بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

⚔️🔥یہ سن 1462ء تھا، قسطنطنیہ کی فتح کو ابھی ایک دہائی بھی مکمل نہ ہوئی تھی مگر اس ایک کامیابی نے یورپ کی سیاسی، عسکری اور نفسیاتی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ہر دربار میں ایک ہی نام گونج رہا تھا — سلطان محمد فاتحؒ، وہ نوجوان فرمانروا جس نے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کو فتح کر کے تاریخ کا دھارا موڑ دیا تھا، مگر اسی وقت شمال میں ایک ایسی سرکش ریاست موجود تھی جو نہ صرف عثمانی اقتدار کو چیلنج کر رہی تھی بلکہ دانستہ طور پر ایک نفسیاتی اور اخلاقی جنگ بھی مسلط کر چکی تھی، یہ ریاست ولاکیا تھی، موجودہ رومانیہ کا ایک خطہ، اور اس کا حکمران ولاد سوم تھا جسے تاریخ ولاد ڈریکولا یا ولاد دی امپیلر کے نام سے جانتی ہے، ایک ایسا شخص جو عثمانیوں کا سابق اتحادی رہ چکا تھا، جو نوجوانی میں سلطان مراد ثانی کے دربار میں یرغمال کے طور پر رہا تھا، جو عثمانی نظم و ضبط، فوجی ڈھانچے اور ریاستی طاقت کو قریب سے دیکھ چکا تھا، مگر اسی تجربے نے اس کے اندر ایک ایسا خوف، نفرت اور سفاکی پیدا کی جو بعد میں اس کی شخصیت کا مستقل حصہ بن گئی، ولاکیا ایک بفر اسٹیٹ تھی، عثمانیوں اور ہنگری کے درمیان حائل، جہاں کا حکمران خراج ادا کر کے عثمانی خودمختاری تسلیم کرتا تھا، مگر ولاد نے اقتدار میں آتے ہی اس نظام کو توڑ دیا، اس نے خراج دینا بند کیا، عثمانی سرحدی علاقوں پر حملے شروع کیے، ہزاروں مسلمان اور ترک باشندوں کو قتل کیا، اور سفارتی آداب کی کھلم کھلا توہین کرتے ہوئے عثمانی سفیروں کے عمامے ان کے سروں میں کیلوں سے ٹھونک دیے، یہ محض ایک سفارتی گستاخی نہیں بلکہ اعلانِ بغاوت تھا، سلطان محمد فاتحؒ کے لیے یہ صرف ایک سرکش جاگیردار کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ سلطنت کے وقار، نظم اور خوف کی بنیادوں پر حملہ تھا، چنانچہ سلطان نے فیصلہ کیا کہ ولاکیا کو سبق سکھانا ناگزیر ہو چکا ہے، 80 ہزار کے لگ بھگ ایک عظیم عثمانی لشکر کے ساتھ وہ شمال کی طرف بڑھے، مگر یہ کوئی عام مہم نہیں تھی، نہ یہ کھلے میدان کی جنگ تھی اور نہ ہی کسی مضبوط قلعے کا محاصرہ، بلکہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جہاں دشمن نظر نہیں آتا تھا، جہاں فطرت، خوف، بیماری اور بھوک خود ہتھیار بن چکے تھے، ولاد ڈریکولا جانتا تھا کہ وہ براہِ راست عثمانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے جنگ کے روایتی اصولوں کو توڑتے ہوئے Scorched Earth کی پالیسی اپنائی، اس نے راستے کی تمام فصلیں جلا دیں، کنوؤں میں لاشیں ڈال دیں، پانی کو زہر آلود کیا، مویشی ذبح کر دیے، دیہات خالی کرا دیے تاکہ عثمانی فوج کو خوراک، پانی اور آرام میسر نہ آ سکے، نتیجتاً سلطان کی فوج کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گرمی، بھوک اور بیماریاں پھیلنے لگیں، مگر اصل دہشت ابھی باقی تھی، 17 جون 1462ء کی رات، جب عثمانی لشکر خیمہ زن تھا، ولاد نے تاریخ کا ایک مشہور ترین چھاپہ مار حملہ کیا، اندھیرے میں اچانک ہزاروں ولاکی سپاہی عثمانی کیمپ میں گھس آئے، آگ، چیخ و پکار، تلواروں کی جھنکار اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ نے قیامت کا منظر پیدا کر دیا، ولاد کا