بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ ایک پرانے شہر کی بات ہے جہاں گلیاں تنگ تھیں مگر دل کشادہ۔ ایک مسلمان شخص رہتا تھا جس کی سب سے نمایاں عادت یہ تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد محبت اور یقین سے کہتا:
“حضرت محمد ﷺ پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔”
وہ یہ جملہ دکھاوے کے لیے نہیں کہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سچائی اور دل میں کامل یقین ہوتا تھا۔ وہ دکان پر ہو، گھر میں ہو یا راستے میں چل رہا ہو — زبان پر درودِ پاک جاری رہتا۔
اسی کے ساتھ والی دیوار کے پار ایک یہودی تاجر رہتا تھا۔ وہ ذہین تھا مگر دل میں حسد کی آگ رکھتا تھا۔ اسے اپنے مسلمان پڑوسی کی یہ باتیں کھٹکتی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ یہ شخص لوگوں کو سادہ لوح بنا رہا ہے۔
ایک دن اس نے دل میں سوچا:
“میں اس کے یقین کو توڑ کر رہوں گا۔ اسے ایسی آزمائش میں ڈالوں گا کہ وہ خود مان لے گا کہ درود کی تاثیر محض وہم ہے۔”
چنانچہ اس نے ایک ماہر سنار کو بلایا اور کہا:
“مجھے سونے کی ایک نہایت قیمتی انگوٹھی بنا کر دو۔ ایسی کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔ مگر اس کے اندر ایک خفیہ نشان بھی بنا دینا تاکہ میں اسے پہچان سکوں۔”
سنار نے حیرت سے پوچھا، “حضور، کیا خاص بات ہے اس میں؟”
یہودی نے مسکرا کر کہا،
“بس تم اپنا کام کرو۔ باقی میں جانوں۔”
چند دن بعد انگوٹھی تیار ہو گئی۔ خالص سونا، بیچ میں چمکتا یاقوت، اور اندرونی حصے میں ایک مخصوص خفیہ نشان۔
یہودی نے ایک منصوبہ بنایا۔
ایک صبح وہ بڑی محبت سے مسلمان پڑوسی کے پاس آیا اور بولا،
“پڑوسی! میں سفر پر جا رہا ہوں۔ یہ انگوٹھی بہت قیمتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے امانت کے طور پر تمہارے پاس رکھ جاؤں۔”
مسلمان نے فوراً کہا،
“امانت رکھنا میرے لیے باعثِ عزت ہے۔”
یہودی نے انگوٹھی اس کے حوالے کر دی اور چلا گیا۔ مگر اصل میں وہ شہر ہی میں تھا، بس چھپ کر موقع کی تاک میں تھا۔
اسی رات وہ چپکے سے مسلمان کے گھر کے صحن میں آیا۔ اسے معلوم تھا کہ انگوٹھی کہاں رکھی گئی ہے۔ موقع پا کر اس نے وہ انگوٹھی چرا لی اور اسے شہر کے قاضی کے گھر کے صحن میں پھینک دیا۔
اگلی صبح وہ شور مچاتا ہوا مسلمان کے دروازے پر آیا۔
“میری انگوٹھی واپس کرو!”
مسلمان نے حیرت سے کہا،
“وہ تو امانت کے طور پر رکھی ہے۔ ابھی لاتا ہوں۔”
وہ اندر گیا، مگر جب صندوق کھولا تو انگوٹھی غائب تھی۔
اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ باہر آیا۔
“انگوٹھی یہاں نہیں ہے… شاید کہیں ادھر اُدھر ہو گئی ہو۔”
یہودی نے چیخنا شروع کر دیا،
“تم نے میری امانت چرا لی! میں قاضی کے پاس جاؤں گا!”
