پیرس کے ایک چھوٹے سے محلے میں ایک مصور رہتا تھا جس کا نام مونیئے تھا۔ مونیئے خود کو دنیا کا عظیم ترین فنکار سمجھتا تھا، حالانکہ اس کی پینٹنگز مشکل سے ہی کوئی خریدتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مشکل اس کا پڑوسی مسٹر پونشارڈ تھا، جو ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر تھا اور ہر چیز میں نقص نکالنے کا ماہر تھا۔
ایک دن مونیئے نے تنگ آکر اعلان کیا: “میں ایک ایسا شاہکار بناؤں گا جسے دیکھ کر پونشارڈ کی زبان گنگ ہو جائے گی!”
تین مہینے تک مونیئے نے خود کو کمرے میں بند رکھا۔ محلے میں چرچا ہو گیا کہ کوئی بہت ہی عظیم فن پارہ تیار ہو رہا ہے۔ آخر کار، نمائش کا دن آ گیا۔ مونیئے نے ایک بڑی کینوس کو مخملی پردے سے ڈھانپ رکھا تھا۔
پونشارڈ اپنی عینک درست کرتے ہوئے سامنے آیا۔ مونیئے نے بڑے فخر سے پردہ ہٹایا۔
سامنے کینوس بالکل خالی تھا! اس پر صرف ایک سفید رنگ کی تہہ جمی ہوئی تھی۔
مجمع خاموش ہو گیا۔ پونشارڈ نے حیرت سے پوچھا: “یہ کیا ہے؟ مونیئے، کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ یہ تو بالکل کورا کاغذ ہے!”
مونیئے نے مسکرا کر ایک گہرا سانس لیا اور بولا:
“جناب! یہ آرٹ کا وہ نمونہ ہے جسے ہر کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اس تصویر کا عنوان ہے: ‘ایک سفید گھوڑا، سفید برف کے طوفان میں، سفید دودھ پی رہا ہے’۔”
پونشارڈ نے غصے سے کہا: “لیکن یہاں تو کچھ نظر نہیں آ رہا!”
مونیئے نے بڑے سکون سے جواب دیا:
“ظاہر ہے! جب طوفان اتنا شدید ہو، گھوڑا بھی سفید ہو اور وہ پی بھی سفید دودھ رہا ہو، تو آپ کو کیا خاک نظر آئے گا؟ یہ تو فن کی معراج ہے کہ میں نے غیر مرئی (invisible) چیز کو مرئی بنا دیا!”
پورے مجمعے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ چونکہ کوئی بھی خود کو “جاہل” یا “آرٹ سے نابلد” ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے سب نے سر ہلانا شروع کر دیا:
ایک خاتون بولیں: “واہ! گھوڑے کے کان کتنے واضح ہیں!”
ایک تاجر نے کہا: “برف کی ٹھنڈک محسوس ہو رہی ہے۔”
پونشارڈ، جو اپنی ذہانت کے زعم میں تھا، یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ کہیں وہ اکیلا ہی “بے وقوف” نہ رہ جائے۔ اس نے جلدی سے اپنی جیب سے بٹوا نکالا اور کہا:
“مونیئے! کمال کر دیا تم نے۔ یہ لو 500 فرانک، یہ شاہکار اب میرا ہوا!”
مسٹر پونشارڈ نے بڑی شان سے وہ خالی کینوس اپنے گھر کے سب سے نمایاں کمرے میں لٹکا دیا۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بلاتا اور بڑے فخر سے کہتا: “دیکھو! یہ ہے وہ شاہکار! ‘ایک سفید گھوڑا، سفید برف کے طوفان میں، سفید دودھ پی رہا ہے’!”
اس کے دوست، جو نمائش میں موجود تھے، سب سر ہلاتے اور آرٹ کی گہرائی کی تعریف کرتے۔
لیکن ایک دن، مسٹر پونشارڈ کی چھ سالہ پوتی، ماری، گھر آئی۔ وہ اس پینٹنگ کو گھورتی رہی، پھر معصومیت سے بولی:
“دادا جان! یہ تو بس ایک سفید کاغذ ہے! یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے!”
پونشارڈ کا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے غصے سے کہا: “ماری! تم ابھی چھوٹی ہو۔ تمہیں فن کی سمجھ نہیں ہے۔ یہ ایک بہت ہی گہری تصویر ہے!”
ماری نے پھر کہا: “لیکن دادا جان، یہاں گھوڑا کہاں ہے؟”
پونشارڈ نے گھبرا کر جواب دیا: “وہ… وہ طوفان میں چھپا ہوا ہے!”
“اور برف کہاں ہے؟” ماری نے پوچھا۔
“برف… برف بھی سفید ہے، اس لیے نظر نہیں آ رہی!” پونشارڈ نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
“اور دودھ کہاں ہے؟” ماری نے آخری سوال داغا۔
پونشارڈ نے پسینہ پونچھا: “دودھ… دودھ بھی اتنا سفید ہے کہ وہ بھی نظر نہیں آ رہا!”
ماری نے اپنے چھوٹے سے دماغ پر زور دیا، پھر بولی: “دادا جان! کیا مونیئے انکل نے آپ کو یہ خالی کاغذ مہنگے داموں بیچ دیا؟”
پونشارڈ کو ایک لمحے کے لیے سچائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس نے اپنے ہی پیسے سے اپنی بے وقوفی خریدی ہے!
لیکن پونشارڈ بھی پرانا سرکاری افسر تھا، اپنی عزت کا بڑا خیال تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور ماری کو گود میں اٹھا کر پیار سے بولا:
“میری پیاری ماری! تم ٹھیک کہہ رہی ہو، یہ واقعی خالی ہے۔ لیکن یہ ایک خاص قسم کا آرٹ ہے۔ اس کا نام ہے ‘خاموشی کا آرٹ’! اس میں تم کچھ بھی تصور کر سکتی ہو۔ یہ تمہاری اپنی سوچ پر منحصر ہے کہ تم اس میں کیا دیکھنا چاہتی ہو۔”
اور پھر پونشارڈ نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے اس خالی کینوس کو مزید قیمت دے دی!
پونشارڈ نے اپنے دوستوں کو دوبارہ بلایا اور کہا: “آج میں آپ کو اس عظیم پینٹنگ کی ایک اور خوبی سے متعارف کراؤں گا۔ یہ صرف ایک تصویر نہیں، یہ ایک ‘خیالی کینوس’ ہے۔ اب ہر مہینے ہم اس پر ایک نیا ‘غیر مرئی’ شاہکار دیکھیں گے! اگلے مہینے اس پر ‘ایک کالی رات میں کالی بلی، کوئلے کی ڈھیر پر سوئی ہوئی’ ہو گی! اس کے بعد ‘خالی دل میں خالی پن’ ہو گا!”
لوگوں نے پونشارڈ کی اس “تخلیقی” سوچ کی داد دی اور اسے ایک “جدید فنکار” ماننا شروع کر دیا۔ مسٹر پونشارڈ نے اپنی بے وقوفی کو نہ صرف چھپا لیا بلکہ اسے اپنی ذہانت کا ثبوت بنا کر مزید مقبولیت حاصل کر لی۔ اور یوں، مونیئے کا ایک “خالی کینوس” مسٹر پونشارڈ کے گھر میں کئی سال تک “غیر مرئی شاہکاروں” کی نمائش کرتا رہا۔
فرانسیسی ادب سے ماخوذ