اصل ہدف سلطان محمد فاتحؒ کا خیمہ تھا، وہ سلطان کو قتل کر کے پوری مہم کو ایک ہی وار میں ختم کرنا چاہتا تھا، مگر عثمانی نظم، سلطان کی ذاتی بہادری اور محافظوں کی مستعدی نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا، ولاد چند لمحوں کے فاصلے پر آ کر بھی سلطان تک نہ پہنچ سکا اور پسپا ہو گیا، یہ واقعہ تاریخ میں Night Attack at Târgoviște کے نام سے محفوظ ہے، مگر اس کے بعد جو منظر عثمانی لشکر نے دیکھا وہ شاید جنگی تاریخ کے ہولناک ترین مناظر میں سے ایک تھا، جب سلطان دارالحکومت کے قریب پہنچے تو ان کے سامنے سولیوں کا ایک جنگل تھا، تقریباً 20 ہزار انسانوں کی لاشیں، مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، سب کو لمبی لکڑیوں پر زندہ یا مردہ سولی پر چڑھایا گیا تھا، لاشیں سڑ رہی تھیں، پرندے نوچ رہے تھے، فضا میں تعفن اور خوف پھیلا ہوا تھا، یہ محض قتل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نفسیاتی پیغام تھا — “آگے بڑھو گے تو یہی انجام ہو گا”، روایت ہے کہ اس منظر کو دیکھ کر خود سلطان محمد فاتحؒ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے اور کہا کہ اگر ایسا شخص ہماری سلطنت میں ہوتا تو دنیا فتح کر لیتا، یہ اعتراف ولاد کی ذہانت اور سفاکی دونوں کا تھا، مگر سلطان جانتے تھے کہ یہ جنگ تلوار سے کم اور اعصاب سے زیادہ لڑی جا رہی ہے، ولاد مسلسل چھاپہ مار حملے کرتا رہا، جنگلوں، پہاڑوں اور دریاؤں کو اپنی ڈھال بناتا رہا، وہ سامنے آ کر لڑنے سے انکار کرتا تھا، اس کا مقصد جیتنا نہیں بلکہ عثمانیوں کو تھکا دینا، مایوس کرنا اور واپس جانے پر مجبور کرنا تھا، اور کسی حد تک وہ کامیاب بھی ہو رہا تھا، عثمانی لشکر بیماریوں میں مبتلا ہو چکا تھا، سپلائی لائن شدید متاثر تھی، دشمن ایک سایے کی طرح حملہ کر کے غائب ہو جاتا تھا، ایسے میں سلطان محمد فاتحؒ نے ایک جذباتی نہیں بلکہ حکیمانہ فیصلہ کیا، انہوں نے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کا حکم دیا، مگر یہ پسپائی شکست نہیں تھی بلکہ ایک اسٹریٹجک چال تھی، سلطان نے ولاکیا کے تخت پر ولاد کے بھائی رادو کو بٹھایا جو عثمانیوں کا وفادار تھا، مقامی امرا اور عوام پہلے ہی ولاد کے ظلم، ٹیکسوں اور سفاک سزاؤں سے تنگ آ چکے تھے، بوئیرز نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا، ولاد تنہا ہو گیا، وہ ہنگری بھاگ گیا جہاں اسے قید کر دیا گیا، کئی برس وہ سیاسی سودے بازی کی نذر رہا، آخرکار وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوشش میں مارا گیا، اس کا سر کاٹ کر قسطنطنیہ بھیج دیا گیا تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ عثمانی اقتدار سے بغاوت کا انجام کیا ہوتا ہے، یوں ولاکیا کی یہ خوفناک مہم ختم ہوئی، سلطان محمد فاتحؒ نے ایک ایسی جنگ لڑی جس میں فتح میدان میں نہیں بلکہ صبر، حکمت اور سیاسی بصیرت میں تھی، جبکہ ولاد ڈریکولا تاریخ میں ایک عبرت ناک، سفاک اور خوف کی علامت بن کر رہ گیا، ایک ایسا نام جو آج بھی داستانوں، افسانوں اور وحشت کی علامت کے طور پر زندہ ہے، مگر سلطنتیں خون اور خوف سے نہیں بلکہ نظم، حکمت اور عدل سے قائم رہتی ہیں، اور یہی سبق اس پوری داستان کا اصل جوہر ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner