بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

مولانا رومیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہرات کا ایک نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام، مسافر، تاجر—سبھی اس سے خوش تھے۔ وہ بادشاہ وقت کا وفادار ساتھی بھی تھا اور بادشاہ کو اس پر مکمل اعتماد تھا۔

اس نواب کے پاس بہت سے غلام تھے جنہیں وہ بیٹوں کی طرح رکھتا، آرام و آسائش، زیب و زینت اور بہترین لباس ان کا نصیب تھا۔ اقلس و کمخواب کی قبائیں اور گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان کو دوبالا کرتی تھیں۔ ایک بار یہ غلام بڑی شان سے بازار میں گشت کر رہے تھے۔

وہیں ایک مفلس، بھوکا اور ننگا شخص کھڑا انہیں دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا:
“یہ رئیس زادے کون ہیں؟”

کسی نے جواب دیا:
“یہ ہمارے علاقے کے نواب کے نوکر چاکر ہیں۔”

یہ سن کر وہ حیران رہ گیا، آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا:
“اے اللہ! اپنے اس بے نوا بندے کو دیکھ—میں سردی سے ٹھٹھرا رہا ہوں، بھوک سے نڈھال ہوں، اور ادھر اس نواب کے غلام کتنے موٹے تازے، خوش پوش اور بے فکر گھوم رہے ہیں!”

بے بسی اور نادانی میں اس نے یہاں تک کہہ دیا:
(نعوذ باللہ)
“یا اللہ! بندہ پروری ہمارے اس نواب سے سیکھ!”

تقدیر الٰہی سے ایسا ہوا کہ اس نواب کا عروج زوال میں بدل گیا۔ بادشاہ نے کسی وجہ سے اسے قید کر لیا، اس کا مال ضبط کر لیا، اور اس کے وفادار ساتھیوں کو شکنجوں میں جکڑ کر خزانے کے بارے میں پوچھنے لگا۔

شدید تکلیف اور اذیت کے باوجود کسی غلام نے اپنے مالک کا راز نہ کھولا۔ بادشاہ نے دھمکی دی:
“تمہارے ہاتھ اور زبان کٹوا دوں گا!”

لیکن غلام خاموش رہے۔ بادشاہ کا غضب بڑھتا گیا، کئی دن تک سختیاں جاری رہیں، مگر کسی غلام کی زبان سے اپنے مالک کے خلاف ایک لفظ بھی نہ نکلا۔

یہ منظر دیکھ کر وہ مفلس شخص بے ہوش ہو گیا۔ حالتِ بے ہوشی میں اس نے ایک آواز سنی:
“اے خالق سے بدزبانی کرنے والے! اللہ کو بندہ پروری کا سبق دینے والے! ان غلاموں کی وفاداری دیکھ… بندہ بننے کا سبق ان سے سیکھ!”

مولانا رومیؒ اس حکایت سے سمجھاتے ہیں کہ زندگی میں عروج و زوال، تنگی و خوشحالی، خوشی و غم—سب آتے جاتے رہتے ہیں، کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“اِنَّ مَعَ العُسرِ یُسرًا”
بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

اے بندۂ خدا! اپنے مالک سے راضی رہ، اس پر بھروسا رکھ، اور وقتی حالات سے گھبرا کر کبھی اپنے رب کے بارے میں بدگمانی نہ کر۔ تو اس کی مصلحتوں کو نہیں جان سکتا اور نہ ہی اس کی بندگی کا پورا حق ادا کر سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے حالات سے محفوظ رکھے جن کی تنگی ہمیں اپنے رب سے بدظن کر دے۔
یا اللہ! ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو تیری رضا پر راضی رہتے ہیں۔ 🤲

🌸🌼🌹



اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

Leave a Reply

NZ's Corner