بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے اور اتفاق سے تینوں کا نام “طیب” تھا۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر وصیت کی: “میری جائیداد میں سے ایک طیب کو حصہ نہیں ملے گا۔” یہ کہہ کر وہ فوت ہو گیا۔
باپ کے انتقال کے بعد تینوں طیب پریشان ہو گئے کہ آخر وہ کون سا طیب ہے جسے وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس الجھن کو سلجھانے کے لیے انہوں نے دور دراز کے ایک بادشاہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا جو اپنے دانشمندانہ فیصلوں کے لیے مشہور تھا۔
اگلے دن جب وہ سفر پر تھے تو راستے میں انہیں ایک شخص ملا جس کا اونٹ گم ہو چکا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا آپ لوگوں نے میرا اونٹ دیکھا ہے؟”
پہلا طیب بولا: “کیا تمہارا اونٹ لنگڑا تھا؟” مالک نے کہا: “جی ہاں!” طیب نے جواب دیا: “ہم نے نہیں دیکھا۔”
دوسرا طیب بولا: “کیا اس کی دم کٹی ہوئی تھی؟” مالک نے کہا: “بالکل وہی!” طیب نے جواب دیا: “ہم نے اسے نہیں دیکھا۔”
تیسرا طیب بولا: “کیا وہ ایک آنکھ سے کانا تھا؟” مالک نے خوش ہو کر کہا: “جی ہاں، وہی میرا اونٹ ہے۔” طیب نے کہا: “ہم نے اسے نہیں دیکھا۔”
اونٹ کا مالک غصے میں آ گیا اور بولا: “تم لوگ نشانیاں بالکل درست بتا رہے ہو اور پھر کہتے ہو کہ دیکھا بھی نہیں! یقیناً تم نے میرا اونٹ ہڑپ کر لیا ہے۔ اب میں تمہیں بادشاہ کے پاس لے کر جاؤں گا۔” وہ شخص اتفاق سے انہیں اسی بادشاہ کے پاس لے گیا جہاں وہ خود اپنا فیصلہ کروانے جا رہے تھے۔
بادشاہ نے سارا واقعہ سنا اور ان تینوں سے پوچھا: “اگر تم نے اونٹ نہیں دیکھا تو نشانیاں اتنی درست کیسے بتائیں؟”
پہلا طیب بولا: “سرکار! زمین پر اونٹ کے تین پیروں کے نشان گہرے تھے جبکہ چوتھا نشان مٹا ہوا تھا، جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ لنگڑا ہے۔”
دوسرا طیب بولا: “جناب! اونٹ کا گوبر ایک ہی جگہ ڈھیر کی صورت میں پڑا تھا، اگر اس کی دم ہوتی تو وہ چلتے ہوئے گوبر کو ادھر ادھر بکھیر دیتی۔”
تیسرا طیب بولا: “میں نے دیکھا کہ راستے میں درخت کے پتے صرف ایک طرف سے کھائے گئے تھے، جس سے پتا چلا کہ اسے ایک طرف سے نظر نہیں آتا۔”
بادشاہ نے اونٹ کے مالک سے کہا: “تم جاؤ، تمہارا اونٹ ان کے پاس نہیں، انہوں نے صرف اپنی ذہانت سے کام لیا ہے۔” پھر بادشاہ نے ان بھائیوں کا مسئلہ سنا اور کہا: “رات کافی ہو چکی ہے، تم لوگ مہمان خانے میں آرام کرو، کھانا کھاؤ، تمہارا فیصلہ کل صبح سنایا جائے گا۔”
بادشاہ نے اپنے ملازموں کو بہترین کھانا کھلانے کی ہدایت کی، مگر خود چھپ کر ان کی باتیں سننے لگا۔
کھانا کھاتے وقت پہلا طیب بولا: “یہ روٹیاں کسی ایسی خاتون نے بنائی ہیں جو نو ماہ کی حاملہ ہے۔” بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا۔
دوسرا طیب بولا: “یہ گوشت کتے کا ہے۔” بادشاہ کو بہت غصہ آیا لیکن وہ خاموش رہا۔
تیسرا طیب بولا: “یہ بادشاہ خود ‘بد اصل’ (حرام کی اولاد) ہے۔”
بادشاہ غصے سے تلملا اٹھا، مگر صبر کیا کہ صبح ان سے تحقیق کرے گا۔ صبح ہوئی تو بادشاہ نے انہیں طلب کیا اور رات والی باتوں کا ذکر کیا۔
بادشاہ نے اپنے باورچی سے پوچھا: “کیا روٹیاں کسی حاملہ خاتون نے بنائی تھیں؟” باورچی نے ڈرتے ہوئے اعتراف کیا: “جی حضور! تمام خادمائیں چھٹی پر تھیں، اس لیے ایک حاملہ ملازمہ سے روٹیاں بنوائی گئیں۔”
پھر بادشاہ نے گوشت کے بارے میں پوچھا تو پتا چلا کہ رات کے وقت قصاب کی دکانیں بند تھیں اور ملازم نے غلطی سے ایک شکاری کتے کا گوشت پکا دیا تھا۔
آخر میں بادشاہ نے بوجھل دل سے اپنی والدہ سے تنہائی میں پوچھا، جس پر انکشاف ہوا کہ بادشاہ واقعی ایک بد اصل (غیر قانونی) اولاد ہے۔

بادشاہ نے دوسرے دن دربار میں آتے ہی تیسرے طیب کو ناجائز قرار دے دیا، وہی طیب جس نے بادشاہ کو بد اصل کہا تھا۔

طیب نے بادشاہ سے پوچھا، “آپ نے مجھے ناجائز کیوں کہا، کوئی ٹھوس دلیل دیں۔”

بادشاہ نے جواب دیا: “کیونکہ ایک حلال زادہ انسان کبھی کسی کے بارے میں ایسی سخت بات نہیں کہہ سکتا، یہ ایک بد اصل ہی کی پہچان ہے کہ وہ دوسرے کو بھی ویسا ہی سمجھے۔”

پھر بادشاہ نے فوراً فیصلہ سنایا: “جس طیب نے مجھے بد اصل کہا ہے، وہی جائیداد کے حصے سے محروم رہے گا کیونکہ اس کی فطرت اور کلام اس کے اصل ہونے کی گواہی نہیں دے رہا۔”

جب وہ طیب گھر گیا اور اپنی ماں سے پوچھا، تو پتا چلا کہ وہ واقعی اپنے باپ کی اولاد نہیں تھا۔

مقصد یہ کہ بد نسل انسان اپنی عادتوں اور فطرت سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ بد اصل انسان کی سب سے بڑی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ احسان کرنے والے کا ہی سب سے پہلے دشمن بن جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner