قدیم ہند کی گھنی وادیوں میں، جہاں جانور انسانوں کی طرح بولتے سمجھے جاتے تھے، ایک بستی تھی جس کے کنارے دوستی کا تالاب تھا۔ اس تالاب کے پاس ایک کوّا اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی پرانی تھی، مگر مزاج الگ کوّا تیز، کچھوا ٹھہرا ہوا۔
ایک سال سخت قحط پڑا۔ تالاب سوکھنے لگا۔ کوّا اڑ کر دور سے دانہ لا سکتا تھا، مگر کچھوا نہیں۔ کوّے نے چال سوچی: اس نے ایک مضبوط لکڑی منگوائی، دونوں سروں کو چونچوں میں تھامنے کے لیے دو پرندے بلائے، اور کچھوے سے کہا کہ بیچ میں لکڑی دانتوں سے پکڑ لے بس خاموش رہنا۔
سفر شروع ہوا۔ نیچے لوگ حیران ہو کر بولے، ہنسے، آوازیں لگائیں۔ کچھوا خود کو روک نہ سکا۔ جیسے ہی بولا، لکڑی چھوٹی کچھوا گرا۔ مگر قسمت نے پلٹا کھایا: وہ ایک نرم جھاڑی پر گرا، جان بچ گئی۔
کچھوا لوٹا۔ کوّا خاموش تھا۔ کچھ دیر بعد بولا: “آواز ہمیشہ دشمن نہیں، مگر وقت پر خاموشی زندگی ہے۔”
سبق
دانائی میں رفتار نہیں، ضبط ہے۔ جو صحیح وقت پر خاموش رہتا ہے، وہ خطرے سے بچ نکلتا ہے۔
حوالہ جات
قدیم ہندی لوک ادب و حیوانی تمثیلات (Public Domain)
پنچ تنترہ کی روایت: ضبطِ زبان
اخلاقی حکایت: خاموشی کی حکمت