بات شہر میں پھیل گئی۔ لوگ جمع ہو گئے۔ مسلمان پریشان تھا، مگر اس کے لبوں پر پھر بھی درود جاری تھا۔
لوگوں نے کہا،
“اگر تم سچے ہو تو اپنے دعوے کے مطابق درود پڑھو اور دعا کرو کہ سچ ظاہر ہو جائے۔”
مسلمان نے سکون سے وضو کیا، دو رکعت نفل ادا کیے اور نہایت عاجزی سے عرض کیا:
“یا اللہ! میں بے گناہ ہوں۔ میں نے ہمیشہ تیرے حبیب ﷺ پر درود بھیجا ہے، تو آج میری لاج رکھ لے۔”
اسی وقت شہر کے قاضی کے گھر میں ہلچل مچی۔ ان کے نوکر نے صحن میں ایک چمکتی ہوئی چیز دیکھی۔ اٹھا کر دیکھا تو سونے کی انگوٹھی تھی۔
قاضی نے حیرت سے اسے پہچانا۔ وہ نشان اندر موجود تھا جو صرف مالک کو معلوم تھا۔ انہوں نے فوراً اعلان کیا کہ انگوٹھی ان کے گھر میں ملی ہے۔
یہ خبر بازار تک پہنچی۔ مجمع قاضی کے گھر کے سامنے جمع ہو گیا۔
قاضی نے یہودی کو بلایا اور پوچھا،
“کیا یہ تمہاری انگوٹھی ہے؟”
یہودی کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
“جی… جی ہاں۔”
“یہ تمہارے پڑوسی کے گھر سے نہیں، میرے صحن سے ملی ہے۔ یہ وہاں کیسے پہنچی؟”
یہودی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ پسینہ اس کے ماتھے پر آ گیا۔
قاضی نے سخت لہجے میں کہا،
“سچ بتاؤ، ورنہ سزا کے لیے تیار رہو۔”
آخرکار وہ ٹوٹ گیا۔
“میں نے خود چرائی تھی… میں اسے ذلیل کرنا چاہتا تھا۔”
لوگوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ مسلمان خاموش کھڑا تھا، آنکھوں میں آنسو اور زبان پر درود۔
قاضی نے فرمایا،
“تم نے جھوٹا الزام لگا کر ایک بے گناہ کو رسوا کرنا چاہا۔ یہ جرم سنگین ہے۔”
یہودی شرمندہ ہو کر مسلمان کے قدموں میں گر گیا۔
“میں نے تمہارے یقین کو آزمانا چاہا تھا۔ مگر آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ اپنے بندوں کی لاج رکھتا ہے۔”
مسلمان نے اسے اٹھایا اور کہا،
“میرا کوئی کمال نہیں۔ سب میرے نبی ﷺ کے صدقے ہے۔ درود دل سے پڑھو، دکھاوے سے نہیں۔”
یہودی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“مجھے سکھاؤ کہ وہ درود کیسے پڑھتے ہیں۔”
اس دن گلی کا منظر بدل گیا۔ حسد کی جگہ حیرت نے لے لی، اور حیرت کی جگہ احترام نے۔
لوگ کہتے تھے کہ اس واقعے کے بعد وہ یہودی نرم دل ہو گیا۔ وہ اکثر اپنے مسلمان پڑوسی کے ساتھ بیٹھتا اور اس سے دین کی باتیں سنتا۔
مسلمان نے کبھی فخر نہ کیا۔ وہ پہلے کی طرح سادہ زندگی گزارتا، اور پہلے کی طرح زبان پر درود جاری رکھتا۔
فرق بس اتنا تھا کہ اب جب وہ کہتا:
“حضرت محمد ﷺ پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے…”
تو سننے والوں کے دل میں بھی یقین کی ایک چنگاری روشن ہو جاتی۔
کہانی کا حاصل یہ ہے کہ سچا یقین آزمائش سے گھبراتا نہیں۔ کبھی کبھی اللہ اپنے بندے کی سچائی کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیتا ہے، تاکہ حق واضح ہو جائے۔
درود کی تاثیر الفاظ میں نہیں، دل کے اخلاص میں ہوتی ہے۔
اور جب دل سچا ہو تو سازشیں خود بخود بے نقاب ہو جاتی 

Leave a Reply

NZ's Corner