قدیم فارس کے ایک شہر میں ایک آئینہ ساز رہتا تھا۔ اس کا نام کسی کو یاد نہیں رہا، مگر اس کے آئینے مشہور تھے۔ وہ آئینہ ایسا بناتا تھا کہ دیکھنے والا صرف چہرہ نہیں، اپنی نیت بھی دیکھ لیتا تھا۔ اسی لیے امیر لوگ اس کی دکان سے گزرتے تو نظریں چرا لیتے، اور حکمران اس کے شہر آنے پر دکان بند کرواتے۔
ایک دن شہر کا گورنر آیا۔ اس نے حکم دیا:
“میرے لیے ایسا آئینہ بناؤ جس میں میں خود کو عظیم دیکھوں۔”
آئینہ ساز نے کہا:
“آئینہ عظمت نہیں بناتا، دکھاتا ہے۔”
گورنر نے سونا پھینکا اور کہا:
“یہ دکھائے گا وہی جو میں چاہوں۔”
آئینہ بنا۔ گورنر نے دیکھا تو مسکرا دیا وہ خود کو فاتح، عادل اور محبوب حکمران دیکھ رہا تھا۔ خوش ہو کر اس نے آئینہ محل میں رکھ لیا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ جو بھی درباری اس آئینے میں خود کو دیکھتا، خاموش ہو جاتا۔ کچھ دنوں بعد دربار خالی ہونے لگا۔ وزراء بہانے بنانے لگے، مشیر بیمار پڑنے لگے۔
ایک رات گورنر نے اپنے بیٹے کو آئینہ دکھایا۔ بیٹا دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا۔
“ابا، یہ آئینہ سچ نہیں دکھاتا۔”
گورنر غصے میں آ گیا:
“خاموش! یہ آئینہ میری طاقت کی نشانی ہے۔”
اسی رات شہر میں بغاوت ہوئی۔ گورنر نے لشکر جمع کیا، مگر کوئی ساتھ نہ آیا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا اور پہلی بار تنہا دیکھا۔ اس بار منظر بدلا ہوا تھا۔ اسے ایک اکیلا آدمی نظر آیا اونچی کرسی پر، مگر خالی ہال میں۔
وہ آئینہ لے کر آئینہ ساز کے پاس پہنچا۔ چیخ کر بولا:
“تم نے مجھے دھوکہ دیا!”
آئینہ ساز نے آئینہ زمین پر رکھ کر توڑ دیا۔
“نہیں، تم نے خود کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ جب تک لوگ ساتھ تھے، آئینہ تمہاری مرضی دکھاتا رہا۔ جب لوگ ہٹ گئے، آئینہ اکیلا سچ دکھانے لگا۔”
گورنر خاموش ہو گیا۔ وہ رات شہر چھوڑ کر چلا گیا۔ تاریخ میں اس کا نام نہ بچا، مگر آئینہ ساز کی ایک بات شہر میں ضرب المثل بن گئی:
“جو سچ خریدنا چاہے، وہ آخرکار تنہائی خرید لیتا ہے۔”
سبق
طاقت اگر خوشامد کے آئینے میں دیکھی جائے تو حقیقت چھپ جاتی ہے۔ جب لوگ ساتھ چھوڑ دیں، تب سچ خود کو دکھاتا ہے بغیر اجازت۔
حوالہ جات
فارسی تمثیلی و اخلاقی حکایات
شاہنامہ اور درباری ادب کی روایتی علامتیں
