہی کنجوس سیٹھ اپنے ملازم پر چلا رہا تھا:
“اوئے! تم لوگ بہت بجلی ضائع کرتے ہو۔ آج کے بعد اگر کوئی پنکھا یا لائٹ فضول چلتی نظر آئی تو میں تنخواہ کاٹ لوں گا!”
ملازم ڈر گیا۔
اگلے دن سیٹھ صاحب گھر آئے تو دیکھا کہ ملازم اندھیرے میں الٹا لٹکا ہوا ہے۔
سیٹھ نے حیران ہو کر پوچھا: “اوئے! یہ کیا کر رہے ہو؟ اور لائٹ کیوں بند ہے؟”
ملازم نے الٹے لٹکے لٹکے جواب دیا:
“سیٹھ صاحب! آپ ہی نے تو کہا تھا بجلی بچاؤ۔ میری پینٹ کی جیب سے 10 کا سکہ گر گیا تھا، اسے ڈھونڈنے کے لیے لائٹ جلانی پڑتی۔۔۔
اس لیے میں نے سوچا کہ الٹا لٹک جاؤں تاکہ وہ سکہ خود ہی جیب سے نیچے گر جائے، اور بجلی بھی نہ جلے!”
سیٹھ صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے (خوشی کے نہیں، صدمے کے) اور بولے:
“شاباش بیٹا!۔۔۔ لیکن یہ جو تو ادھر ادھر ہل کر ‘پنکھے’ کی ہوا لے رہا ہے، اس کے پیسے کون دے گا؟؟”
💡🤸♂️😂😂
