دو سادہ لوح دیہاتی دوست شہر گھومنے آئے۔ رات کو وہ ایک “مسافر خانے” (سرائے) میں ٹھہرے۔
جیسے ہی انہوں نے بتی بجھائی اور سونے کے لیے لیٹے، مچھروں نے حملہ کر دیا۔
مچھروں نے کاٹ کاٹ کر ان کا برا حال کر دیا۔
پہلا دوست تنگ آ کر اٹھ بیٹھا اور بولا:
“یار! یہ مچھر تو بہت ظالم ہیں، یہ تو ہمیں سونے نہیں دیں گے۔ کوئی ترکیب نکالو۔”
دوسرے دوست نے دماغ لڑایا اور بولا:
“بھائی! ایسا کرتے ہیں کہ کمرے کا ‘چراغ’ (بتی) بجھا دیتے ہیں۔ جب اندھیرا ہو جائے گا تو مچھروں کو ہم نظر ہی نہیں آئیں گے اور وہ ہمیں کاٹ نہیں سکیں گے۔”
پہلے دوست کو بات پسند آئی۔ اس نے پھونک مار کر چراغ بجھا دیا۔
کمرے میں گھپ اندھیرا ہو گیا۔ دونوں اطمینان سے لیٹ گئے۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کھلی کھڑکی سے ایک “جگنو” (وہ کیڑا جس کی دم میں روشنی ہوتی ہے) اڑتا ہوا کمرے میں آ گیا۔
اندھیرے میں جگنو کی چمکتی ہوئی روشنی دیکھ کر پہلا دوست خوف سے چیخ پڑا اور دوسرے دوست کو ہلا کر بولا:
.
.
“اٹھ بھائی!… بھاگ جا یہاں سے!…”
“یہ مچھر تو بہت ہوشیار اور ڈھیٹ نکلے ہیں…”
“ہم نے اندھیرا کیا تھا کہ یہ ہمیں دیکھ نہ سکیں… لیکن یہ کمبخت تو اب ہمیں ڈھونڈنے کے لیے ساتھ ‘لالٹین’ لے کر آ گئے ہیں!”🤣😂😂😂😂
